ایران اس بات میں یقین رکھتا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی، سیاسی شطرنج میں نمایاں تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ایران پابندیاں ختم ہونے کے بعد سے خطے میں دوبارہ اپنی بالا دستی قائم کررہا ہے۔وہ مشرقی اور مغربی طاقتوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔اس کے ساتھ ہی ساتھ روس ،یورپ اور امریکا کا جغرافیائی، سیاسی ،تزویراتی اور اقتصادی جھکاؤ بھی ایران کی جانب ہورہا ہے۔

ایران کو یہ بھی یقین ہے کہ علاقائی طاقت کا توازن بھی نمایاں طور پر اس کے حق میں ہورہا ہے۔نتجیۃً ایران کی سعودی عرب کے بارے میں پالیسی میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور ایران کے نقطہ نظرسے اس اہم مرحلے پر الریاض سے متعلق پالیسی میں نمایاں تبدیلی ناگزیر ہے۔

ایران کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیوں کا مظہر اس کے تمام سیاسی دھڑوں کا ایک ہی صف میں کھڑے نظر آنا اور یک جا و متحد ہونا ہے۔وہ نہ صرف بند دروازوں میں بلکہ عوام میں بھی کسی ایک خاص پالیسی کے حوالے سے متحد نظر آتے ہیں۔

یہی کچھ ایران کی سعودی عرب کے بارے میں پالیسی میں ہوا ہے۔ایران کے اعتدال پسند ( صدر حسن روحانی ،وزیر خارجہ جواد ظریف اور علی اکبر ہاشمی رفسنجانی ) مکمل طور پر سخت گیروں ( سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ،ایران کی سراغرسانی کی وزارت ،پاسداران انقلاب ،قدامت پسند عدلیہ اور باسیج ملیشیا) کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔جب سعودی عرب کو ایران کا مرکزی دشمن قرار دینے اور اس کے خلاف شدت پسندانہ جذبات کا معاملہ آتا ہے تو ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا ہے۔اس بنیادی تبدیلی سے یہ حقیقت بھی اجاگر ہوتی ہے کہ ایران کی سعودی عرب سے مخاصمت نہ صرف تزویراتی یا عارضی ہے بلکہ تزویراتی ، جغرافیائی، سیاسی اور مذہبی ہے اور یہ جاری رہے گی۔

اعتدال پسندوں کا سخت گیروں کے ہاتھ میں ہاتھ

اعتدال پسند اور سخت گیر جن چند ایک پالیسیوں کے بارے میں ایک ہی صفحے پر ہیں اور ان کے مفادات مشترک ہیں،ان میں سے ایک اسلامی جمہوریہ ایران کی سعودی عرب کے بارے میں تبدیل تغیّر پذیر پالیسی ہے۔

جب حسن روحانی اقتدار میں آئے تھے تو انھوں نے دوسرے ممالک کے ساتھ سیاسی سلسلہ جنبانی اور مذاکرات شروع کرنے کی وکالت کی تھی تاکہ ایران کو سیاسی اور اقتصادی تنہائی سے نکالا جاسکے کیونکہ اس صورت حال میں برسرقتدار رہنا معرضِ خطر میں تھا۔

حسن روحانی اور جواد ظریف نے ایران کے ''شیطان بزرگ'' امریکا سمیت بہت سے ممالک کے بارے میں پالیسیوں میں جوہری تبدیلی کی جبکہ سخت گیر ان پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے پر آمادہ نظر نہیں آتے تھے۔روحانی اور جواد ظریف نے امریکا اور مغرب کے بارے میں پالیسیوں پر عوامی سطح پر سخت گیروں کا مکمل طور پر یا جامع انداز میں ساتھ نہیں تھا لیکن وہ بند کمروں میں ایک ہی صفحے پر تھے۔

لیکن بعد میں روحانی اور ظریف نے ایک خاص ملک سے متعلق اپنے عوامی ایجنڈے اور پالیسی کو تبدیل کر دیا اور یہ ملک تھا سعودی عرب۔ آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کے سینیر عہدے داروں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف تند وتیز بیانات اور غوغا آرائی میں اضافہ ہوچکا ہے۔اس کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ خامنہ ای کم وبیش اپنی ہر تقریر میں سعودی عرب پر برس رہے ہیں۔

روحانی اور ظریف بھی سخت گیروں کے ایجنڈے میں شامل ہوگئے ہیں۔ایرانی صدر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اکہترویں سالانہ اجلاس میں تقریر اور اپنے ملک میں تقریریں،وزیر خارجہ جواد ظریف کے بیانات اور نیویارک ٹائمز میں ایک مضمون، یہ سب ایران کی سعودی عرب کے بارے میں نئی پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں۔

اعتدال پسند متعدد وجوہ کی بنا پر سعودی عرب کے خلاف مخاصمت کے معاملے میں سخت گیر کی صفوں میں شامل ہوکر زیادہ خوش باش نظر آرہے ہیں۔اس کی سب سے اہم وجہ تو یہ ہے کہ اعتدال پسندوں کو شیطان بزرگ امریکا کی جگہ ایک اور ملک درکار تھا جس کو وہ اپنی تنقید کا نشانہ بنا سکیں۔ان کے نقطہ نظر سے ایران کے امریکا کے ساتھ تعلقات کی بہتری ضروری تھی کیونکہ اس سے اس کو عالمی سطح پر (ایک بہتر ملک ہونے کا) قانونی جواز مل سکتا تھا۔

اس سے نہ صرف ایران کی امریکی اتحادیوں کے ساتھ تجارت میں اضافے سے آمدن بڑھی ہے بلکہ واشنگٹن اور اس کے اتحادیوں پر یہ بھی دباؤ پڑا ہے کہ وہ ایران کی خطے میں فوجی مہم جوئی سے آنکھیں موند لیں۔نیز اس سے اسلامی جمہوریہ ایران کی سیاسی اسٹیبلشمنٹ کو اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

ایران اور امریکا کے تعلقات میں تزویراتی تبدیلی کے حوالے سے اعتدال پسندوں کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ عوام کے سامنے اپنا ایک چہرہ دکھائیں اور بند کمروں میں ان کا دوسرا چہرہ ہو، کیونکہ اس طرح وہ اپنے مفادات کا بہتر انداز میں تحفظ کر سکتے تھے۔

بڑی تصویر

ایرانی ارباب اقتدار وسیاست کے اپنے امریکی ہم منصبوں سے حالیہ معانقے اور دست پنجے سے وہ بڑی تصویر مسخ ہورہی تھی جو یہ ظاہر کرتی ہے کہ امریکا ایران کا ''بزرگ شیطان'' ہے۔ سخت گیروں کی جانب سے اعتدال پسندوں پر اس بنا پر بھی تنقید کی جارہی تھی کہ وہ امریکا کے معاملے میں نرم رو ہیں اور وہ اسلامی جمہوریہ کو اس کا ایک ''دشمن'' ہونے کے طاقتور ہتھیار سے محروم کررہے ہیں۔

ایران کو اپنی بقا کے لیے ایک ''دشمن'' کی ضرورت ہے۔یہ پہلو اسلامی جمہوریہ کی 1979ء میں قیام کے بعد سے خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون رہا ہے۔اب سعودی عرب کی جانب اس مخاصمت کا رُخ ہی اس کا حل ہوسکتا تھا۔

مزید برآں ایران سعودی عرب پر اپنا بڑا دشمن ہونے کا بھی لیبل لگا رہا ہے اور یہ ایک بہت ہی طاقتور آلہ ہے۔ایران اس ''دوسرے'' ملک کے خلاف اپنی صفوں میں اتحاد و یک جہتی کے لیے نسلی اختلافات (عرب بمقابلہ فارسی) فرقہ وارانہ پلیٹ فارم ( سنی بمقابلہ شیعہ) اور جغرافیائی سیاسی اختلافات ( اسد نواز ،حزب اللہ نواز،فلسطین نواز بمقابلہ حزب اختلاف) کو بروئے کار لا رہا ہے۔

اس سے پاسداران انقلاب کو ایران میں سنی آبادی یا حزب اختلاف کے خلاف کریک ڈاؤن کا موقع ملا ہے اور ان پر سازشی اور سعودی عرب کے اتحادی ہونے کے الزامات عاید کیے جارہے ہیں۔ مذکورہ بالا وجوہ کی بنا پر ایران کی سعودی عرب کے بارے میں پالیسی میں تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔

ایران کا یہ بیانیہ کہ کون اس کا ''بڑا دشمن'' ہے،تبدیل ہورہا ہے اور اب اعتدال پسند اور سخت گیر عوامی اور نج کی سطح پرالریاض سے متعلق سخت پالیسیوں کے معاملے میں یک جا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے نظر آتے ہیں۔
---------------------------------
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ ایرانی ،امریکی ماہر سیاسیات اور ہارورڈ یونیورسٹی کے اسکالر ہیں۔وہ بین الاقوامی امریکی کونسل کے صدر ہیں اور کولمبیا یونیورسٹی میں خلیجی منصوبے کے بھی رکن ہیں۔انھیں مختلف امریکی جامعات سے اعزازات اور انعامات مل چکے ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:Dr.rafizadeh@fas.harvard.edu, @Dr_Rafizadeh.

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے