دھمکیاں اور دے گا، بڑھکیں اس سے بھی زیادہ مارے گا، سفارتی دبائو بھی بھرپور طریقے سے بڑھائے گا لیکن پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑنا، ہندوستان کے لئے آسان نہیں۔ نریندر مودی، جنونی ضرور ہیں لیکن پاگل نہیں بلکہ حساب کتاب کے ماہر بھی ہیں۔ اتنا تو وہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستان اب اکہتر اور پینسٹھ والا نہیں بلکہ ایٹمی پاکستان ہے، جس کی ایٹمی اور میزائل ٹیکنالوجی ان کے ملک کے مقابلے میں کئی حوالوں سے برتر ہے (تفصیلات کے لئے دیکھئے جیو نیوز کے ’’جرگہ‘‘ میں 24 ستمبر کو نشر ہونے والی ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی گفتگو)۔

اس جنگ کی تباہ کاریوں سے بھی وہ غافل نہیں ہو سکتے اور جانتے ہوں گے کہ خاکم بدہن ایٹمی جنگ کی نوبت آئی تو ہندوستان رہے گا اور نہ پاکستان ۔بلکہ بنگلہ دیش، بھارت اور سری لنکا وغیرہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے ( تفصیلات کے لئے دیکھئے 24 ستمبر کو جیو نیوز پر نشر ہونے والے جرگہ میں ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی گفتگو)۔

اس حقیقت سے بھی یقینا مودی صاحب واقف ہوں گے کہ روایتی جنگ کی صورت میں اہم کردار فضائیہ کا ہوگا اور پاکستان اب چین کے ساتھ مل کر جے ایف تھنڈر 17بنارہا ہے ۔ سب سے بڑی تبدیلی جو بھارت کو جنگ سے روکے گی ، وہ کشمیر کے حالات ہیں۔ 1948، 1971ءاور کارگل کی جنگوں کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے لوگ اسی طرح اٹھے نہیں تھے جس طرح کہ آج اٹھے ہیں۔ کارگل کے موقع پر بھی جنرل پرویز مشرف کو توقع تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں لوگ اٹھیں گے لیکن تب اندر سے کشمیر ٹھنڈا رہا جبکہ اب کی بار کشمیری پہلے سے ایسے اٹھے ہیں کہ ساری دنیا حیران ہے۔ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں سے ملاقات ہوئی ۔ ان سے پوچھا کہ کتنے فیصد کشمیری اس وقت چاہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی جنگ ہو تو انہوں نے یہ حیرت انگیز جواب دیا کہ اسی سے نوے فی صد تک کشمیری جنگ کے نہ صرف آرزومند ہیں بلکہ یہ شکوہ بھی دل میں رکھتے ہیں کہ پاکستان ان کی خاطر جنگ کیوں نہیں کررہا ۔

یقینا ًمودی کو یہ اندازہ ہوگا کہ جنگ کی صورت میں نہ صرف اس کی یہی سات لاکھ فوج مقبوضہ کشمیر میں مصروف رہے گی بلکہ مقبوضہ کشمیر کا ہر ہر فرد پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑے گا۔ اسی طرح سی پیک کے تناظر میں اب چین کے لئے پاکستان صرف ایک قریبی دوست نہیں بلکہ خود اس کے معاشی اور تزویراتی مستقبل کے لئے چابی اور روٹ کی حیثیت اختیار کرگیا ہے اور یوں وہ پاکستان کے ساتھ ہندوستان جیسے ملک کی جنگ کے معاملے سے ماضی کی طرح لاتعلق نہیں رہ سکے گا ۔ یقینا اجیت دوول جیسے مشیروں نے نریندر مودی کو یہ منطق بھی سمجھائی ہوگی۔ یوں مجھے تو پاک بھارت روایتی جنگ کا خطرہ نظر نہیں آتا لیکن ایک اور قسم کی جنگ ہندوستان نے بہت پہلے سے پاکستان کے خلاف شروع کررکھی ہے اور وہ اسے تیز سے تیز تر کرے گا۔ یہ وہ جنگ ہے جس کا نقشہ اجیت دوول نے اپنے ایک خطاب میں (جس کی ویڈیو لیک ہوئی تھی اور جو یو ٹیوب پر دستیاب ہے) پیش کیا تھا، جس کا بیس کیمپ افغانستان کو بنانے کی کوشش ہورہی ہے اور اسی کی خاطر ہندوستان نے افغانستان پر مہربانیوں کا آغاز کردیا ہے ، جس کو لڑنے کے لئے کلبھوشن یادیو، ایران اور پھر بلوچستان آیا تھا اور جس کے لئے الطاف حسین اور براہمداغ بگٹی جیسے مہروں کو تیار کیا گیا ہے ۔اس جنگ کی بنیاد مشرقی سرحد پر مقبوضہ کشمیر کا تنازع ہے لیکن بھارت یہ جنگ بلوچستان، فاٹا ، پختونخوا، سندھ ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں لڑنا چاہتا ہے اور کافی عرصے سے لڑ رہا ہے ۔ اسی تناظر میں آج کل نریندر مودی اپنی تقریروں میں کبھی بلوچوں کا ذکر کرتے ہیں تو کبھی پختونوں کا تو کبھی سندھ کا۔ اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر الطاف حسین کا خبث باطن باہر آ گیا اور پاکستان مخالف نعرے لگانے لگا اور اسی کے تحت براہمداغ بگٹی ہندوستان کی شہریت لینے لگا ہے۔ یہی سوچ ہے کہ جس کے تحت آل انڈیا ریڈیو نے بلوچی زبان میں نشریات کا آغاز کردیا اور اسی منصوبے کے تحت مغربی میڈیا پختونوں ، بلوچوں ، سندھیوں ، گلگت بلتستان ، جنوبی پنجاب اور دیگر پسماندہ علاقوں کے عوام کی محرومیوں کو بڑھاوا دینے میں مگن ہے۔

مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف پاکستان مخالف طاقتوں کی شہہ سے برپا کی گئی ہندوستان کی اس جنگ میں کامیابی کا راستہ یہ ہے کہ بلوچستان، گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر، فاٹا ، کراچی اور پختونخوا جیسے علاقوں کی محرومیوں کو ختم کیا جائے لیکن بدقسمتی سے میاں نوازشریف کی حکومت میں گنگا الٹی بہہ رہی ہے ۔ ٹریفک کا سب سے بڑا مسئلہ ، پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو درپیش ہے لیکن میٹرو کے بعد اب اورنج ٹرین منصوبہ چین کے تعاون سے لاہور میں بن رہا ہے۔ عدالتیں روزانہ وارنٹ عمران خان، طاہرالقادری اور پرویز مشرف کے جاری کررہی ہیں لیکن وہ دندناتے پھر رہے ہیں جبکہ کراچی کے منتخب مئیر کو منتخب ہونے کے بعد ایک مقدمے میں اندر کرلیا گیا۔ گوادر کی بنیاد پر گلگت بلتستان سے شروع ہونے والے سی پیک کے تحت وسطی پنجاب آباد ہورہا ہے لیکن مذکورہ دونوں علاقوں کے لوگوں کی محرومیاں مزید بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان کی طرف سے سی پیک کے منصوبوں کے تعین اور عمل درآمد کے لئے جو فیصلہ ساز فورم (جے سی سی) بنایا گیا ہے اس میں وزارت پلاننگ، وزارت خزانہ، وزارت ریلوے، وزارت خارجہ اور وزارت مواصلات کے قلمدان وسطی پنجاب کے پاس ہیں ۔ صرف ایک پورٹ اینڈ شپنگ اب بلوچستان کے حاصل بزنجو صاحب کے پاس آگیا ہے ۔ باقی کسی علاقے کی وہاں نمائندگی نہیں ۔ اس لئے روٹ بھی وسطی پنجاب سے گزارا جارہا ہے اور تمام منصوبوں کا رخ بھی اس کی طرف ہے ۔ چین جیسے وحدانی نظام کے حامل ملک نے اپنے جی سی سی میں سنکیانگ کی خودمختار ریاست کی حکومت کو اپنا ممبر بنا دیا ہے لیکن پاکستان جو فیڈریشن ہے ،نے سندھ، پختونخوا،فاٹا یا آزاد کشمیر تو کیا بلوچستان اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کو بھی نمائندگی نہیں دی ہے ۔

چھوٹے صوبوں اور اپوزیشن جماعتوں کی سی پیک کے بارے میں بداعتمادی کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ ہفتہ پشاور میں ایک سیمینار سے خطاب کے دوران پی ٹی آئی کے سینیٹر نعمان وزیر نے یہاں تک کہہ دیا کہ سی پیک کا سارا فائدہ چین کو ہے جبکہ اسی جماعت سے تعلق رکھنے والی خیبرپختوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر مہرتاج روغانی نے تو حد ہی عبور کر ڈالی کہ ہم امریکہ کی غلامی سے نکل کر چین کی غلامی میں جارہے ہیں۔ فاٹا کے لوگ چیخ رہے ہیں کہ انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتیں مطالبہ کررہی ہیں کہ اسے خیبر پختونخوا میں ضم کردیا جائے لیکن اس میں وزیراعظم کی عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ اپنے وزراء پر مشتمل کمیٹی کے نوٹیفکیشن میں ایک سال کا عرصہ لگایا اور اب جب ایک سال کی تاخیر کے بعد اس کمیٹی نے رپورٹ تیار کرلی ہے تو فوری عمل درآمد کی بجائے اسے روایتی ٹال مٹول کی نذر کیا جا رہا ہے ۔

پہلے حد سے زیادہ شریف مگر ضعیف شخص کو صدر بنادیا گیا جو قبائلی علاقوں کے چیف ایگزیکٹو ہو کر بھی وہاں نہیں جا سکتے اور پھر ایک ا ور ضعیف کو گورنر بنایا گیا جن کیلئے گورنر شپ ان کے بیٹے اور دوست چلارہے ہیں اور وہ گورنر ہائوس کے مزے انجوائے کرکے اپنے بڑھاپے کی تکلیفوں اور محرومیوں کو کم کررہے ہیں ۔ ایک طرف آئی ڈی پیز کی بحالی کے لئے مطلوبہ رقم فراہم نہ کرکے قبائلیوں کی محرومیوں میں اضافہ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف افغان مہاجرین کو بغیر کسی منصوبے کے بے ہنگم طریقے سے نکالنے کے ذریعے رہے سہے افغانوں کوبھی پاکستان سے متنفر کیا جا رہا ہے۔

میں موجودہ حکمرانوں کو مودی کا یار سمجھتا ہوں اور نہ میرے نزدیک وہ غدار ہیں۔ لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ علاقہ پرستی ، ووٹ پرستی اور تنگ نظری کے جذبے کے تحت وہ نادانستہ نریندر مودی کا کام آسان کررہے ہیں ۔ اپنا تو ایمان ہے کہ نریندر مودی اور دیگر پاکستان دشمنوں کے مقابلے کی اصل صورت یہ ہے کہ گلگت بلتستان ، فاٹا اور آزاد کشمیر کو قومی دھارے میں لایا جائے اور کراچی سے لے کر پختونخوا تک اور جنوبی پنجاب سے لے کر اندرون سندھ تک، ہر محروم علاقے کی محرومیوں کو دور کردیا جائے ۔ یہ اس نئی جنگ میں کامیابی اور پاکستان کی خوشحالی کا واحد راستہ ہے۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے