براعظم افریقہ عجیب و غریب رسوم و رواج اور روایات کے حوالے سے مشہور ہے۔ تنزانیہ، برونڈی، روانڈا، کینیا اور یوگنڈا میں ایسے افراد بکثرت دکھائی دیتے ہیں جن کی رنگت ہی بھوری نہیں ہوتی بلکہ ان کے سر کے بال، بھنویں اور پلکوں کے بال بھی سفید ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ موروثی اور ناقابل علاج مرض ہے جس کا تعلق جینیاتی پیچیدگیوں سے ہے۔ مگر افریقی معاشرہ ایسے افراد کو ’’البائنو‘‘ کے نام سے جانتاہے۔ جب بھی کسی آتش فشاں کے پھٹ پڑنے کا خطرہ ہو، کسی طوفان کی آمد کا امکان ہو یا کسی اور قدرتی آفت کا خطرہ سروں پر منڈلا رہا ہو تو پہاڑوں کے دیوتا کو خوش کرنے کیلئے البائنو افراد کو بَلی چڑھایا جاتا ہے۔ افریقی قبائل کا عقیدہ ہے کہ ان البائنو افراد کی بھینٹ دینے سے دیوتائوں کی ناراضگی دور ہو جاتی ہے اور معاشرہ بہت بڑی تباہی و بربادی سے بچ رہتا ہے۔

بھینٹ، بَلی یا صدقہ دینے کا طریقہ کار بھلے مختلف ہو لیکن ہر ملک اور معاشرے میں یہ تصور کسی نہ کسی انداز سے پایا اور نباہایا ضرور جاتا ہے۔ ہمارے ہاں سیاست میں بھی قربانی کے بکروں کی ریت بہت پرانی ہے۔ ماضی قریب میں بھی جب قبلہ آصف علی زرداری صدر مملکت تھے تو آئے دن ایوان صدر میں کالے بکروں کا صدقہ دیئے جانے کی خبریں ملا کرتی تھیں۔ مگر ’’دیوتا‘‘ کالے بکروں کے بجائے ’’البائنو‘‘ کی بھینٹ مانگتے تھے۔ میمو گیٹ میں حسین حقانی کو بَلی چڑھایا گیا اور توہین عدالت کی پاداش میں یوسف رضا گیلانی کی قربانی دی گئی۔ میاں نواز شریف برسراقتدار آئے تو حسبِ دستور قربانی کے بکروں کی تلاش شروع ہوئی۔ صدقہ ہو یا قربانی، اس کے بھی اپنے لوازمات ہوتے ہیں۔ ہر ایک کی قربانی دی بھی نہیں جا سکتی اور ہر ایک کی قربانی قبول بھی نہیں ہوتی۔ جب پہلی قربانی کیلئے قرعہ فال مشاہد اللہ خان کے نام نکلا تو سیاسی تجزیہ نگار اس حسنِ انتخاب کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکے کیونکہ جب پرویز مشرف کے اقتدار کا سورج سوا نیزے پر تھا تو چوری کھانے والے مجنوئوں کی قطار میں مشاہد اللہ خان ہی تو وہ سرکشیدہ و سربکف سپاہی تھا جس کا سر پھٹا اور خون بہا۔

اب جب پرویز رشید سابق وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قربان ہوئے ہیں تو بھی داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے بغیر گزارہ نہیں۔ اس مرتبہ بھی قربانی کے لئے ’’البائنو قبیل‘‘ کے افراد میں سے اس سپاہی کو چن لیا گیا ہے جو ہر دور ِآمریت میں اگلی صفوں میں رہا، ابتلاء و آزمائش کے ہر دور میں ثابت قدم ثابت ہوا۔ جی ہاں پرویز رشید ہی جمہوریت کا وہ بے تیغ سپاہی ہے جسے ایوب خان، یحییٰ خان، ضیا الحق اور پرویز مشرف، چاروں کے دور آمریت میں پابند سلاسل رہنے کا اعزاز حاصل ہے۔ پرویز مشرف کے دور میں تو دوران حراست اس پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ ایسا بیہمانہ تشدد کیا گیا کہ رہا ہونے کے بعد کئی برس تک علاج ہوتا رہا۔ جب جمہوریت کے لئے قربانی دینے کا وقت آیا تو اس سے بہتر انتخاب اور کیا ہو سکتا تھا؟

تسلی اور تشفی دینے والے بھی کمال کرتے ہیں۔ ان کے خیر خواہ افسوس کا اظہار کرتے پھرتے ہیں کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں بیچارہ پرویز رشید ناحق اور بے قصور مارا گیا۔ جب ایسی باتیں سنتا ہوں تو سقراط کا خیال آتا ہے۔ جب سقراط نے زہر کا پیالہ منہ سے لگایا تو قریب موجود شاگرد اور دیگر چاہنے والے زار و قطار رونے لگے۔ سقراط نے پوچھا، کیوں آنسو بہاتے ہو؟ سب نے کہا، آپ بے قصور مارے جا رہے ہیں۔ سقراط نے ہنستے ہوئے کہا، بہت خوب یعنی تم یہ چاہتے ہو کہ میں کسی قصور پر مارا جائوں؟

قومی سلامتی کا معاملہ ہے ہی اس قدر حساس اور سنگین کہ پرویز رشید تو کیا کسی کو بھی بَلی چڑھایا جا سکتا ہے۔ لیکن جان کی امان پائوں تو عرض کروں، ٹی وی چینلز کے وہ پہنچے ہوئے انتہائی باخبر اینکرز جنہیں الہام ہوتا ہے اور جو آئے روز وزیر اعظم اور آرمی چیف کی دو طرفہ ملاقاتوں پر تجزیہ نگاری کی پٹاری کھولتے ہیں اور ہر بار ایک ہی سانپ نکالتے ہیں کہ شٹ اپ کال دیدی گئی ہے، لگی لپٹی رکھے بغیر صاف صاف کہہ دیا گیا ہے، کھری کھری سنا دی ہیں اور بس اب نواز شریف کا بوریا بستر گول ہونے والا ہے۔ کیا ایسی بے بنیاد، لغو اور بیہودہ باتیں قومی سلامتی کے زمرے میں نہیں آتیں کہ ان کو فیڈ اور پلانٹ کرنے والوں کا سراغ لگایا جائے؟

یادش بخیر ایسی ہی ایک ون ٹو ون ملاقات کی آڈیو لیک ہو گئی تھی۔ پروٹوکول کے مطابق جب ایسی اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں میں کیمرہ مین ریکارڈنگ کرتا ہے تو آواز ریکارڈ نہیں کی جاتی۔ مگر اس دو طرفہ ملاقات کی آواز نہ صرف ریکارڈ ہوئی بلکہ ٹی وی چینلز کو ایسے مخصوص جملے فراہم کئے گئے جن سے اپنے مرضی کی داستان گھڑی جا سکے۔ نشر ہونیوالی اس آڈیو لیک میں وزیراعظم کہتے ہیں، تاریخ دیدی گئی ہے اور آگے سے کہا جاتا ہے کہ آپ کو اس تاریخ سے پہلے کرنا ہے۔ یار لوگوں نے آڈیو لیک کرنیوالوں کی فرمائش کے عین مطابق اسے پاناما اسکینڈل سے جوڑ دیا کہ وزیر اعظم کو الٹی میٹم دیدیا گیا ہے۔ کیا سربراہ حکومت سے متعلق اس طرح کی بے بنیاد اور تضحیک آمیز باتیں کرنا قومی سلامتی کے منافی نہیں؟ انتشار اور انارکی پھیلانے والے وہ عناصر جواپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں بااثر حلقوں کی تائید و حمایت حاصل ہے، کیا ان کا یہ اقدام قومی سلامتی کے منافی نہیں؟ وہ غیر ریاستی عناصر جو کسی کی شہہ پر دندناتے پھرتے ہیں،کیا ان کا وجود قومی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں؟

بہر حال جمہوریت پسندوں کو دل شکستہ اور دل گرفتہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ وقتی پسپائی کا مطلب ہرگزیہ نہیں کہ لڑائی ختم ہو گئی ہے۔ بھینٹ لینے والے تو اپنا وقت گزار کر چلے جاتے ہیں اور پھر واپس نہیں آتے مگر قربانیاں دینے والے وقتی طور پر مُرجھا جاتے ہیں لیکن مرتے نہیں۔ وہ زندہ رہتے ہیں اور مناسب وقت آنے پر پھر محاذ جنگ کی طرف لوٹ آتے ہیں، ایک مرتبہ پھر مورچہ سنبھال لیتے ہیں۔ پرویز رشید جم کر کھڑا رہا اور اس کے بعد بھی جمہوریت کی بقاء اور سلامتی کی خاطر قربان ہونے والوں کی کوئی کمی نہیں۔

کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے
قتل گاہوں سے چُن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے