آخری بار میں 8 سال قبل اپنی بچپن کی سہیلی کی شادی میں شرکت کے لیے دمشق گئی تھی۔ اگست کا مہینہ تھا اور شہر یاسمین کی خوشبو سے مہک رہا تھا۔ پہلے تو میں ہر موسم گرما وہاں کا ایک چکر لگاتی تھی لیکن اس بار معاملہ مختلف ہوا۔ نورا کی شادی اور ملاقات کے لیے آنے والے دوستوں کی وجہ سے وہاں میں نے دو ہفتے سارا وقت پرانی یادیں تازہ کرتے بتائے اور انجانے میں سب کو خیر باد کہا۔ شہر میں طلبہ کا ہجوم تھا جو قہوہ خانوں میں بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے۔ کیمروں سے لیس غیر ملکی گلیوں میں مٹر گشت کررہے تھے۔

ہم سلطان صلاح الدین ایوبی کا مجسمہ دیکھنے گئے جو 1187میں مصر اور شام کے حکمراں تھے اور انہوں نے صلیبی جنگیں لڑیں۔ یہ مجسمہ قلعہ دمشق کے برابر میں ایستادہ ہے۔ ہم حمیدیہ بازار بھی گئے جہاں سیم کے بیج، پستے اور شہد سے بنے شامی بسکٹ برازق، صدف سے بنی شطرنج کی بساط اور شام کے خاص خواتین کے زیر جامہ ملتے ہیں۔ ہم ایک پرانے حمام گئے جہاں ایک درشت خاتون نے خوب اچھی طرح ہماری مالش کی اور بولی کہ یہ ہمارے دوران خون کے لیے اچھا ہے۔ ہم نے شہر کے پیانو بارز میں شامیں بتائیں اور پرانے نغمے گائے۔ میزہ میں اپنے پرانے گھر کے پاس سے گزری، جہاں اب کسی این جی او کا دفتر ہے۔ گلی کے کونے سے گاڑی میں بیٹھے بیٹھے نورا اور میں نے اپنے پرانے بیڈ روم کی کھڑکی دیکھی، اور عمارت کے مرکزی دروازے پر لگائے میرے والد کے ایک اشارے کو یاد کیا، جس میں انہوں نے لکھا تھا براہ مہربانی دوسرا دروازہ استعمال کریں، جو کہ تھا ہی نہیں۔ لوگ عمارت کے باہر جمع ہوگئے، پھر انہیں پتہ چلا کہ کسی نے مذاق کیا ہے۔ والد کی وفات کے بعد میں نے اس دروازے کے باہر کھڑا ہونے کا سوچا۔ والدہ نے پاکستان میں جان کے خوف سے مجھے اور بھائی کو دمشق واپس بھیجا تھا۔

میں نے وہ اشارہ دیکھا اور سوچا کاش ہم کبھی واپس نہ جاتے۔ آپ شہر سے کیسے دربدر ہوتے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کیونکہ میں نے بھی یہ دکھ جھیلا ہے۔ درحقیقت میں خود شامی نہیں۔ میں 1982 میں کابل میں پیدا ہوئی تھی، جہاں والد میر مرتضی بھٹو جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے، کیونکہ فوجی آمریت نے ملک کے پہلے جمہوری منتخب سربراہ میرے دادا کو قتل کردیا تھا۔ میری پیدائش کے فوری بعد میرے والدین میں طلاق ہوگئی اور میں اپنے والد کے ساتھ دمشق آگئی، جہاں ان کی بیروت، لبنان سے تعلق رکھنے والی خاتون سے ملاقات ہوئی اور وہ اس کی زلفوں کے اسیر ہوگئے۔

خانہ جنگی کا شکار بیروت بھی 1982 میں اسرائیل کے حملہ کی زد میں تھا۔ اس سارے خون خرابے اور والدین سے محرومی کے بعد دمشق ایک پناہ گاہ لگتا تھا۔ مارک ٹوئن نے ایک بار کہا تھا کہ دمشق وقت کی پیمائش دنوں، مہینوں یا سالوں میں نہیں بلکہ ان سلطنتوں سے کرتا ہے جن کا اس نے عروج، ترقی اور پھر زوال دیکھا۔ یہ شہر لافانی ہے۔ شام طویل عرصے سے سیکولر ازم سے وابستہ تھا اور کئی لوگوں کی طرح میرا خاندان بھی اسے فوراً اپنا گھر سمجھنے لگا۔ میں نے کبھی خود کو وہاں غیر ملکی نہیں سمجھا۔ مجھے اپنے سنی یا شیعہ ہونے کا پتہ ہی نہ تھا۔ میرے دوستوں میں آرمینیائی آرتھوڈوکس اور دروز، کیتھولک اور مسلمان سبھی شامل تھے۔ ہم یہودی کوارٹر کی طرف جاتے، گرمیوں میں مالولا کے منجمد کردینے والے چشموں میں تیراکی کرتے، جہاں آج بھی آرامی زبان بولی جاتی ہے۔

اسکول ٹرپس پر قدیم شہر کی جامعہ امیہ جاتے، جہاں قبطی، فارسی اور بازنطینی کاریگروں نے سنہری اور نیلے پچی کاری کے نقوش بنائے تھے۔ وہ میری زندگی کے خوشگوار اور پرامن ترین دن تھے۔ ہفتے کی چھٹیوں میں میں اور میرے گھر والے بلودن میں میری دوست کے گھر جاتے۔ یہ دمشق کے شمال میں 30میل دور رومیوں کے دور کا پہاڑی قصبہ ہے۔گھر کے قریب ہم لوگ گلیوں میں کھیلتے، جب کہ دوست کے والد دہی، لہسن، اور دھنیے کے آمیزے میں بھیگے گوشت کو بھونتے اور گرم گرم روٹی میں لپیٹ کر ہمیں دیتے۔ وہ ہمیں اپنے ہاتھ سے شیش تاؤق کباب کھلاتے۔ جب ہم بڑے ہوئے تو والدین کے بغیر گھومنے پھرنے نکل جاتے، دریا کے کنارے قہوہ خانوں اور ریسٹورینٹس میں بیٹھتے، المازا بیئر پیتے اور رات دیر تک گپیں لڑاتے۔ جب بھی میں عربی یا دربوکا ڈھول کی تھاپ سنتی ہوں وہ دمشق اپنی تباہی کے باوجود مجھے یاد آتا ہے۔

جنگ تاریخ تو مٹاہی دیتی ہے، لیکن اس کی سب سے محروم انسانیت قوت امن کو ختم کردیتی ہے۔ کیسے ٹھیلوں پر برف میں جمے چمکدار نارنجی کیکٹس پھل صبارا کے ڈھیر لگے ہوتے تھے اور دکاندار اس کے چھلکے اتار کر کھانے کے لیے دیتے تھے۔ گھر واپسی پر راستے میں لہسن کی چٹنی سے لبریز شوارما خریدتے، جس میں شلجم کی تیز گلابی پھانکیں ہوتیں۔ دفتروں اور دکانوں میں کاروبار کی سست رفتار کو قہوے سے میٹھا کیا جاتا، جس میں سفید چینی گھلتی رہتی۔ قدیم بازاروں میں لوگ بھاؤ تاؤ میں مصروف ہوتے۔ کیا آج بھی جبل قاسیون پر سیر کے لیے آنے والے لوگ رات گئے تک بیٹھتے ہوں گے اور شیشہ پیتے ہوں گے۔

حمیدیہ میں بقدش آئس کریم بیچنے والے ڈھول کی تھاپ پر دودھ والی آئس کریم بیچتے ہوں گے۔ بارات اور فٹ بال میچز کے دوران گلیوں میں کیا آج بھی گاڑیاں مسلسل ہارن بجاتی ہوں گی۔ وہاں گھر والوں سے ملنے جانے والے اپنے دوستوں سے میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دمشق اتنا خطرناک نہیں۔ اگرچہ فلاں نے اپنے برآمدے سے عمارت تباہ ہوتے دیکھی ہے۔ مگر اتنے بھی برے حالات نہیں۔ اگرچہ بسا اوقات صبح کے وقت گولہ باری کی آوازیں آتی ہیں۔ جب میں منہ سکیڑتی ہوں۔ تو وہ بولتے ہیں تمہیں کیا پتہ ۔ تم تو بس خبریں دیکھتی ہو۔ وہاں تو نہیں رہتیں۔ حالات اتنے خراب نہیں۔ لیکن میں بھی خطرناک جگہوں سے آئی ہوں اور خونریزی کو جانتی ہوں۔ وہ بڑھتی گھٹتی رہتی ہے، لیکن جب اس کے عادی ہوجاتے ہیں، تو اس کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔ یہی اصل دہشت ہے۔ میں نے دو بار دمشق کو کھویا۔

پہلی بار جب میرے والدین نے جلاوطنی ختم کی اور میری شروع ہوئی۔ 16 سال وطن سے باہر گزارنے کے بعد والد نے ملک میں 1993 کا الیکشن لڑا اور وہی اسمبلی نشست جیتی، جو کئی سال پہلے ان کے والد نے جیتی تھی۔ ہم کراچی آگئے جہاں سکون کی زندگی ختم اور ہنگامہ خیز زندگی شروع ہوئی۔ دو سال میں ہمارے گھر کے باہر تعینات پولیس والوں نے میرے والد کو قتل کردیا، جس پر آج تک کسی کو سزا نہیں ہوئی۔ قتل سے پہلے والد نے مجھے اور چھوٹے بھائی کو واپس شام بھیج دیا تھا۔ قتل و غارت گری، کرپشن کراچی میں معمول بن گئی۔ دمشق ہمیشہ ہماری پناہ گاہ رہا۔ مگر آج کراچی اور کابل دمشق سے زیادہ محفوظ ہوگئے۔

آج میرے ماضی کے سنگ میل اور وہ بہت سے لوگ نہیں رہے جنہوں نے اس قدیم شہر کو میرا مسکن بنایا ۔ حال ہی میں ایک ادبی میلے میں بچپن کے دوست سے ملاقات ہوئی جو کئی سال پہلے دمشق چھوڑ چکا ہے اور دیگر بہت سے شامیوں کی طرح دبئی میں رہ رہا ہے۔ میں نے پوچھا بلودان میں تمہارا گھر کیسا ہے۔ وہ بولا ختم ہوگیا۔ میں پوچھنے کی ہمت نہ کرسکی کہ کیسے۔ بعض دوستوں کا اصرار ہے کہ جنگ ہمیشہ جاری رہے گی۔ کچھ کہتے ہیں کہ یہ تقریبا ختم ہوچکی ہے۔ دھماکوں، باغی جنگجوؤں، داعش اور اس کے مظالم، لاکھوں بے گھر بچوں کے بعد کون کہہ سکتا ہے کہ کیا ہو گا۔

مگر مجھے کشمیری شاعر آغاز شاہد علی کے الفاظ تسکین بخشتے ہیں کہ وہ اس وقت تک ہر شے تباہ نہیں کرسکیں گے جب تک کھنڈرات تباہ نہ ہوجائیں۔ دمشق قدیم ترین آباد شہر ہے۔ رومی، ترک، سکندر اعظم سب نے اسے اپنی سلطنت کا تاج بنایا۔ پھر عباسی، منگول اور فرانسیسیوں نے بھی شہر پر قبضہ کیا۔ اس شہر پر حملہ، محاصرہ، فتح کیا گیا، لیکن مکمل تباہ نہیں ہوا۔ اپنی یادوں کے سائے سے باہر نکل کر صاف صاف سوچتی ہوں، تو نتیجے پر پہنچتی ہوں کہ دمشق نے سو زندگیاں جی ہیں اور ابھی مزید سو زندگیاں جیئے گا۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے