امریکا نے مشرق وسطیٰ سے متعلق اپنی بنیادی پالیسیوں کو تبدیل کردیا ہے۔آیندہ چند برسوں کے دوران امریکا اور مغرب کی مشرقِ وسطیٰ سے متعلق پالیسی ایران مرتکز ہوگی اور وہ خطے میں ان کا تزویراتی اور جغرافیائی سیاسی اتحادی بن جائے گا۔دوسرے لفظوں میں وہ خطے میں پولیس مین بن جائے گا اور وہ یہ کردار 1979ء کے انقلاب سے قبل ادا کرتا رہا تھا۔

مگر اس سب کے باوجود سخت گیر ایرانی امریکا کے ایران سے متعلق ارادوں کے بارے میں سخت عدم اعتماد کا شکار ہیں۔پھر بھی بظاہر یہی لگتا ہے کہ جلد یا بدیر امریکا اور ایران بالآخر معمول کے مکمل سفارتی تعلقات استوار کر لیں گے۔

تعلقات کی تاریخ

اگر ایران ،مغرب اور امریکا،ایران تعلقات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ مشاہدہ کیا جاسکتا ہے کہ ایران صدیوں سے 1979ء تک مغرب کا اتحادی رہا ہے۔درحقیقت 1979ء سے ایران اور مغرب کے درمیان جاری تناؤ کو(اسی سال برپا کردہ انقلاب کے اصولوں اور نظریاتی اختلافات کی وجہ سے) ایک انحراف سمجھاجائے گا اور اس کو ایک قدر خیال نہیں کیا جائے گا۔

ایران میں تیل اور گیس کے ذخائر کی دریافت سے قبل بھی متعدد وجوہ کی بنا پر مغربی طاقتیں ایران کی جانب اپنے ایک اتحادی ،شراکت دار یا خطے میں پولیس مین کے طور پر دیکھتی رہی ہیں۔

سب سے پہلے ،مغرب کے نقطہ نظر سے ایران ایک اہم تزویراتی مقام پر واقع ہے اور وہ مشرق وسطیٰ کے عین وسط میں ہے۔دوم ایرانی آبادی غالب اکثریتی عرب آبادی والے خطے میں ایک نسلی اقلیت سمجھی جاتی ہے۔مغربی طاقتیں ایک عرصے سے اقلیتوں کو اکثریت کے ساتھ طاقت کا توازن قائم کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔ایران ایک مذہبی اقلیت کا بھی حامل ہے۔یعنی سنی اکثریتی خطے میں شیعہ رہ رہے ہیں۔

مزید برآں ایران نے ہمیشہ طاقتور رہنے اور جدید فوجی صلاحیتیں حاصل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کی ہے۔ایران مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا بڑا ملک اور خطے میں مصر کے بعد دوسرا بڑا گنجان آباد ملک ہے۔ عالمی سطح پر ایران آبادی کے اعتبار سے سترھواں اور دنیا کا اٹھارواں بڑا ملک ہے۔

تیل اور گیس کی دریافت کے بعد ایران کی مغرب کے لیے اہمیت بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔اس وقت وہ دنیا میں گیس کے بڑے ذخائر رکھنے والا دوسرا بڑا اور تیل کے ذخائر کا حامل چوتھا بڑا ملک ہے۔نیز ایران مشرق وسطیٰ کی دوسری بڑی معیشت ہے۔

امریکا ،ایران : بنیادی تبدیلی

ایران کے بارے میں امریکا کی پالیسی میں حالیہ تبدیلی مذکورہ بالا عوامل کے علاوہ متعدد حالیہ پیش رفتوں کی بھی مرہونِ منت ہے۔

اوّل، امریکا کے نقطہ نظر سے اگر بات کی جائے تو اس کے ہاں تیل کے ذخائر دریافت ہونے اور وہاں سے تیل نکالنے کے بعد اب واشنگٹن کو مشرق وسطیٰ کے کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں رہی ہے کیونکہ اس کے اپنے پاس تیل کے بہت زیادہ ذخائر ہیں۔ چنانچہ امریکی لیڈروں کے تخمینوں کے مطابق اگر تیل کو نکالا جاتا ہے تو ایران اپنے تزویراتی، جغرافیائی سیاسی محل وقوع کی بدولت دوسرے ممالک کو اہمیت دینا شروع کردے گا۔

دوم ،امریکی لیڈروں کی نظر میں ایران کے پاس دنیا کے گیس کے دوسرے بڑے ذخائر ہیں اور ان سے امریکی اتحادیوں یعنی یورپی ممالک کو روس پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس سے روس کے خلاف عالمی توازن اقتدار کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حق میں کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

سوم ، ایران پہلے ہی خطے کے متعدد ممالک (عراق ،شام ،لبنان ،بحرین) میں اپنے گماشتوں ،گماشتہ تنظیموں اور رابطوں کے ذریعے اپنا اثر ورسوخ بروئے کار لا رہا ہے۔امریکا کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو وہ ایران کے اتحادی کی حیثیت سے اور اس کی پالیسی پر اثر انداز ہوتے ہوئے خطے میں اپنے اثرورسوخ کو بالواسطہ طور پر مزید بڑھا سکے گا۔

چہارم ،امریکا جب ایران کا اتحادی بن جائے گا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرلے گا تو پھر اس کو خطے میں دوسرے ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات کو منقطع کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔امریکا خطے میں ایران کے اثر ورسوخ کا فائدہ اٹھائے گا اور اس کے علاوہ دوسرے ممالک کے ساتھ سیاسی ،اقتصادی اور سفارتی تعلقات کا بھی فائدہ اٹھائے گا۔اس سے امریکا کے ہاتھ میں ایک طاقتور لیور آ جائے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اس کو خطے میں سودے بازی کے لیے ایک ہتھیار بھی مل جائے گا۔

پنجم ،ایران کے پاس نہ صرف طاقتور فوجی قوت ( پاسداران انقلاب ایران اور القدس فورس) اور جوہری صلاحیتیں ہیں بلکہ اس نے خطے میں اپنا اثر بڑھانے اور مخصوص سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے دوسرے ملکوں (شام اور عراق ) میں فوجوں کو برسرزمین بھیجنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے۔

بہ الفاظ دیگر،امریکا اپنے جغرافیائی سیاسی مفادات کے لیے ایران کا اتحادی بن کر اس کی فوجوں کو استعمال کرسکتا ہے۔مزید یہ کہ ایران کی مشرقِ وسطیٰ میں سب سے زیادہ امریکا نواز سوسائٹی ہے۔

حالیہ پیش رفتوں کے بعد امریکا ایران کے حق میں اپنی مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی میں تبدیلی کو ایک ترجیح قرار دیتا ہے۔امریکا اور مغرب کے نقطہ نظر سے ایران ان کا فطری اتحادی ہے اور جیسا کہ وہ صدیوں تک رہا ہے۔ایران کی گذشتہ چند عشروں کے دوران امریکا اور مغرب کے ساتھ کشیدگی محض ایک تبدیلی تھی،ایک قدر نہیں تھی۔امریکا کی پالیسی میں تبدیلی کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ یہ کہ اگر واشنگٹن ایران کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار کرتا ہے تو ممکن ہے کہ خطے میں دوسرے ممالک شاید امریکا کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کرلیں۔

جغرافیائی ،سیاسی ،اقتصادی اور تزویراتی مفادات

مزید برآں امریکا کو ایران کے بارے میں اپنی پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی بھی لانا ہوگی تاکہ وہ اپنے طویل المیعاد جغرافیائی، سیاسی ،اقتصادی اور تزویراتی مفادات کا تحفظ کرسکے۔صدر براک اوباما نے متعدد مرتبہ ایرانی قیادت کی جانب مکمل سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ہاتھ بڑھایا ہے مگر ایران نے ہر مرتبہ اس دعوت کو ٹھکرا دیا ہے۔اس کے باوجود بھی امریکا اس کی جانب ہاتھ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

ایران کے سخت گیروں (بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور پاسداران انقلاب کی سینیر قیادت) کو اب بھی امریکا پر اعتماد نہیں ہے اور ان میں بعض غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں لیکن امریکا اس بات سے آگاہ ہے کہ جلد یا بدیر سرکردہ سخت گیروں کو منظرنامے سے ہٹا دیا جائے گا اور امریکا اور ایران 1979ء سے ماقبل کے دور کی جانب لوٹ جائیں گے جب ایران خطے میں امریکا کا پولیس مین تھا۔

حرفِ آخر یہ کہ مغربی طاقتیں اگر ایران کی بالادستی قائم کرنے کی خواہشات اور ارادوں کے حوالے سے خطے کی دوسری طاقتوں کی تشویش کو کوئی اہمیت نہیں دیتی ہیں تو اس سے خطہ مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگا اور خطے میں سکیورٹی کا مسئلہ دو چند ہو جائے گا۔نتیجۃً علاقائی کشیدگی بارود کا ڈھیر بن سکتی ہے۔

-----------------------------------
ڈاکٹر ماجد رفیع زادہ ایرانی نژاد امریکی ماہر سیاسیات اور ہارورڈ یونیورسٹی کے اسکالر ہیں۔وہ بین الاقوامی امریکی کونسل کے صدر ہیں اور کولمبیا یونیورسٹی میں خلیجی منصوبے کے بھی رکن ہیں۔انھیں مختلف امریکی جامعات سے اعزازات اور انعامات مل چکے ہیں۔ان سے ان پتوں پر برقی مراسلت کی جاسکتی ہے:Dr.rafizadeh@fas.harvard.edu, @Dr_Rafizadeh

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے