امریکا میں تندوتیز صدارتی مہم جاری ہے اور ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پہلے مباحثے کی صدائے بازگشت میں امریکی قانون سازوں نے ''انصاف برخلاف اسپانسرز آف ٹیررازم ایکٹ'' ( جاسٹا) منظور کرکے ایک پنڈورا باکس کھول دیا ہے۔

امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں، ایوان نمائندگان اور سینیٹ کے اراکین نے اپنی اپنی جماعتی سیاست کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صدر براک اوباما کے جاسٹا پر ویٹو پر خطِ تنسیخ پھیر دیا ہے۔اب اس قانون کے تحت 11 ستمبر 2001ء کو امریکا میں دہشت گردی کے حملوں میں ہلاک شدگان کے خاندان سعودی عرب کی حکومت کے خلاف مملکت کے ان حملوں میں مبینہ کردار پر قانونی چارہ جوئی کرسکیں گے۔اس کے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا (مینا) کے خطے اور خاص طور پر خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے لیے سنگین مضمرات ہوں گے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب اس طویل المیعاد قانونی ڈرامے کے آغاز سے ہی فرنٹ لائن پر ہے۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے بڑی شدومد کے ساتھ یہ کہا تھا کہ ''اگر جاسٹا قانون بن جاتا ہے تو پھر ہر کوئی ایک ایسی جگہ میں سرمایہ کاری سے قبل دومرتبہ سوچے گا جہاں اس کے اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہوں''۔اگر یہ فی الواقع حقیقت بن جاتا ہے تو اس سے اب ان بڑے معاملات کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی کیونکہ وہ سب داؤ پر لگ گئے ہیں۔

یہ بھی یقینی ہے کہ جاسٹا کے تحت سعودی شہری امریکی حکومت اور اس کے ملازمین کے خلاف غیرملکی عدالتوں میں قانون چارہ جوئی کرسکیں گے۔خطے میں شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی قیادت میں سعودی مملکت کے قائدانہ کردار کے پیش نظر دوسرے عرب ممالک اور خاص طور پر جو ملک یمن میں آپریشن امید کی بحالی میں سعودی عرب کے شراکت دار ہیں،وہ بھی جاسٹا کے مضمرات کا شکار ہوسکتے ہیں۔

جاسٹا کے بعد یہ بھی خطرہ ہے کہ اس سے غیرملکی حکومتوں کو بھی اپنے قوانین میں ترامیم کا جواز مل سکتا ہے اور اس طرح وہ اپنے شہریوں کو امریکی حکومت اور اس کے ملازمین کے خلاف غیرملکی عدالتوں میں مقدمات چلانے کی اجازت دے سکتی ہیں اور زیادہ امکان یہ ہے کہ یہ مقدمات اسٹیٹ سکیورٹی عدالتوں میں دائر کیے جائیں گے۔اس سے امریکا کے لیے بیرون ملک ایک نئی سردردی شروع ہوجائے گی کیونکہ وہ بغیر پائیلٹ ڈرون سے حملوں سے لے کر غیرملکوں میں نگرانی اور ملیشیاؤں کی پشتی بانی ایسی سرگرمیوں میں الجھا ہوا ہے۔

اگر جی سی سی کے نقطہ نظر سے بات کی جائے تو جاسٹا بالکل غلط وقت میں سعودی عرب کو اپنا ہدف بنانے جا رہا ہے۔سعودی قیادت مملکت کے وژن 2030ء پروگرام پر عمل پیرا ہے اور یہ اس کے ابتدائی مہینے چل رہے ہیں۔اس اہم سعودی پروگرام کے لیے امریکا اور سعودی عرب کے دو طرفہ تعلقات میں کوئی رخنہ نہیں آنا چاہیے۔امریکا کی بڑی کمپنیاں سعودی عرب میں بھاری سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کررہی ہیں۔

بلاشبہ جاسٹا کے مضمرات کے پیش نظر الریاض دوسرے پانچ خلیجی ممالک کے دارالحکومتوں میں بیٹھے عہدے داروں کو اس بات پر آمادہ کر سکتا ہے کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں تعاون ختم کردیں۔اس کے علاوہ امریکا میں سرمایہ کاری کو بھی واپس لیا جاسکتا ہے اور تزویراتی لحاظ سے اہمیت کے حامل فوجی اڈوں تک رسائی ختم کی جاسکتی ہے۔جی سی سی کی جانب سے اجتماعی طور پر بڑے پیمانے اقدامات کی بھی مثالیں موجود ہیں۔

ایسے مواقع بھی آئے ہیں جب سعودی عرب نے مشکل صورت حال میں جی سی سی کو اپنے پیچھے لگا لیا۔گذشتہ سال سویڈن کی وزیر خارجہ نے انسانی حقوق کے معاملے پر سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس کے ردعمل میں سویڈن کے مفادات جی سی سی کے رکن ممالک میں خطرات سے دوچار ہوگئے تھے۔چنانچہ سویڈن کو اپنے موقف پر نظرثانی کرنا پڑی تھی اور اس نے اپنے بیانات واپس لینے ہی میں عافیت جانی تھی۔گذشتہ سال سعودیوں نے بحرین اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر قطر پر اخوان المسلمون کی مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقا کے خطے میں حمایت پر غیر معمولی دباؤ ڈالا تھا اور اس کو اس حمایت سے دستبردار ہونے پر مجبور کردیا تھا۔

اب اہم بات یہ ہے کہ مینا کے ممالک کے لیے دروازے کھلے ہیں اور وہ امریکا کے خلاف اپنی عدالتوں میں قانونی چارہ جوئی کرسکتے ہیں۔ یہ ممالک نامساعد حالات میں خود مختاری اور سفارتی استثنیٰ سے متعلق اپنی پالیسی کو تبدیل کرسکتے ہیں۔وہ سیاسی مقاصد کے لیے امریکی فوجیوں ،انٹیلی جنس افسروں اور سرکاری عہدے داروں کو گرفتار کرسکتے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر امریکا اور ترکی کے درمیان ناچاقی پیدا ہوجاتی ہے تو انقرہ یک طرفہ طور پر امریکی اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کرسکتا ہے اور سیاسی تناظر میں یہ قانونی جنگ ترک عدالتوں میں لڑی جاسکتی ہے۔

دوسرے ممالک اس مثال کو کیس سے کیس کی بنیاد پر استعمال کرسکتے ہیں۔بہ الفاظ دیگر جاسٹا بالکل منفی انداز میں ناکام ہوسکتا ہے کیونکہ امریکا نے خود ہی تو اپنے شہریوں کو غیر ملکی حکومتوں کے خلاف ان کے بعض شہریوں کی کارروائیوں کی بنیاد پر قانونی چارہ جوئی کی اجازت دے کر ایک مثال قائم کی ہے۔

ایک اور بنیادی ایشو جو مینا کی ریاستوں میں علاقائی عدالتی نظام میں اٹھایا جاسکتا ہے،وہ امریکا کا دہشت گردی کی کارروائیوں میں کردار ہے۔امریکا کے افغانستان ،عراق ،لیبیا ،شام اور یمن میں اقدامات کو بہت سے لوگ مجرمانہ اور دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیتے ہیں۔یہ نظریہ سب سے نمایاں ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ کو تباہی سے دوچار کرنے اور داعش کے احیاء کا قصور وار ہے۔

ایک ایسے دور میں جب امریکا دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں متعدد بین الاقوامی تنظیموں اور اتحادوں کے ذریعے قائدانہ کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے،جاسٹا ممکنہ طور پر اس دہشت گردی سے متعلق الزامات کے باب وا کرنے جا رہا ہے جو مختلف سمتوں میں چل رہی ہے اور جس میں خود مختاری کا استثنیٰ بے وقعت ہوکر رہ گیا ہے۔

مثال کے طور پر ان امریکی شہریوں کے بارے میں کیا کہا جائے گا جنھوں نے کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس ( وائی پی جی) میں شمولیت اختیار کی تھی۔وہ ایسے وقت میں وائی پی جی میں داعش مخالف لڑائی کے لیے شامل ہوئے تھے جب ترک فوج اور کرد فورسز کے درمیان شام اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقوں میں جھڑپیں جاری تھیں۔اب اگر میدان جنگ تبدیل ہوتا ہے اور یہ امریکی شہری پکڑے جاتے ہیں اور تشدد کی کسی کارروائی میں ملوّث پائے جاتے ہیں تو پھر وہ شاید خود کو کسی غیرمانوس قانونی علاقے میں پائیں۔مینا کے تنازعات کا شکار دوسرے علاقوں میں اگر امریکی پاسپورٹس کے حامل افراد پکڑے جاتے ہیں تو ان کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آسکتا ہے۔

مجموعی طور پر جاسٹا ایک قانونی جنگ کے طوفان کو دیاسلائی سلگانے جارہا ہے۔اس سے ایسے وقت میں سیاسی شراکت داری اور تعلقات کو نقصان پہنچے گا جب دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان تعلقات کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔جاسٹا انجام کار ایک تباہی ہے اور امید ہے کہ ٹھنڈے دل و دماغ سے اس پر غور کیا جائے گا کیونکہ خود مختارانہ استثنیٰ کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے