گذشتہ چند روز کے دوران یمن میں رونما ہونے والے واقعات ناقدین کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہونے چاہییں اور انھیں معلوم ہوجانا چاہیے کہ قاتل حوثی ملیشا کس قدر مجرمانہ کردار کی حامل ہے۔مذہبی جنونیوں نے ایک قانونی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس عمل کے دوران میں انھوں نے اپنے ہی لوگوں پر تباہی وبربادی مسلط کی ہے۔پھر وہ اس سے بھی بڑھ کر''مرگ بر امریکا'' کے نعرے لگانے شروع ہو گئے تھے۔

میں حوثیوں کے ایک حالیہ میزائل حملے کا حوالہ دے رہا ہوں۔یہ حوثی ملیشیا کے کنٹرول والے علاقے سے امریکی بحری جہاز یو ایس ایس میسن کی جانب چلایا گیا تھا۔امریکی جہاز آبنائے باب المنداب کے شمال میں لنگر انداز تھا۔یہ ایک اہم آبی گذرگاہ ہے اور نہر سویز کے راستے آنے والے آئیل ٹینکر یہیں سے ہوکر یورپ کی جانب جاتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ اس حملے میں کوئی امریکی سیلر زخمی نہیں ہوا تھا اور امریکی بحریہ کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل آئن میکنافے نے یہ کہہ کر اس حملے کی سنجیدگی اور اہمیت گھٹانے کی کوشش کی ہے کہ ''یہ واضح نہیں کہ جہاز ہی کو ہدف بنایا گیا تھا''۔حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے سنگین معاملے کو بآسانی نظرانداز کیا جاسکتا ہے اور نہ اسے قالین کے نیچے چھپایا جاسکتا ہے۔

امریکی بحریہ کے ترجمان کے بیان کے بعد ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ فی الواقع ''غیر واضح'' ہے کہ جنگی بحری جہاز کو خاص طور پر ہدف بنایا گیا تھا تو پھر حوثی ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک اس کی جانب میزائل کیوں فائر کرتے رہے تھے؟

مزید برآں اگر ہم اس بات کو مان لیتے ہیں کہ یہ میزائل غلطی سے فائر کیے گئے تھے تو پھر یہ بھی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس میزائل حملے میں کوئی امریکی سیلر زخمی یا ہلاک ہوجاتا تو پھر بھی حملہ آوروں کے یہی ارادے بیان کیے جاتے؟

مجھے امید ہے کہ امریکی مبصرین اور بااثر فیصلہ ساز کچھ کہنے کے لیے اس کالم کے چھپنے کا انتظار نہیں کررہے ہوں گے بلکہ امریکا کو اٹھ پڑنا چاہیے اور دھویں کی بُو سونگھ لینی چاہیے۔

اب تو ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اور نامعلوم وجوہ کی بنا پر واشنگٹن میں سیاسی فیصلہ سازی کا عمل گمراہ کن انداز میں پایہ تکمیل کو پہنچایا جارہا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ وہ لکیر جس سے دوست اور دشمن کی پہچان ہوتی ہے ،وہ اچانک ہی غیر واضح ہونا شروع ہوجاتی ہے۔

میں یہ سب کچھ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ آج ایک حقیقت یہ ہے: امریکا جاسٹا ایسے اقدامات کے ذریعے اپنے ایک دیرینہ دوست اور اہم اتحادی کو سزا دے رہا ہے اور یہ اتحادی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی ایک وفادار دوست ہے جیسا کہ امریکی محکمہ دفاع اور انسداد دہشت گردی کے حکام بہ ذات خود ہیں۔

اس کے علاوہ امریکا کی خارجہ پالیسی کے ضمن میں نرم رو حکمت عملی کی وجہ سے خطے میں ایک خلا پیدا ہوا ہے۔ایران سے متنازعہ جوہری معاہدہ بھی اسی میں شامل ہے حالانکہ امریکی صدر براک اوباما نے بہ ذات خود ایران کو دہشت گردی کی پشتی بانی کرنے والا ملک قرار دیا تھا۔اس امریکی پالیسی سے خطے میں طوائف الملوکی کو بڑھاوا ملا ہے جس سے خود امریکا بھی متاثر ہورہا ہے( ایران حوثیوں کی حمایت کررہا ہے اور انھوں نے امریکی بحری جہاز پرمیزائل حملہ کیا ہے)

امریکا چونکہ اپنے دفاع کی صلاحیت کا حامل ہے اور وہ ایسا کرسکتا ہے لیکن ایک اور اہم اور زیادہ سنگین پیش رفت بھی ہوئی ہے اور الریاض پر تنقید سے قبل اس کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔وہ ہے حوثیوں کا سعودی عرب کے وسطی شہر طائف پر ناکام میزائل حملہ۔یہ شہر صوبہ مکہ میں واقع ہے۔

یہ کوئی پہلا میزائل حملہ نہیں ہے جو سعودی عرب پر کیا گیا ہے۔اس سے پہلے سعودی عرب کے جنوب میں واقع شہروں اور قصبوں میں اسکول کے طلبہ ، خواتین اور مردوں کو حوثیوں کے میزائل حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

بہر کیف ایک بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا جنگ میں غلطیاں ہوتی ہیں؟یقیناً انھوں نے یہ غلطیاں کی ہیں اور امریکا کسی دوسرے ملک سے زیادہ ان کے بارے میں زیادہ جانتا ہے۔اسی وجہ سے سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے متعدد بار کہا ہے کہ اس کو امریکیوں کی مشاورت درکار ہوگی۔خاص طور پر اس نے صنعا میں حالیہ بمباری کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کیا تھا۔

تاہم یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ اس طرح کے مسلح بنیاد پرست دشمنوں کے ہوتے ہوئے جو جان بوجھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلطی سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، یمن میں جنگ کوئی آپشن نہیں تھی بلکہ یہ ناگزیر تھی۔ سعودی عرب کو ہر طریقے سے اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اسلام کا دفاع بھی اس کی ذمے داری ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے