یمن کے دانش مند مدبر ڈاکٹر عبدالکریم الاریانی نومبر 2015ء میں چل بسے تھے۔وہ جنرل پیپلز کانگریس کی ایک علامت تھے۔یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کا بھی اسی جماعت سے تعلق ہے۔وہ علی صالح سے یکسر مختلف تھے اور ان کی پالیسیاں اور کردار بھی مختلف تھا۔وہ یمن کی قانونی حکومت اور آپریشن فیصلہ کن طوفان کے حق میں تھے۔یہ اور بات ہے کہ وہ اپنے شائستہ انداز میں ان کی حمایت کررہے تھے۔

ان کی نمازجنازہ بھی اسی ہال میں ادا کی گئی تھی جس کو دو روز قبل دہشت گردوں نے نشانہ بنایا تھا۔علی صالح ،ان کے آدمیوں اور خاندان کے ارکان نے ایک بڑے اجتماع کی موجودگی میں اس جنازے میں شرکت کی تھی۔اس وقت سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد کے لڑاکا طیارے صنعا کی فضائی حدود میں موجود رہے تھے۔علی صالح نے جنازے میں شرکت کی اور سوگوار خاندان سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔وہ کافی دیر تک وہاں رہے اور انھیں کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

یہ میرا پہلا مشاہدہ ہے۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ علی عبداللہ صالح صنعا میں تقریریں کررہے ہیں اور عرب اتحاد کے لڑاکا جیٹ ان کے سروں پر پروازیں کررہے ہوتے ہیں۔اگرچہ اتحاد کو معلوم ہوتا ہے کہ صالح وہاں موجود ہیں لیکن اس نے انھیں یا ان کے حامیوں کو اب تک نقصان نہیں پہنچایا۔

تیسرا مشاہدہ یہ ہے کہ یمنی گذشتہ اتوار کو حوثی ملیشیا اور علی صالح کے وفاداروں کے خلاف احتجاج کرنے جارہے تھے۔مجوزہ مظاہرہ ''میں احتجاج میں جارہا ہوں'' کے نعرے کے تحت منظم کیا جارہا تھا۔الرویشان خاندان کے جنازے کو ہفتے کے روز ہدف بنایا گیا۔یعنی اس مجوزہ مظاہرے سے ایک روز قبل۔کیا یہ ایک اتفاقی واقعہ تھا؟

اندرکا کام؟

اب تک ہمیں اس حملے میں مارے گئے افراد کے بارے میں جو کچھ معلوم ہوسکا ہے،وہ جنرل پیپلز کانگریس کے ارکان تھے۔اس جماعت کا اپنا ایک سماجی اور سیاسی قد کاٹھ ہے اور وہ حوثیوں سے مختلف ہے۔ حوثیوں کی خود ساختہ حکومت کے وزیر داخلہ جلال الرویشان کا تعلق اسی جماعت سے ہے اور ان کے والد کے جنازے ہی کو اس حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جو ایک روز قبل انتقال کر گئے تھے۔اس حملے میں صنعا کی مقامی کونسل کے سربراہ (مئیر) عبدالقادر ہلال بھی مارے گئے ہیں۔وہ علی صالح کے مقربین میں سے تھے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کوئی اندر ہی کام تھا تاکہ حوثی منظر نامے پر اپنی بالادستی برقرار رکھ سکیں؟

پانچواں نکتہ یہ ہے کہ جلال کے چچا زاد خالد الرویشان ،جو صنعا ہی میں رہتے ہیں اور حوثیوں کے خلاف لکھتے رہتے ہیں،وہ بھی اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔آل الرویشان خولان قبیلے کے رکن ہیں۔یہ قبیلہ خولان الطیال کے نام سے بھی معروف ہے۔

یمن میں رونما ہونے والی پیش رفت پر نظر رکھنے والے اس بات سے آگاہ ہیں کہ جنرل علی محسن الاحمر اور صنعا میں خولان قبیلے کے درمیان مضبوط روابط استوار تھے اور موخرالذکر نے مآرب اور سرواح میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کی کامیابیوں کے بعد جنرل محسن کی آواز پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا تھا۔تو کیا اس حملے کے ذریعے صنعا کے لیے لڑائی میں اس نمایاں بلاک کو توڑنے کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ حملے کے بعد خولان زخمی ہیں۔

ان سوالات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا چاہیے۔ایک اور حقیقت پسندانہ امکان جس کو ہمیں ملحوظ رکھنا چاہیے،وہ یہ کہ القاعدہ اور دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کا اس سنگین جرم کے پیچھے ہاتھ کارفرما ہوسکتا ہے اور یہ ممکن بھی ہے۔

ہر دو صورتوں میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ اتحاد کے مفاد میں تھا کہ وہ ایک جنازے میں شریک یمنی شہریوں کو حملے میں نشانہ بنائے؟ اتحاد نے قبل ازیں ایسا کیوں نہیں کیا تھا اور اس ہال کو اس وقت کیوں نشانہ نہیں بنایا تھا جب وہاں علی صالح ایسے نمایاں اہداف موجود تھے؟

یہ سچ تو بہرکیف برقرار ہے کہ ایسے لوگ موجود ہیں جو آپریشن فیصلہ کن طوفان کے بارے میں من گھڑت افواہیں اور جھوٹی کہانیاں پھیلا رہے ہیں اور وہ یہ کام ایک عرب یا غیرملکی بھونپو کے ذریعے کررہے ہیں۔

--------------------------------
(سعودی صحافی مشاری الذایدی العربیہ نیوز چینل کے ویوز آن نیوز کے روزانہ شو ماریا کے میزبان ہیں۔وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں بطور مبصر اور مہمان پیش ہوتے رہتے ہیں۔انتہاپسند گروپ اور ان کے نظریات ان کے خاص موضوعات ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے