سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ سے یقینی طور پر کسی معاشرے یا ملک کے عمومی موڈ کا پتا چلتا ہے کہ عوام کیا سوچتے ہیں۔یہ ایک طرح سے عوامی موڈ کی جان کاری کا تھرما میٹر ہے لیکن عام صارفین کے نقطہ نظر کو سرکاری بیانات سے گڈ مڈ کرنے کی غلطی نہیں کی جانی چاہیے کیونکہ یہ بیانات مجاز سرکاری عہدے دار ہی جاری کرتے ہیں۔

میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ میڈیا ذرائع کو رجحانی موضوعات کے بارے میں رپورٹ کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے جبکہ ان کا مقصد محض ٹریفک کا حصول ،ناظرین کی تعداد میں اضافہ یا اخبار کی زیادہ کاپیوں کی فروخت ہوتا ہے۔ ایک پیشہ ور صحافی کی حیثیت سے ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہیش ٹیگ کے ساتھ جو مواد پھیلایا جارہا ہے،ہم اسی کی تشہیر شروع کردیں بلکہ ہمیں حقائق کو دیکھنا چاہیے،تجزیہ کرنا چاہیے اور رپورٹنگ سے قبل معاملے کا گیرائی اور گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے۔

ہمیں اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے کہ عرب دنیا میں مجموعی طور پر رائے عامہ کا جائزہ لینے والے قابل اعتبار اداروں اور قابل اعتماد تحقیقی اداروں کا وجود نہیں۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے،اس وقت مشرق وسطیٰ میں سازشی نظریات کے پھیلنے کا سلسلہ جاری رہے گا کیونکہ حقیقت اور افسانے کے درمیان لکیر بدستور مدھم ہی رہے گی۔

ٹویٹر پر حال ہی میں ایک رجحاناتی موضوع ''سعودی عرب کو تمام تارکین وطن سے پاک کرنے'' سے متعلق تھا۔اس طرح کے دعوے کے ناقابل عمل ہونے کو تو ایک طرف رکھیں (اس پر عمل کرنا ناممکن ہوگا اور اس کے مختلف سطحوں پر تباہ کن اثرات ہوں گے)۔میں اس ہیش ٹیگ میں استعمال کی گئی نسل پرستانہ زبان کے بارے میں کچھ تبصرہ کرنا چاہتا ہوں۔

سب سے پہلی اور اہم بات یہ ہے کہ سعودی عرب میں مقیم کسی بھی تارک وطن کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا کے صارفین اپنی اپنی ذات ہی کی نمائندگی کرتے ہیں اور وہ عوام الناس کے ہرگز بھی نمائندہ نہیں ہیں۔اس کو اس ہیش ٹیگ پر بھی ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔وہاں اعتدال پسندی اور عقلیت پسندی سے زیادہ کٹرپن کی حامل زیادہ آوازیں تھیں لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کے ہر کیس میں ایسا ہی معاملہ ہوتا ہے اور صرف اس خاص معاملے میں ایسا نہیں ہوا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو زیادہ چلّاتے ہیں،بازاری زبان استعمال کرتے ہیں اور انتہا پسندانہ نقطہ نظر پیش کرتے ہیں،وہ ہمیشہ مقبول ہوتے ہیں ( میڈیا کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والی داعش ایسی دہشت گرد تنظیمیں اس بات کو بخوبی جانتی ہیں)۔اس کا افواہوں اور غیر مصدقہ معلومات پر بھی اطلاق کیا جاسکتا ہے کیونکہ لوگ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ''جب تک سچ اپنے سفر کی تیاری کررہا ہوتا ہے،ایک جھوٹ دنیا کا آدھا چکر لگا آتا ہے''۔

دوسرا،ان کے لیے شاباش ،جنھوں نے اس ہیش ٹیگ کو آڑے ہاتھوں لیا اور اس کے نسل پرستانہ محرکات کا مضحکہ اڑایا۔سچ تو یہ ہے کہ سعودی مملکت میں تارکین وطن ایک عرصے سے رہ رہے ہیں اور وہ اس ملک کی تاریخ ،ارتقاء ،ترقی اور توسیع کا ایک اہم حصہ ہیں۔

بیمار ذہنیت اور اشتعال انگیز دعووں کو تو ایک طرف رکھیے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ کوئی بھی درست ذہن کا حامل شخص تارکین وطن کے بغیر ایک دن کے لیے بھی رہنے کا تصور تک نہیں کرسکتا ہے۔یہ محض اس وجہ سے نہیں کہ انھوں نے قابل تعریف اور ناقابل یقین کام کیے ہیں بلکہ اب ان میں سے بہت سے لوگ ہمارے قریبی رشتے دار ،خاوند یابیوی ،دوست ،ہمسائے اور شراکت دار ہیں۔

یہاں رہنے والے تارکین وطن کی کامیابی کی کہانیاں لاتعداد ہیں اور ان سب کا ایک کالم میں احاطہ ممکن ہی نہیں ہے۔میرا ایک طویل عرصے سے اس ملک میں اور دنیا کی دوسری جگہوں میں تارکین وطن سے واسطہ رہا ہے اور میں بڑے اطمینان سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ تارکین وطن کی کمیونٹی کی ایک شاندار ''اضافی قدری'' اہمیت ہے۔

جیسا کہ بعض لوگ ٹویٹر پر سوچتے ہیں،اس کے بالکل برعکس تارکین وطن ہرگز موقع پرست نہیں ہے۔ان میں سے بہت سوں اور خاص طور پر ان لوگوں کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہوں جن سے مجھے ساری زندگی واسطہ رہا ہے کہ ان کی سعودی مملکت کے ساتھ غیرمتزلزل وابستگی ہے۔انھوں نے مملکت کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہےاور اسی پر سرمایہ کاری کی ہے۔

اگر میں صرف ایک اسٹوری کا آپ سے شئیر کرنے کے لیے انتخاب کروں تو میں پاکستانی شہری اور کراٹے کے چیمپئن فرمان علی خان کی قربانی کا ذکر کروں گا۔فرمان نے جدہ میں 2009ء میں سیلاب کے دوران چودہ افراد کو ڈوبنے سے بچایا تھا اور ان سعودیوں کو بچاتے ہوئے وہ اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔فرمان کو سعودی حکومت کی جانب سے بعد از مرگ شاہ عبدالعزیز میڈل دیا گیا تھا۔ وہ آج تک تارکین وطن کی اس ملک سے وابستگی اور اس کے لیے قربانی دینے کی ایک بڑی علامت ہے۔

حرف آخر یہ کہ ہمیں اس بات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ کسی سرکاری عہدے دار ہی کو کچھ کہنے کا حق حاصل ہے اور اسی کی بات پر کان دھرا جائے گا۔میرا نہیں خیال کہ اس سے بہتر کوئی اشارہ ہوسکتا ہے کہ حالیہ اصلاحات اور مستقبل کے منصوبوں کے بعد سعودی عرب میں ہر کسی کو خوش آمدید کہا جائے گا۔ان اصلاحات میں یہاں مقیم اور ملکی ترقی میں کردار ادا کرنے اور بدستور رہنے والوں کے لیے ممکنہ طور پر ''گرین کارڈ'' کا بھی انتظام کیا جا رہا ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے