ایک وقت تھا جب سعودی عرب امریکہ کا اسٹرٹیجک پارٹنر تھا اور اُسے خطے میں امریکہ کا مضبوط ستون تصور کیا جاتا تھا مگر آج کئی دہائیوں پر مشتمل سعودی امریکی قریبی تعلقات زوال کا شکار ہیں اور ایسے آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ میں موجود کچھ طاقتیں یہ سوچ رہی ہیں کہ وقت آگیا ہے کہ امریکہ، سعودیہ سے اپنے تعلقات پر نظرثانی کرے۔

اس بات کے واضح اشارے اُس وقت ملے جب گزشتہ دنوں امریکی کانگریس نے ’’جاسٹا‘‘ نامی سعودیہ مخالف بل کی بھاری اکثریت سے منظوری دی جس کے تحت اب امریکی شہری نائن الیون واقعہ میں ملوث کسی بھی فرد یا ریاست کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ یہ بل 2015ء میں امریکی سینیٹ میں پیش کیا گیا تھا جسے مئی 2016ء میں سینیٹ اور 9ستمبر کو کانگریس نے کثرت رائے سے منظور کرلیا تاہم 23 ستمبر کو امریکی صدر بارک اوباما نے بل کو ویٹو کردیا مگر امریکی سینیٹ اور کانگریس نے امریکی صدر کے ویٹو کو مسترد کرتے ہوئے بھاری اکثریت سے بل کو دوبارہ منظور کرلیا جسے قانونی شکل دیئے جانے کے بعد متاثرہ امریکی شہری، سعودی حکومت کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرکے سعودی عرب سے اربوں ڈالر ہرجانہ وصول کرسکیں گے۔ یاد رہے کہ نائن الیون حملے میں تقریباً 3 ہزار امریکی شہری مارے گئے اور حملے میں ملوث 19 دہشت گردوں میں سے 15 کا تعلق برادر ملک سے تھا۔ سعودی عرب بارہا یہ واضح کرچکا ہے کہ نائن الیون حملے میں ملوث دہشت گردوں کو کسی بھی طرح کی سعودی مدد حاصل نہیں تھی بلکہ یہ واقعہ دہشت گردوں کا ذاتی فعل تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما اپنے دور صدارت میں 11 بلوں کو ویٹو کرچکے ہیں مگر یہ واحد بل ہے جسے امریکی سینیٹ اور کانگریس نے صدر کے ویٹو کو مسترد کرکے منظور کیا۔ ’’جاسٹا‘‘ بل کو ویٹو کرتے وقت صدر اوباما نے کانگریس کو خبردار کیا تھا کہ ایسی صورتحال میں جب دنیا کو شورش کا سامنا ہے، بل کی منظوری سے امریکہ کے اہم اتحادی ناراض ہوسکتے ہیں جبکہ بیرونی بینکوں، امریکی کمپنیوں، فوجیوں اور دیگر حکام کو بھی قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے مگر کانگریس نے صدر اوباما کے بیان کو اہمیت نہ دی اور صدارتی ویٹو کو کثرت رائے سے رد کردیا۔ واضح ہو کہ سعودی عرب بل پیش ہونے سے قبل یہ دھمکی دے چکا ہے کہ اگر بل منظور ہوا تو وہ امریکی بینکوں میں موجود اپنے 750 ارب ڈالر کے اثاثے نکلوالے گا جبکہ سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد اور سعودی شہری بھی یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ بل کو قانونی شکل دینے سے پہلے ہی امریکی بینکوں میں موجود اپنے اربوں ڈالر کے اثاثے نکلواکر کسی دوسرے ملک منتقل کردیں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق اگر ایسا کیا گیا تو مذکورہ سعودی اقدام سے نہ صرف امریکی معیشت متاثر ہوگی بلکہ امریکہ مالی بحران کا شکار ہوجائے گا۔

امریکہ کے حالیہ اقدام کو ایک ایسے اتحادی ملک کے خلاف حقیقت کے برعکس قرار دیا جارہا ہے جو دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں عالمی اتحاد کا حصہ ہونے کے علاوہ عالم اسلام میں خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی (OIC)کا اہم رکن ہونے کے علاوہ خلیجی ممالک کی تنظیم گلف کوآپریٹو کونسل (GCC)کا سرگرم رکن بھی ہے اور گلف کونسل میں شامل ممالک سعودی عرب کے خلاف حالیہ امریکی اقدام پر اپنی ناراضی کا اظہار کرچکے ہیں۔ گزشتہ دنوں متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کا مذکورہ اقدام کسی طرح بھی درست نہیں اور اس کے نتیجے میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ متاثر ہوگی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا اور پرانا اتحادی تصور کیا جاتا ہے۔ افغانستان پر سوویت یونین کے قبضے کے بعد امریکی ایما پر سعودی عرب نے جہاد افغانستان میں حصہ لیا اور بڑی تعداد میں عرب مجاہدین افغانستان آئے جنہوں نے القاعدہ کی بنیاد رکھی جبکہ سوویت، افغان جنگ کے اربوں ڈالر کے اخراجات بھی سعودی عرب نے برداشت کئے جس کے نتیجے میں سوویت یونین کو افغانستان میں پسپائی اختیار کرنا پڑی اور وہ کئی حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ بعد ازاں امریکہ نے اپنے مفادات پورے ہونے کے بعد اتحادیوں کو تنہا چھوڑ دیا نتیجتاً طالبان، داعش اور دیگر شدت پسند تنظیمیں وجود میں آئیں۔ سعودی عرب نے عراق، ایران جنگ کے دوران امریکی ایماپر عراقی صدر صدام حسین کی مالی و سفارتی حمایت بھی جاری رکھی جبکہ موجودہ صورتحال میں سعودی عرب، شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے میں امریکہ کا اہم اتحادی ہے مگر آج امریکہ اپنے دیرینہ اتحادی کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے دہشت گردی کا سارا ملبہ سعودی عرب پر ڈالنے کی کوشش کررہا ہے۔

عالمی تجزیہ نگار اور ماہرین، صدر اوباما کے دور صدارت کے آخری چند ماہ میں مذکورہ بل کی منظوری کو امریکی اور سعودی عرب کے تعلقات کیلئے بڑا دھچکا اور سعودی عرب کی پیٹھ پر خنجر گھونپنے سے تعبیر کر رہے ہیں۔ بل کے نافذ العمل ہونے کے بعد سعودی عرب کے علاوہ پاکستان اور وہ ممالک جن کے باشندے امریکہ میں ہونے والی دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں، بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ سعودی مخالف امریکی بل ’’جاسٹا‘‘ کو قانونی شکل دیئے جانے کے بعد سعودی عرب کے خلاف امریکی عدالتوں میں مقدمات کا سیلاب اُمڈ آئے گا اور متاثرہ افراد عدالتوں سے امریکہ میں موجود سعودی عرب کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد کرنے کیلئے حکم امتناعی حاصل کرلیں گے تاکہ سعودی عرب اپنے اثاثے امریکہ سے باہر منتقل نہ کرسکے۔

امریکہ کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہئے کہ مذکورہ بل نہ صرف پوری دنیا میں امریکی مفادات کیلئے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے بلکہ خود امریکہ کے خلاف بھی استعمال ہوسکتا ہے کیونکہ دنیا کے کئی ایسے ممالک جن میں پاکستان بھی شامل ہے، ڈرون حملوں اور امریکی کارروائیوں میں مارے جانے والے افراد کے لواحقین اپنے ممالک میں امریکہ کے خلاف عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ کانگریس سے سعودی مخالف بل کی منظوری سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ عراق، لیبیا، شام، افغانستان اور پاکستان سمیت کئی دوسرے اسلامی ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے بعد اب امریکہ، سعودی عرب کے پیچھے پڑچکا ہے اور یہ صورتحال عالم اسلام بالخصوص پاکستان کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ امریکہ کبھی کسی کا دوست نہیں رہا اور نہ ہی ملکوں کے درمیان دوستیاں اور دشمنیاں مستقل ہوتی ہیں لیکن اگر کوئی چیز مستقل ہوتی ہے تو وہ ملکوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے