گذشتہ ماہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور یونیسکو میں اسرائیلی ،فلسطینی تنازعے اور اس کے دو مرکزی ایشوز یروشیلم ( مقبوضہ بیت المقدس) اور اسرائیلی آبادکاری پر چوبیس گھنٹے تک بحث کی گئی تھی۔ ان مباحث سے یہ تو توقع نہیں تھی کہ کوئی فوری تبدیلی آئے گی یا تعطل کا شکار امن عمل کی بحالی کے لیے کوئی نئی روح پھونکی جائے گی۔

مگر یہ جوں کی توں صورت حال ( اسٹیٹس کو) کے حامی لوگوں کے لیے ایک واضح علامت تھی کہ عالمی برادری اس ایشو کو پبلک راڈار سے غائب نہیں ہونے دے گی۔یہ اور بات ہے کہ وہ اس مرحلے پر کوئی فیصلہ کن اقدام کے لیے تیار بھی نہیں ہے۔

سلامتی کونسل میں بحث کا موضوع تھا:''غیر قانونی اسرائیلی آباد کاری :امن اور دو ریاستی حل کی راہ میں حائل رکاوٹ ''۔اس میں کوئی شک نہیں اور رکن ممالک یہی خیال کرتے ہیں کہ امن مذاکرات میں موجودہ تعطل کی بڑی وجہ یہ آبادکاری ہی ہے۔

سب سے متنازعہ معاملہ اقوام متحدہ کے تحت عالمی ثقافتی ادارے یونیسکو میں منظور کردہ قرار داد سے ہوا ہے۔ اس کے ذریعے مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم شہر میں واقع مسجد الاقصیٰ ( ٹیمپل ماؤنٹ) کے احاطے میں اسرائیل کے یک طرفہ اقدامات کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔اس نے غیر ضروری طور پر اس تاریخی جگہ سے یہودی عوام کے تاریخی تعلق کے بارے میں بھی سوال اٹھایا ہے۔

اسرائیل نے اس کے ردعمل میں جو تنقید کی ہے، وہ روایتی طور پر اقوام متحدہ کے اداروں پر معمول کا عاید کردہ الزام ہی ہے۔اسرائیل ان پر یہ الزام عاید کرتا چلا آرہا ہے کہ وہ پیدائشی طور پر اسرائیل مخالف ہیں اور وہ صہیونی ریاست کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔

سب سے بدتر یہ معاملہ ہوا ہے کہ اسرائیل سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیم بی تسلیم اور ایک اور تنظیم ''اب امن'' کی امریکی شاخ کے نمائندوں کو نیویارک میں سلامتی کونسل میں گفتگو کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔اسرائیلی حکومت اس پر بہت سٹپٹائی ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ان کے وزراء یہ فیصلہ نہیں کرسکے ہیں کہ اس شو میں کون بڑا ولن تھا۔سلامتی کونسل، جس نے انھیں مدعو کیا تھا یا وہ دونوں بہادر مگر متنازعہ امن کارکنان ،جنھوں نے دعوت نامے کو قبول کیا تھا۔

سچ تو یہ ہے کہ اسرائیلی حکومت کو خود کو اور اپنی آبادکاری کی پالیسی کو اس تمام صورت حال کا مورد الزام ٹھہرانا چاہیے۔اسرائیل اس عالمی رائے عامہ کو مسلسل نظرانداز کررہا ہے کہ مغربی کنارے پر قبضہ اور یہودی آبادکاری میں توسیع نے دو ریاستی حل کی بنیاد پر کسی امن سمجھوتے کو ناقابل عمل بنا دیا ہے۔

ویٹو طاقت

سلامتی کونسل کے رکن ممالک پر ایک نظر ڈالنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جبلی طور پر اسرائیل مخالفت سے کوسوں دور ہیں۔مثال کے طور پر امریکا سلامتی کونسل میں ایک سے زیادہ مرتبہ یہودی آباد کاری کی مذمت میں قراردادوں کو ویٹو کرچکا ہے۔یہ پالیسی صدر براک اوباما اور نیتن یاہو کی حکومت کے درمیان شخصی اختلافات کے باوجود برقرار رہی ہے۔

تاہم اس بحث کے موقع پر امریکی نمائندے ڈیوڈ پریس مین نے واشنگٹن کی جانب سے اسرائیلی آبادکاری کے منصوبے کی سخت مخالفت کی تھی اور اس موقف کا اعادہ کیا تھا کہ'' امریکا کے نزدیک یہ بستیاں امن کے لیے زہر قاتل ہیں اور اس سے برسرزمین ایک ریاست کی حقیقت کی راہ ہموار ہوگی''۔

یہ بیان اسرائیلیوں کے لیے آنکھِیں کھول دینے والا ہونا چاہیے کیونکہ یہ ان کے ملک کے سب سے بڑے اتحادی اور دوست کا تبصرہ تھا۔ مزید برآں پوتین کا روس بھی اسرائیلی آباد کاری پر تنقید میں پیچھے نہیں رہا ہے اور اس نے اس کو امن کی راہ میں ایک رکاوٹ قرار دیا ہے حالانکہ نیتن یاہو ولادی میر پوتین کو خود سے سیاسی طور پر زیادہ قریب قرار دیتے ہیں۔

اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے نے غیر قانونی یہودی بستیوں اور فلسطینی مکانوں کو گرانے کی مذمت کی۔یہ قبضے کے خلاف سب سے سخت بیان تھا۔اسرائیل نے 2006ء کے بعد فلسطینیوں کے 1113 مکانوں کو مسمار کردیا ہے جسے سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ سلامتی کونسل کے کسی ایک رکن نے بھی اسرائیل کی یہودی آباد کاری کے حق میں کوئی کلمہ خیر نہیں کہا ہے۔

اسرائیلیوں کے نزدیک ''بی تسلیم'' کے ڈائریکٹر حجئی ایل ایڈ کے سلامتی کونسل کے روبرو پیش ہونے کے بعد آبادکاری کے ایشو پر بحث سے شاید سب سے زیادہ تنازعہ پیدا ہوا ہے اور یہ بھی سوال پیدا ہوا ہے کہ ایک اسرائیلی کو تقریر کے مواد سے قطع نظر اپنے گھر سے دور گندے پوتڑے دھونے کا حق حاصل ہے بھی یا نہیں۔ انھیں تشدد کا نشانہ بنانے اور ان کی تنظیم کو سزا دینے کے مطالبات سے اس تنظیم کے کام کے معیار سے زیادہ اسرائیلی معاشرے اور جمہوریت کی حالت کی عکاسی ہوتی ہے۔

غیر منصفانہ قبضہ

انسانی حقوق کی ایک تنظیم جتنا اچھا کام کرتی ہے ،اس کے اسی قدر زیادہ دشمن (اور دوست بھی) ہوتے ہیں۔ڈائریکٹر نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی نا انصافیوں بشمول فلسطین پر قبضے اور غزہ میں اسرائیل کے فلسطینی زندگیوں پر کنٹرول ،غربِ اردن اور مشرقی بیت المقدس پر قبضے کو ختم کرائے۔اس سے اسرائیل میں رائے عامہ متاثر ہوگی اور تقسیم ہوگی۔

ان کے صورت حال کی جبرواستبداد پر مبنی نوعیت کے اس تجزیے کے باوجود اسرائیلی اپنی ذہنی ساخت کے مطابق موجودہ صورت حال کا اخلاقی اور قانونی جواز پیش کرسکتے ہیں یا اس کو پائیدار قرار دے سکتے ہیں۔ نہ ختم ہونے والے قبضے سے فلسطینی معاشرے پر بظاہر تباہ کن اثر پڑا ہے اور اس سے اسرائیل کا بھی اخلاقی اور سیاسی تانا بانا ایک مختلف انداز میں تیزی سے متاثر ہورہا ہے۔ اس کے خلاف مسٹر ایل ایڈ نے جو انتباہ جاری کیا ہے،اس کو غیر محب وطن فعل نہیں سمجھا جانا چاہیے بلکہ یہ ایک دلیری کا مظہر ہے،اس سے اسرائیل کی طویل المیعاد سکیورٹی بہتر ہوگی اور اسرائیلیوں ،فلسطینیوں اور باقی عالمی برادری کی بھلائی ہی ہوگی۔

ایک اور سوال ،جو اسرائیلی حکومت کو خود سے پوچھنا چاہیے اور وہ یہ کہ اسرائیل 1967ء میں دنیا کے سب سے مقبول ممالک میں شمار ہوتا تھا مگر اب وہ اس مقبولیت سے گر چکا ہے اور اس کے اقدامات کی وجہ سے اس پر مسلسل تنقید کی جارہی ہے حالانکہ اس نے مختلف شعبوں میں ناقابل یقین کامیابیاں حاصل کی ہیں۔میں یہ تو نہیں کہنا چاہتا کہ بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل پر جو الزامات عاید کیے جاتے ہیں،وہ ہمیشہ درست بھی ہوتے ہیں۔

یونیسکو کی جانب سےمقدس مقامات کے حوالے سے فلسطینیوں اور مسلمانوں کے حقوق کا دفاع اس طریقے سے کہیں بہتر انداز میں کیا جاسکتا ہے کہ ان کے یہودی عوام کے ساتھ ناقابل تنسیخ تاریخی تعلق کو بھی تسلیم کیا جائے۔ البتہ اگر یہودی آباد کاری کا عمل جاری رہتا ہے اور فلسطینیوں کے حقوق کی خلاف ورزی جاری رہتی ہے تو اسرائیل اور اس کی پالیسیوں کے بارے میں ہمدردی کم تر ہوتی چلی جائے گی۔ اس کو نیتن یاہو حکومت کی جانب سے کسی امن سمجھوتے تک پہنچنے کے لیے نیم دلانہ کوششوں سے اور زیادہ مہمیز ملی ہے۔
________________________
(یوسی میکل برگ رائل انسٹی ٹیوٹ برائے بین الاقوامی امور، چیتم ہاؤس لندن میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا پروگرام کے ایسوسی ایٹ فیلو ہیں۔وہ عالمی تنازعات کے حل اور ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے پروگرام سے وابستہ ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے