گذشتہ تین عشروں سے زیادہ عرصے کے دوران میں تارکینِ وطن کی کمیونٹی نے سعودی عرب کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ بہت سے لوگوں کا اب سعودی عرب دوسرا وطن ہے۔ان کے بچے یہاں پیدا ہوئے تھے،ان کے بچپنے کی یادیں یہیں محفوظ ہیں۔ وہ سعودی معاشرے میں اپنے آبائی شہروں سے زیادہ رچ بس چکے ہیں۔

میری ایک امریکی دوست نے ایک مرتبہ مجھے بتایا تھا کہ وہ جب اپنے آبائی وطن کو لوٹتی ہیں تو وہ خود کو اجنبی محسوس کرتی ہیں کیونکہ وہ گذشتہ پینتیس سال سے اپنے وطن سے دور ہیں اور سعودی عرب میں رہ رہی ہیں۔یہ ایک فطری بات ہے کہ آپ کا گھر وہی ہوتا ہے جہاں آپ رہ رہے ہوتے ہیں،جہاں آپ کا خاندان مقیم ہو اور آپ کے بچے پلے بڑھیں۔ وہیں آپ کے دوست اور ہمسائے ہوتے ہیں اور جہاں آپ کام کررہے ہوتے ہیں ،وہاں آپ کے ساتھی ہوتے ہیں۔

اسپانسرشپ کا نظام غلط اور غیر منصفانہ ہے۔یہ وقت سے متعلق ہے۔اب ہم نے اس کو تبدیل کیا ہے اور ہم نے ان تارکین وطن کو مستقل اقامت اور سرمایہ کاری کا حق دیا ہے جنھوں نے سعودی عرب کا اپنے دوسرے گھر کے طور پر انتخاب کیا تھا اور اس کی ترقی اور بہتری کے لیے کردار ادا کیا ہے۔انھیں سراہا جانا چاہیے اور ان سے احترام کا معاملہ کیا جانا چاہیے۔

میں نے جس کسی بھی تارکِ وطن سے بات کی ہے،اس نے گرین کارڈ کی خبر پر اپنی بے پایاں خوشی اور راحت کا اظہار کیا تھا۔حقیقت تو یہ ہے کہ انھیں اس سے شاید یہاں حتمی طور پر سرمایہ کاری کا موقع ملے گا اور وہ بے دخلی یا کفیل کی جانب سے ملازمت سے برطرفی کے کسی خوف کے بغیر آرام و سکون سے یہاں زندگی بسر کرسکیں گے۔

بوجھ اُترنا

مسلم اور عرب تارکین وطن محسوس کرتے ہیں کہ ان کا بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہے اور اب وہ امن سے رہ سکتے ہیں۔ان میں سے بہت سے لوگوں نے یہاں محض دولت کمانے کے لیے رہنے کا انتخاب نہیں کیا ہے بلکہ وہ اسلام کے دونوں مقدس مقامات مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی سرزمین پر خدمات انجام دینا چاہتے ہیں۔

مجھے یاد ہے کہ ایک پاکستانی اسکول ٹیچر سے جب میری طیارے میں سفر کے دوران ملاقات ہوئی تو اس نے مجھے بتایا کہ وہ سعودی مملکت کو چھوڑنے پر بہت افسردہ ہے۔اس نے بیس سال یہاں گزارے تھے لیکن اس کے آئی ٹی کے ماہر خاوند کے کفیل نے ان کے یہاں رہنے کا اقامہ منسوخ کردیا تھا جس کی وجہ سے وہ یہاں سے لوٹنے پر مجبور ہوگئے تھے۔وہ خاتون اور اس کا خاوند اب امریکا میں کام کرتے ہیں۔ان کے دو بیٹے ہیں اور ان کے پاس بھی امریکی گرین کارڈز ہیں۔

اس خاتون نے بتایا کہ امریکا ایک عظیم ملک ہے اور وہ وہاں رہنے کے فوائد محسوس کرسکتی ہیں لیکن اس کا دل مکہ اور مدینہ میں اٹکا ہوا ہے اور وہ اپنی باقی زندگی وہاں گزارنا چاہتی ہیں۔بدقسمتی سے اس خاتون اور اس کے خاندان کو مسترد کردیا گیا اور امریکا نے انھیں بڑے بھرپور طریقے سے خوش آمدید کہا تھا اور قبول کر لیا تھا۔

امریکا نے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے سائنس اور ٹیکنالوجی کے صف اول کے ماہرین کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں۔ پیشہ ور اور ہنر مند افرادی قوت کو شہریت اور گرین کارڈز دیے جاتے ہیں۔انھیں ان کے مکمل حقوق کے ساتھ قبول کیا جاتا ہے۔اس کے بدلے میں وہ روزگار کمانے کے لیے جانفشانی سے کام کرتے ہیں اور یوں امریکی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ ماہرین معیشت کے مطابق ہنرمند تارکین وطن کی آمد سے امریکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں اور گرین کارڈ کے تعلیم یافتہ اور ہنرمند حاملین نمایاں مالی قدر کے بھی حامل ہیں۔

تارکینِ وطن نے ماضی میں جس طرح سعودی عرب کی ترقی اور بہتری میں کردار ادا کیا ہے ،اسی طرح وہ مملکت کو علم پر مبنی معیشت میں تبدیل کرنے کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق گرین کارڈ سسٹم کے ذریعے سعودی عرب کو سالانہ دس ارب ڈالرز کی آمدن حاصل ہوگی یا وہ اتنی رقم ترسیلات زر اور دوسرے ذرائع کی مد میں بچا سکے گا۔

مواقع پیدا ہونا

سعودی عرب میں برسوں سے مقیم تارکین وطن کو سرمایہ کاری کے بہت تھوڑے مواقع حاصل رہے ہیں اور وہ سمندر پار اپنی رقوم بھجوانے پر مجبور کیے جاتے رہے ہیں۔انھیں محروم رکھا جاتا رہا ہے اور اس طرح ہمارا ملک خوشحالی کے بہت سے مواقع سے محروم ہو گیا تھا۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ منصوبے پر آیندہ پانچ سال کے دوران عمل درآمد کیا جائے گا اور اس کے تحت گرین کارڈ کے حاملین اپنی جائیدادیں خرید کرسکیں گے اور انھیں سعودی مملکت میں سرمایہ کاری کا موقع ملے گا۔ یہ توقع کی جاتی ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد میں کوئی تاخیر نہیں کی جائے گی۔

سعودی ویژن 2030ء میں حکومت کی کارکردگی بہتر بنانے اور افسرشاہی اور سرخ فیتے کے خاتمے کے لیے اقدامات بھی شامل ہیں۔اس پر عمل درآمد کے ذمے دار حکام کو قوم کو ناکام نہیں بنانا چاہیے اور اس ویژن کو حقیقت کا روپ دینےکے لیے لگن اور جانفشانی سے کام کرنا چاہیے۔

انھیں کامیابی کے لیے نائب ولی عہد ،نائب وزیراعظم دوم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کے وضع کردہ رہ نما اصولوں کی پیروی کرنی چاہیے۔ان کا کہنا ہے:
''ہم ڈیجیٹل خدمات میں تنوع لائیں گے اور ان کو وسیع کریں گے،ہم تاخیری حربوں اور رکاوٹیں حائل کرنے والی افسرشاہی کا خاتمہ کریں گے۔ہم فوری طور پر کثیرالجہت شفافیت اور احتساب کے لیے اصلاحات کو اختیار کریں گے۔حکومتی اداروں کی کارکردگی کی جانچ کرنے کے لیے ایک ادارہ قائم کریں گے اور اس کے ذریعے کسی بھی کمی، کوتاہی اور غفلت کے ذمے دار افسر اور اہلکار قابل مواخذہ ہوں گے۔ہم شفاف ہوں گے اور اپنی کامیابیوں کی طرح ناکامیوں کے بارے میں بھی کھلے پن کا مظاہرہ کریں گے اور ان کے ازالے کے لیے تجاویز کا خیرمقدم کریں گے''۔

آج حکام پر ریاست کی جانب سے یہ زوردیا جاتا ہے کہ وہ جب عوام سے کوئی معاملہ کریں تو ان کا احترام کریں۔ہمارے ملک کو ہر کسی کی حمایت کی ضرورت ہے۔ہم لوگوں کو مجبور نہیں کرسکتے ہیں کہ وہ وفادار اور تعمیری بنیں۔ہمیں سب سے پہلے ان کا اعتماد اور احترام حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

سعودی شہریوں اور تارکینِ وطن کو اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔اگر ان کے حقوق کو نظر انداز کیا جاتا ہے تو وہ اپنے حصے کا کردار ادا کرنے میں متردد ہوں گے اور انھیں سعودی ویژن 2030ء کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے حکومت کے منصوبوں کی حمایت میں بھی کوئی زیادہ دلچسپی نہیں ہو گی۔

----------------------------------
(ثمر فتانی جدہ براڈ کاسٹنگ اسٹیشن کے شعبہ انگریزی میں چیف براڈ کاسٹر کے طور پر فرائض انجام دے رہی ہیں۔وہ نشریاتی صحافت سے گذشتہ اٹھائیس سال سے وابستہ ہیں اور سعودی سیاست ومعاشرت سے متعلق موضوعات پر ان کے قلم سے تحریریں نکلتی رہتی ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے