امریکا میں صدارتی انتخابات 8 نومبر کو منعقد ہوں گے لیکن نیا منتخب صدر 20 جنوری 2017ء سے قبل وائٹ ہاؤس میں قدم نہیں رکھے گا۔اسی روز وہ اپنے عہدے کا حلف لے گا یا لے گی۔اس دوران میں انتظامیہ معمول کے مطابق صدر کا کام نہیں سنبھالے گی اور موجودہ صدر ہی عضو معطل کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔اب بعض لوگوں کا یہ خیال کرتے ہیں کہ اس وقت تک اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور واشنگٹن کی جانب سے کسی قسم کی مڈبھیڑ کے خوف سے بے نیاز ہوکر کام کیا جائے۔

شامی رجیم کو روس اور ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے اور یہ متوقع ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے برسرزمین ایک نئی حقیقت پیدا کردیں گے جس کو امریکا کے آیندہ صدر کے لیے تبدیل کرنا بہت مشکل ہوگا۔ہم نے حال ہیں میں شام میں جو کچھ ملاحظہ کیا ہے،یہ سب اسی خلا کا نتیجہ ہے لیکن اس کو قبل از وقت ہی شروع کر لیا گیا ہے۔

امدادی قافلوں کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے اور حلب میں خوف ناک تباہی جاری ہے۔ روسی ،ایرانی اور شامی رجیم کی فورسز نے یہ سب کچھ بین الاقوامی یا علاقائی ردعمل کے خوف سے بے نیاز ہوکر کیا ہے۔ واشنگٹن کے احتجاج کو ماسکو اور تہران نے بالکل بھی سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آیندہ تین ماہ کے دوران جن ممالک کو شامی عوام سے کوئی ہمدردی ہے ،انھیں ایک خطرناک چیلنج کا سامنا ہوگا۔انھیں شامی رجیم اور ایران کو شام میں بھاری قیمت چکائے بغیر ایک میٹر زمین پر بھی قبضہ نہیں کرنے دینا چاہیے اور وہ ایسا باغیوں کی مدد کے ذریعے کرسکتے ہیں۔شامی صدر بشارالاسد اور ایران امریکا کے آیندہ صدر پر اپنے ایجنڈوں کو مسلط کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔

نئی حقیقت

صدارتی انتخاب میں ہلیری کلنٹن فتح یاب ہوتی ہیں یا ڈونلڈ ٹرمپ منتخب ہوتے ہیں،ہم ابھی تک یہ نہیں جانتے ہیں کہ ان کے دنیا اور بالخصوص شام کے حوالے سے آپشنز کیا ہوں گے۔کیونکہ شام ایک بڑا علاقائی تنازعہ ہے،اس لیے حلب پر موجودہ خوف ناک جارحیت جاری رہتی ہے تو اس کے بعد نیا امریکی صدر بھی ایک طرح سے اس نئی حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور ہوگا۔

حلب شام کا سب سے بڑا شہر ہے اوریہ ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔اگر اس کا سقوط ہوتا ہے تو پھر حلب گورنری کا بھی سقوط ہوجائے گا۔اس کے بعد اسد رجیم کے لیے بچے کچھے شام کو تہس نہس کرنا آسان ہوجائے گا اور کم سے کم مزید دس لاکھ شامی مہاجرین لبنان ،ترکی اور اردن کی راہ لیں گے۔

ہم یہ توقع کرتے ہیں کہ آیندہ امریکی صدر ایرانی اور روسی تجاوزات سے نمٹنے کے لیے موجودہ صدر سے زیادہ حوصلہ مندی کا ثبوت دے گا۔یہ ضروری نہیں ہے کہ یہ سب کچھ امریکا کی براہ راست فوجی مداخلت کے ذریعے ہی کیا جائے بلکہ یہ کام دوسرے ممالک کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی فوجی،لاجسٹیکل اور سفارتی محاذ پر مدد کے ذریعے بھی کیا جاسکتا ہے۔

آیندہ چند ہفتے بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔واشنگٹن میں نئے صدر کے انتخاب اور نئی حکومت کی تشکیل کے لیے گہما گہمی ہوگی۔دنیا میں کیا کچھ رونما ہوتا ہے،اس سے قطع نظر واشنگٹن اس وقت تک کوئی اقدام نہیں کرے گا جب تک کوئی ایسا بہت ہی خوف ناک واقعہ رونما نہیں ہوجاتا جس کے اس کی سکیورٹی اور اعلیٰ مفادات پر براہ راست اثرات مرتب ہوں۔

ایران اور روس جانتے ہیں کہ امریکا کی شام کے حوالے سے کوئی سد جارحیت پالیسی نہیں ہے۔اس لیے امریکیوں کی صدارتی انتخابات میں مشغولیت سے انھیں مزید قتل عام اور شامی عوام کی مزاحمت کو توڑنے کا حوصلہ ملے گی اور ان کی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے لیے حوصلہ افزائی بھی ہوگی۔ وہ شامی عوام کو جبر و طاقت کے ذریعے مطیع بنانے کی کوشش کریں گے اور یوں طاقت کے علاقائی توازن کو تبدیل کرسکیں گے۔

--------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے ایک تجربے کار صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔مشرق وسطیٰ کی صورت حال اور تنازعات پر ان کی گہری نظر ہے اور ان سے متعلق موضوعات پر ہی وہ عام طور پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔وہ العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں۔اس سے قبل وہ لندن سے شائع ہونے والے مؤقر عربی روزنامے ''الشرق الاوسط'' کے مدیر اعلیٰ تھے۔آج کل وہ اسی اخبار میں کالم لکھ رہے ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے