اس وقت عراق کے شمالی شہر موصل میں جاری لڑائی کی جانب ہرکسی کی توجہ مرکوز ہے۔ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلاف اس جنگ کے نتائج قریب قریب پہلے سے طے شدہ ہیں مگر شامی شہر حلب کی قسمت کا ابھی فیصلہ ہونا ہے جہاں روسیوں اور ایرانیوں نے جنگ بندی کے بین الاقوامی مطالبات کو مسترد کردیا ہے۔انھوں نے وہاں محصور لوگوں،خواہ وہ عام شہری ہیں یا مسلح افراد، کے انخلاء کے لیے مطالبے کو بھی ٹھکرا دیا ہے۔

جیش الحُر کے چند سو جنگجو حلب کے علاقوں میں موجود ہیں۔ان کے علاوہ النصرۃ محاذ (فتح الشام محاذ) اور دوسرے مسلح دھڑوں سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی وہاں موجود ہیں۔دہشت گرد تنظیم النصرۃ کے جنگجو ہر کسی سے لڑرہے ہیں۔

یہ باغی گروپ گذشتہ کئی مہینوں سے ان فورسز سے لڑرہے ہیں جنھوں نے حلب کے علاقوں کو تباہی سے دوچار کردیا ہے۔انھوں نے حلب کے مکینوں کو نکال باہر کرنے کے لیے تباہی مسلط کی ہے۔وہ انھیں ہلاک بھی کررہی ہیں تاکہ شام کے اس سب سے بڑے شہر میں حتمی جنگ کی تیاری کی جاسکے اور اس شہر پر قبضہ کیا جا سکے۔

کیا موصل اور حلب میں ان دونوں جنگوں سے داعش کے خلاف جاری عراقی جنگ کا خاتمہ ہوجائے گا اور شام میں جاری خانہ جنگی بھی ختم ہوجائے گی۔میں اس امکان کو مسترد کرتا ہوں۔

ان دونوں ملکوں کا مسئلہ شامی نظام (رجیم) کی نوعیت اور عراقی رجیم کی کارستانیوں سے جڑا ہوا ہے۔دیوار سے لگانے اور استیصال کے نتیجے میں شاید موصل اور حلب کو مسلح افراد سے پاک کردیا جائے۔ان دونوں شہروں سے مسلح افراد کا انخلاء ہوسکتا ہے یا انھیں ہلاک کیا جا سکتا ہے لیکن بعد میں ہم یہ سنیں گے کہ یہ مسلح افراد دوسرے شہروں یا صوبوں میں موجود ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے موجودہ ارباب اقتدار کے ہوتے ہوئے مسلح افراد کا ازسر نو ظہور کوئی مشکل کام نہیں ہے کیونکہ وہ تبدیلی اور اصلاحات کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔

یہ ایک خانہ جنگی ہے جو عمومی صورت حال کی عکاسی کرتی ہے اور یہ غیرملکی گروپوں کے ساتھ کوئی جنگ نہیں ہے کیونکہ ایسے گروپوں کا تو بآسانی قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔عرب سُنی عراق کی کل آبادی کا 20 فی صد ہیں جبکہ ملک کی کل آبادی میں سے 40 فی صد سُنی ہیں۔اب قریباً ایک کروڑ لوگوں کا کیسے خاتمہ کیا جاسکتا یا ان تمام کو کیسے دیوار سے لگایا جاسکتا ہے؟

شام میں سُنی ملک کی کل دو کروڑ سے زیادہ آبادی کا 80 فی صد ہیں۔اگر پچاس لاکھ یا ایک کروڑ شامی دربدر اور مہاجر ہوں تو ملک میں موجود باقی آبادی میں پھر بھی سُنیوں ہی کی اکثریت ہے۔

عراق کا پارلیمانی نظام فرقہ وارانہ نظم ونسق کے رجحان کا حامل ہے۔موصل کو آزاد کرانے کے بعد کے مرحلے میں یہ سب کچھ عراق کی علاقائی تحدید پر مختتم ہوگا اور اس طرح سے ملک کم مستحکم ہوگا۔

درایں اثناء حلب کو مسلح افراد ہی نہیں، اس کے بیشتر مکینوں سے پاک کرنے کے بعد لڑائی کسی اور شہر میں منتقل ہوجائے گی اور وہاں جھڑپیں جاری رہیں گی کیونکہ تنازعے کا کوئی سیاسی حل تلاش نہیں کیا جائے گا۔

سیاسی حل

کوئی سیاسی حل اس لیے نہیں نکل سکتا ہے کیونکہ ایران اس شخص کو برسر اقتدار رکھنے پر مصر ہے جو اس تمام خونریزی کا ذمے دار ہے اور جس کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں۔انھوں نے حزب اللہ ملیشیا کو شام کے پڑوسی ملک لبنان کی بالواسطہ حکمراں بنا رکھا ہے اور اس جماعت نے گذشتہ بیس سال کے دوران اس چھوٹے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کردیا ہے۔

فرق صرف یہ ہے کہ شام ایک بڑا ملک ہے اور اس کا جغرافیہ خود بولتا ہے۔وہ وسط میں واقع ہے۔وہاں رونما ہونے والے واقعات سے اس کے ہمسایہ ممالک ترکی ،عراق اور لبنان بھی نسلی ،فرقہ وارانہ اور جماعتی سطح پر متاثر ہوتے ہیں۔

انھیں عراق اور شام میں موصل اور حلب کو ''آزاد'' کرانے کی خوشی میں جشن منانے کی تیاری کرنے دیں۔ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ ان کے اس فاتحانہ جشن کا دورانیہ بہت تھوڑا ہوگا کیونکہ جنگیں ،اتحاد اور غیظ وغضب کا شکار قوم پرستوں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی جبکہ زرخیز زمین سے فائدہ اٹھانے والے عالمی دہشت گرد اپنا کام جاری رکھیں گے اور یوں خطے میں کشیدگی جاری رہے گی۔

مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والی فورسز نے موصل کا چاروں اطراف سے ایک بڑا محاصرہ کررکھا ہے۔خوشی سے سرشار جرنیل ٹیلی ویژن پر نمودار ہورہے ہیں۔سیاست دانوں میں قریباً ایک یقینی فتح کے دعوے کرنے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔وہ اس فتح کو اپنا ہی مرہون منت قرار دے رہے ہیں اور بین الاقوامی میڈیا کے ذرائع کو جنگ کے نتائج کا پہلے ہی سے پیشگی علم ہے لیکن ان کو بھی سیاست دانوں کی طرح یہ جاننے سے کچھ غرض نہیں ہے کہ بعد از جنگ کیا ہوگا۔

موصل اور حلب کی دو الگ الگ جنگیں دراصل ایک طویل جدوجہد کی غماز ہیں اور ایک منصفانہ سیاسی منصوبے کے بغیر دونوں ملکوں میں کوئی استحکام نہیں آئے گا۔
-----------------------------------
(عرب دنیا کے معروف صحافی اور تجزیہ کار عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے