مجھے بعض لوگوں کی بات سن کر انتہائی حیرت ہوئی جنہوں نے اس امر کو قبول کرنے سے یکسر انکار کر دیا کہ ایرانی میزائل (میں اس کو حوثی میزائل نہیں کہوں گا) کا ہدف مکہ مکرمہ تھا۔ اسلامی عرب اتحاد اور جنرل احمد عسیری کے بیان کے مطابق یہ میزائل صعدہ کی ایک مسجد سے داغا گیا تھا۔

کچھ لوگ مکہ کا نام ذکر کرنے پر چراغ پا ہو گئے۔ ان کے نزدیک یہ سعودی عرب کی جانب سے اسلامی دنیا کی ہمدردیاں سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر ان لوگوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ میزائل کا رُخ مکہ کی جانب نہیں بلکہ جدہ کے ہوائی اڈے کی جانب تھا !

سعودی عرب کی انتظامیہ کی زبان میں مکہ مکرمہ کا مطلب ہے مقدس شہر جہاں مسجد حرام اور اور دیگر مقامات مقدسہ ہیں۔ تاہم جب مکہ صوبے کی بات کی جائے تو اس کا سلسلہ وسیع تر ہوجاتا ہے جس میں مکہ شہر کے علاوہ جدہ، طائف اور بعض دیگر شہر شامل ہیں۔

جہاں تک جدہ کے ہوائی اڈے کی بات ہے تو وہ مکہ کا "پھاٹک" جو سعودی عرب کے اندرون اور بیرون سے آنے والے معتمرین اور حجاج سے ہمیشہ کھچا کھچ بھرا رہتا ہے۔ تو کیا حوثی اور معزول صالح کے حامیوں کے لیے اس کو نشانہ بنانا "حلال" ہے!

حوثیوں اور ان کے حامیوں کی حماقت سے ہٹ کر دیکھا جائے تو مکہ مکرمہ کو نشانہ بنایا جانا خطرناک جارحیت ہے اور یہ بات ان لوگوں کو معلوم ہے۔ اسی واسطے یہ چاہتے کہ اس جرم کے سبب مرتب ہونے والے کسی بھی معنوی منفی اثر کو "زائل" کر دیا جائے۔

ہم نے دیکھا کہ عالم اسلام نے یمن میں حوثیوں اور صالح کی کٹھ پتلیوں کے ذریعے کرائی جانے والی "ایرانی" بم باری کی وسیع پیمانے پر مذمت کی۔ اسی واسطے ایرانی میڈیا اور عراق، لبنان، یمن اور مغرب میں اس کے رفیق اس موضوع سے توجہ ہٹانے کے لیے سرگرم ہو گئے۔

بہرکیف یہ پہلا موقع نہیں ہے جب مذہب کے نام پر حرمین کی حرمت پامال کرنے سے متعلق جرائم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔ اس سے قبل پرانے اور نئے خوارج ، سیاسی شخصیات، حکمراں اور خدائی کے دعوے دار ایسا کر چکے ہیں۔

تاریخ کی کتابوں میں آتا ہے کہ عباسی خلیفہ مامون کے دور میں بعض طالبین (ابو طالب کی اولاد) نے خلیفہ مامون کے خلاف انتقامی کارروائی کرتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں قبیح افعال کا ارتکاب کیا۔

ابو سرایا نامی ایک شخص «اہلِ بیت» کا انتقام لینے کے دعوے کے ساتھ نکل کھڑا ہوا۔ یہ 199ھ کی بات ہے جب ابو سرایا نے علویوں کو مکہ مکرمہ پر مسلط کروا دیا۔ اس کا حقیقی نام حسین بن حسن تھا۔ وہ یوم عرفہ کے روز مغرب سے قبل مکہ میں داخل ہوا۔ اس نے خانہ کعبہ کا غلاف یعنی کسوہ لوٹ لیا اور اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر ڈالا۔ اس کا مکہ میں ایک گھر بھی تھا جس کا نام "دارِ عذاب" تھا۔ اس نے اپنے پیروکاروں کو حرم مکی کے ستونوں پر متعین کر دیا۔

انہوں نے ان ستونوں سے سونا کھرچنا شروع کر دیا اور زمزم کی جالیوں پر لگے فولاد کو بھی اکھا ڑ لیا۔

عراق کے شہر بصرہ کا ایک علوی والی ابو سرایا کے پیروکاروں میں سے تھا۔ اسے "زيد النار" (آگ کی بڑھوتی) کا خطاب دیا گیا تھا کیوں کہ اس کے دور میں اہل بصرہ کو کثرت سے دانستہ آتش زدگی کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ جہاں تک یمن کا تعلق ہے تو وہاں براہیم بن موسی بن جعفر نامی ایک علوی نکلا جس کے سامنے عباسی والی بھاگ کھڑا ہوا۔ اس ابراہیم کو قصاب کا خطاب دیا گیا تھا کیوں کہ اس نے یمن میں بڑی تعداد میں لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔ (تفصیلات کے لیے مؤرخ محمد الخضری بک کی کتاب "محاضرات تاريخ الامم الاسلاميہ" الدولہ الامويہ والعباسيہ .. صفحہ 526 اور­ 528 ملاحظہ فرمائیں)۔ بشکریہ روزنامہ الشرق الاوسط

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے