ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا میں سیلاب کی طرح درآنے والے حالیہ اسکینڈلوں کے بعد ان کا دفاع ایک ناممکن مشن بن کر رہ گیا ہے۔اگر ہم توہین کے اس ملبے کو ہٹا دیں جس میں کہ انھیں ان کے ناقابل قبول ذاتی افعال کی وجہ سے زندہ دفن کردیا گیا ہے اور ان کے وژن اور منصوبوں کو دیکھیں تو ہمیں ایک مختلف شخصیت نظر آئے گی۔کون جانتا ہے کہ وہ ملمع کاری کی حامل ہلیری کلنٹن سے زیادہ بہتر نظر آئیں۔

مسٹر ٹرمپ کو درست تناظر میں دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ تین سوالوں کے جواب سمجھنے کی کوشش کی جائے: امریکی ان سے نفرت کیوں کرتے ہیں یا اگر زیادہ وضاحت کی جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ امریکی میڈیا ان کے خلاف متحد کیوں ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ متنازعہ طریق کار کیوں اختیار کیا ہے جس سے ہم ہکا بکا رہ گئے ہیں؟ آخری اور سب سے ہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے ہمارے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

امریکی میڈیا کی ٹرمپ سے نفرت کی متعدد وجوہ ہوسکتی ہیں۔ان میں سے بعض انھیں سیدھے سبھاؤ اجڈ اور نظر انداز شدہ گنوار ٹی وی اسٹار قرار دیتے ہیں جس نے اپنی دولت اور ہوٹلوں کو بڑھایا اور شادیاں کیں۔ان کے نزدیک وہ ایک ایسے شخص ہیں جو صرف ملک کا صدر اور کمانڈر انچیف بننا چاہتا ہے۔

وہ جب ٹرمپ کا اپنے عظیم لیڈروں جیفرسن ،ابراہام لنکن اور روز ویلٹ سے موازنہ کرتے ہیں تو وہ غصے میں آ جاتے ہیں کیونکہ وہ اس طرح کے غیر ذمے دار شخص کو اپنے آیندہ صدر کے طور پر قبول نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ صاحب تو گرجنے، برسنے سے باز ہی نہیں آتے ہیں۔

اس بات کو اسی وقت سمجھا جاسکتا ہے جب ہمیں ماضی میں جانے اور اس کا حال سے موازنے کا موقع دستیاب ہو۔بظاہر یہ لگتا ہے کہ عربوں کی عاداتِ بد امریکیوں میں منتقل ہوگئی ہیں۔ اس لیے ہم بہت سے امریکیوں کو ان کی ٹرمپ سے نفرت کی وجہ سے ''سیاسی سلفی'' میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھ رہے ہیں اور وہ ایک شاندار ماضی کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ یہ بھی ایک بالاتر امتیازی رویہ ہے کہ صدر کو ایک اچھا مقرر ہونا چاہیے،وہ بحرانی صورت حال میں لوگوں کو سڑکوں پر نکال سکے اور وہ لوگوں کو ہلکے خوشگوار ماحول میں ہنسا سکے۔

یہ نقطہ نظر نظری طور پر تو درست ہے لیکن برسرزمین یہ گمراہ کن ہوسکتا ہے۔کیمرے کا سامنا کرنے کے لیے درکار مہارت ذاتی اور خصوصی ہوتی ہے اور یہ بندے کو کپتان اور لیڈر نہیں بنا دیتی ہے یا ایک چھوٹی کمپنی کا متاثرکن ڈائریکٹر نہیں بنا سکتی ہے۔اس کے لیے سب سے مناسب نمونہ تو پروفیسر براک اوباما ہیں۔انھوں نے دنیا کے سامنے بڑی لچھے دار تقریریں کی تھیں لیکن وہ اپنے الفاظ کو عملی جامہ نہیں پہنا سکے تھے۔

میڈیا کا کردار

امریکی میڈیا نے صدر نکسن کو شیطان بنا دیا تھا۔اس نے انھیں طویل عرصے تک زیر تفتیش رکھا اور ان کے بارے میں فلمیں بنائی تھیں اور دستاویزی پروگرام پیش کیے تھے مگر یہ سب کچھ انھیں ایک غیر معمولی لیڈر بننے سے نہیں روک سکا تھا اور اس نے دنیا کا چہرہ تبدیل کردیا تھا۔

جہاں تک ٹرمپ کا تعلق ہے کہ وہ اشتعال انگیز انداز کیوں اپناتے ہیں تو اس کی کئی ایک وجوہ ہوسکتی ہیں۔ٹرمپ خود کو ایک گھوڑے کے طور پر پیش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یا اگر آپ پسند کریں تو ایک بیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک ایسا جنگلی گھوڑا جس کو واشنگٹن میں سیاست دانوں کی کرپشن کی وجہ سے کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔اس نے کنٹرول ہونے اور ان کے مفادات کے لیے استعمال ہونے سے انکار کردیا۔ وہ ایک ایسے نئے چہرے کی نمائندگی کرتا ہے جو تربیت یافتہ نہیں لیکن اب بھی تبدیل ہوسکتا ہے اور جو امریکی دارالحکومت اور سیاست دانوں پر طاری جمود کو توڑ سکتا ہے۔وہی سیاست دان جو دولت اور مفادات کے اسیر ہوکر بد عنوان بن چکے ہیں۔

اس متحرک مگر بگٹٹ کردار کی بنا پر ٹرمپ پرانی روایات کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ فراموش شدہ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سفید فام امریکیوں کے دلوں میں جگہ بنا سکتے ہیں کیونکہ گذشتہ آٹھ سال کے دوران ایک سیاہ فام امریکی صدر کے ہوتے ہوئے انھیں بھلا دیا گیا تھا۔

ایک مرتبہ ایک سفید فام امریکی دوست نے مجھ سے شکایت کی کہ سفید چمڑی والے افراد سیاہ فام ،ایشیائی اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ اشتہارات میں نمودار نہیں ہوسکتے ہیں اور ان کا مقصد نئے سماجی تنوع کو ظاہر کرنا ہوتا ہے۔یہ ایک چھوٹی شکایت ہے جس سے سفید فام افراد کا چُھپا ہوا غصہ ظاہر ہو رہا ہے۔یہ سفید فام تاریخی طور پر امریکا میں اکثریت میں ہونے کے باوجود یہ محسوس کرتے ہیں کہ انھیں دیوار سے لگایا جارہا ہے۔

اس خوف کا ایک ثقافتی پہلو بھی ہے۔مشہور مفکر سیموئیل ہنٹنگٹن نے اپنی وفات سے قبل ایک مضمون لکھا تھا اور اس کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے۔اس میں انھوں نے لاطینی امریکیوں کی امریکا پر یلغار کے بارے میں خبردار کیا تھا۔ہنٹنگٹن نے لاطینی کمیونٹی پر ایسی شرائط عاید کرنے پر زوردیا تھا جس کے نتیجے میں وہ امریکی معاشرے میں مدغم ہوجائیں۔ان شرائط میں ایک تو یہ تھا کہ وہ انگریزی زبان سیکھیں اور دوسرا پروٹیسٹنٹ اقدار میں یقین رکھیں کیونکہ یہ آغاز ہی سے امریکی روح کی خاصیت رہی ہیں۔

یہ یقین کرنا احمقانہ بات ہوگی کہ ٹرمپ اس مخمصے کو نہیں سمجھتے ہیں اور نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ اس سے ہوشیاری سے کیسے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔اگرچہ کہ ان کے الفاظ سے ہم ہنستے ہی رہ جاتے ہیں۔ ٹرمپ جو کچھ کہتے ہیں ،ان میں خصوصی علامتیں اور کوڈ شامل ہوتے ہیں۔مثلاً جب انھوں نے کہا کہ وہ ہلیری کلنٹن کو جیل میں ڈال دیں گے تو وہ کوئی بچے نہیں تھے۔وہ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ وہ کمزور اور پسے ہوئے افراد کی مدد کریں گے اور بدعنوان سیاسی کلاس کے استثنا کو ختم کردیں گے تاکہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

یہ کوئی حیران کن بات نہیں ہے کہ ان کے ان الفاظ پر حاضرین میں بیٹھے ہوئے بعض لوگ خوشی کا اظہار کررہے تھے کیونکہ وہ ان کے کوڈ کو فوری طور پر سمجھنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔جب انھوں نے امن وامان کے نظریے کی ضرورت پر زوردیا تو وہ دراصل سفید فام امریکیوں کو یقین دلانے کی کوشش کررہے تھے جو ان افریقی امریکی مظاہرین کی وجہ سے خوف زدہ ہیں جو سڑکوں پر احتجاج کے دوران دکانوں اور کاروں کو نذر آتش کردیتے ہیں۔

کیمرے کی غلطیاں

ٹرمپ نے کیمرے اور مائیک کے سامنے بہت سی غلطیاں کی ہیں لیکن جو لوگ انھیں جانتے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ وہ آف کیمرا ایک بالکل مختلف شخص ہیں۔اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ انھوں نے مائیک پینس کا اپنے نائب کے طور پر انتخاب کیا ہے۔وہ ایک خاموش طبع اور سنجیدہ شخصیت ہیں۔ایک ناکارہ اور احمق شخص ایک دانا شخص کا اپنے نائب اور جانشین کے طور پر کیسے انتخاب کر سکتا ہے؟

ڈونلڈ ٹرمپ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک باعمل مذہبی شخصیت ہیں لیکن بظاہر یہ ایک جھوٹ لگتا ہے اور کوئی بھی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔جب وہ انتخاب لڑنے کا مقصد حاصل کرچکے تو وہ مسلمانوں سے متعلق اپنی تمام متنازعہ گفتگو سے دستبردار ہو گئے تھے۔

مذکورہ بالا عوامل کے سِوا سب سے اہم ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی اور اس کا ہلیری کلنٹن کی حکمت عملی سے موازنہ ہے۔دو اہم شعبوں میں وہ ہلیری سے کہیں بہتر نظر آتے ہیں۔انھوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو مسترد کردیا ہے جبکہ ہلیری نے اس کی پُرزور حمایت کی ہے۔انھوں نے سیاسی اسلام کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جبکہ ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار نے اس کی حمایت کی ہے (ہلیری کلنٹن یہ یقین رکھتی ہیں کہ اخوان المسلمون دہشت گردی کے ناسور پر قابو پاسکتی ہے اور ایک ایسا متبادل پیش کرتی ہے جو زیادہ اعتدال پسند ہے)

ٹرمپ نے شام میں ایران کی مداخلت اور جوہری معاہدے کو متعدد مرتبہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ان کا بالاصرار کہنا ہے کہ یہ ایک ناکام معاہدہ ہے۔وہ تہران میں رجیم پر پابندیوں کے حق میں ہیں۔وہ جب سیاسی اسلام کو اس بنا پر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ یہ دہشت گردی کا ایک ذریعہ یا منبع ہے تو وہ درست ہوتے ہیں۔یہ ایک درست نکتہ ہے کہ ہم عرب اس کو دوسروں سے زیادہ بہتر جانتے سمجھتے ہیں۔

ایک اور مثبت نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ کے آگے پیچھے عاقل ری پبلکن مشیر ہوں گے۔یہ توقع کی جاتی ہے کہ جب انھیں حقیقت کا سامنا ہوگا تو وہ زیادہ منضبط ہوجائیں گے بالخصوص اس وقت جب ایسے متنازعہ ایشوز کی بات آئے گی کہ جن کا عملی اطلاق نہیں کیا جاسکتا ہے۔ان میں نیٹو کو خیرباد کہنے یا اتحادیوں کو واجبات کی ادائی پر مجبور کرنے سے متعلق ان کا نقطہ نظر شامل ہے۔ان کی مد مقابل ہلیری ایک تجربے کار سیاست دان ہیں لیکن دنیا سے متعلق ان کا نقطہ نظر صدر اوباما ایسا ہی ہے اور صرف شام کے بارے میں وہ ایک مختلف نقطہ نظر کی حامل ہیں۔

ایک جذباتی ردعمل کی صورت میں تو ہم یقینی طور پر ٹرمپ کے بجائے ہلیری کلنٹن ہی کی حمایت کریں گے کیونکہ وہ زیادہ پرجوش ،جاذب نظر اورعقل مند نظر آتی ہیں۔تاہم ہم ایک مشہور اور کامیاب شخص کی سرزنش سے اپنی نفسیاتی خواہش کو روکتے ہیں تو ہم اس لولی پاپ کو ہضم کرنے سے بچ جائیں گے جو امریکی میڈیا نے ہمیں دے رکھا ہے۔ اگر ہم اپنی زندگی کے تجربے کی بنا پر جو کچھ صدر اوباما نے کہا ہے،اس میں کوئی یقین نہیں رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہم درست ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو پھرہم ان کے کہے پر کیوں اعتماد کریں جب انھوں نے ٹرمپ کی توہین کی تھی اور ہمیں ان کی پالیسیوں کے بارے میں متنبہ کیا تھا؟ کیا یہ منطقی بات نہیں ہوگی کہ عمل اس کے بالکل برعکس کیا جائے؟

-------------------------
(ممدوح المہینی العربیہ نیوز چینل کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ایڈیٹر ان چیف ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے