امریکہ کے ساتھ ایک اور نائن الیون ہو گیا ہے۔ پندرہ سال پہلے گیارہ ستمبر 2001ء کو اسامہ بن لادن نے واشنگٹن اور نیو یارک پر حملے کئے تھے جس کے بعد مسلمانوں کیلئے دنیا بدل گئی تھی۔ پندرہ سال کے بعد امریکہ پرایک اور خطرناک حملہ ہوا ہے۔ اس مرتبہ یہ حملہ اسامہ بن لادن نے نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ جمہوریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا پچھلے کئی ماہ سے دنیا کو بتا رہا تھاکہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک بد تمیز، بد تہذیب، ظالم، جھوٹا، دغاباز، نسل پرست، مسلمان دشمن اور متعصب شخص ہے۔ اس کے مقابلے پر ہلیری کلنٹن انتہائی شائستہ، مہذب، انسان دوست اور امن پسند خاتون ہیں۔

امریکی میڈیا مسلسل یہ بتا رہا تھا کہ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں ہیلری کلنٹن واضح برتری کے ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دیدیں گی لیکن امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج نے دنیا کے طاقتور ترین ملک کے میڈیا کی ساکھ کو بالکل اسی طرح زمین بوس کر دیا جس طرح پندرہ سال قبل نائن الیون کو نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت دھڑام سے زمین بوس ہو گئی تھی۔ نائن الیون کے بعد امریکہ کےساتھ الیون نائن کے دن جو ہوا اس میں ہم سب کیلئے ایک بہت بڑا سبق ہے۔ 2016ء کے گیارہویں مہینے کی نویں تاریخ کو امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا کہ میڈیا کنگ میکر نہیں ہوتا۔ میڈیا کو خریدا جا سکتا ہے لیکن میڈیا کے ذریعہ عام ووٹر کے دل ودماغ کو نہیں جیتا جا سکتا۔

امریکہ کے 240 اہم اخبارات نے ہیلری کلنٹن کی کھلی حمایت کا اعلان کیا۔ امریکی ٹی وی چینل سی این این کو کلنٹن نیوز نیٹ ورک کہا جانے لگا۔ ٹرمپ کی حمایت میں صرف 19 اخبارات سامنے آئے ایک طرف نیویارک ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ، لاس اینجلس ٹائمز، بوسٹن گلوب اور سان فرانسسکو کرانیکل جیسے بڑے اخبارات کے ایڈیٹوریل بورڈز نے ہیلری کلنٹن کی حمایت کا اعلان کیا دوسری طرف ٹرمپ کے ساتھ لاس ویگاس ریویو، سانتا بابرا نیوز اور فلوریڈا ٹائمز جیسے غیر معروف اخبارات تھے۔ رائے عامہ کا سروے کرنے والے تمام اداروں نے بھی ہیلری کلنٹن کی فتح کا دعویٰ کیا لیکن یہ سروے بھی غلط نکلے۔

ریٹنگ سسٹم بھی جھوٹا نکلا کیونکہ ریٹنگ کرنے والے تمام ادارے بڑے شہروں میں بیٹھ کر اندازے لگاتے رہے لیکن الیکشن کے دن امریکہ کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے دیہاتی ووٹروں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹ دیکر صحافت کے نام پر بزنس کرنے والے میڈیا کی اصلیت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ یو ایس اے ٹو ڈے وہ واحد اخبار تھا جس نے ہیلری کلنٹن کی حمایت سے گریز کیا لیکن ٹرمپ کی بھرپور مخالفت کی۔ امریکی ووٹروں کی اکثریت نے یو ایس اے ٹو ڈے کی بھی سنی ان سنی کر دی۔

دوسرے الفاظ میں امریکی ووٹروں کی اکثریت نے امریکی نظام کے خلاف بغاوت کر دی۔ یہ وہ نظام تھا جس میں جمہوریت سرمایہ داروں کی لونڈی بن چکی تھی ہیلری کلنٹن نے صدارتی الیکشن کی مہم میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کی۔ ان کے مقابلے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو زیادہ فنڈز نہ ملے اور وہ اپنی جیب سے رقم خرچ کرتے رہے۔ جن اخبارات اور ٹی وی چینلز کو ہیلری کلنٹن نے زیادہ اشتہارات دیئے وہ ہیلری کے گن گاتے رہے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف نت نئے اسکینڈل سامنے لاتے رہے۔ ٹرمپ کے خلاف سامنے آنے والے اکثر الزامات غلط نہیں تھے لیکن ٹرمپ نے ان تمام الزامات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک خطرناک راستہ اختیار کیا۔

ٹرمپ نے اچھی اچھی باتیں کرنے کی بجائے مسلمانوں اور غیر مقامی پناہ گزینوں کے خلاف نفرت کو اپنا سیاسی ہتھیار بنایا۔ یہ وہ نفرت تھی جو اکثر امریکی گوروں کے دلوں میں چھپی بیٹھی تھی لیکن وہ اس نفرت کو زبان پر نہیں لاتے تھے بہت سال پہلے امریکی دانشور سیموئیل پی ہنٹینگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کا نظریہ پیش کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ مغربی تہذیب اور ہندو تہذیب ایک اتحاد بنا کر اسلامی تہذیب کے خلاف صف آراء ہونے والی ہے اور چینی تہذیب کا اسلامی تہذیب کے ساتھ اتحاد بنےگا۔ یہ نظریہ نائن الیون سے سات سال قبل پیش کیا گیا جس کے خد وخال نائن الیون کے بعد کافی واضح ہو گئے لیکن 9 نومبر 2016ء کو امریکہ کے صدارتی الیکشن کے نتائج نے تہذیبوں کے تصادم کے خطرے کو ایک زندہ حقیقت بنا کر ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ وہ ٹرمپ جس نے امریکہ میں مسلمانوں کا داخلہ بند کرنے کا اعلان کیا تھا وہ صدارتی الیکشن میں کامیابی حاصل کر چکا۔ ری پبلکن پارٹی کے کچھ مسلمان رہنما یہ تسلی دے رہے ہیں کہ گھبرائیے نہیں ٹرمپ اقتدار سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے لیکن امریکی مسلمان خوفزدہ ہیں ۔

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد وہ کینیڈا، یورپ اور متحدہ امارات کی طرف ہجرت کے راستے ڈھونڈ رہے ہیں ۔ ٹرمپ نے صدر منتخب ہونے کے بعد اپنی پہلی تقریر میں ہیلری کلنٹن کو ایک سخت جان سیاسی حریف قرار دیتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ آج کے بعد سے وہ ان تمام امریکیوں کے صدر بھی ہیں جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا ۔ انہوں نے اپنی تقریر کے ذریعہ یہ پیغام دینے کی کوشش کی وہ امریکہ کو آگے لیکر جائیں گے لیکن یہ تقریر کرتے ہوئے انہیں اچھی طرح پتہ تھا کہ اپنے ووٹروں سے کئے گئے وعدے پورے کئے بغیر وہ اپنا اقتدار قائم نہیں رکھ سکیں گے اور یہ وعدے پورے کرنے کیلئے وہ جو کچھ بھی کریں گے اس کا نتیجہ تہذیبوں کے تصادم کی صورت میں نکلے گا اور دنیا تیسری عالمی جنگ سے بھی دوچار ہو سکتی ہے ۔

اس حقیقت میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ نے اوباما کے دور حکومت میں چین کے خلاف بھارت کے ساتھ اتحاد بنا لیا تھا اور اگر ہیلری کلنٹن جیت جائیں تو بھی پاکستان کو زیادہ فائدے کا امکان نہیں تھا لیکن ٹرمپ کی فتح کے بعد امریکہ کے اندر اور باہر توڑ پھوڑ کا سلسلہ تیز ہو جائے گا ۔ ٹرمپ کی فتح پر سب سے زیادہ خوشی ماسکو میں منائی گئی ۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے کچھ لیڈروں کا کہنا ہے کہ روسی صدر پیوٹن خفیہ طور پر ٹرمپ کی مدد کر رہے تھے تاکہ ٹرمپ کو امریکہ کا صدر بنا کر انہیں امریکہ کے گوربا چوف میں تبدیل کر دیں۔

گوربا چوف سابق سوویت یونین کے آخری صدر تھے جن کی پالیسیوں سے دنیا کی دوسری سپر پاور ٹوٹ گئی تھی۔ اب پیوٹن کی طرف سے ٹرمپ کے ذریعہ دنیا کی واحد سپرٹاور کو توڑنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے امریکہ میں ایسے نسلی، لسانی و مذہبی فسادات کرائے جا سکتے ہیں جن کے نتیجے میں گورے اور کالے، مقامی و غیر مقامی اور مسلمان و مسیحی امریکیوں میں غلط فہمیاں پیدا ہوں گی۔ یہ غلط فہمیاں نئے نئے تضادات پیدا کریں گی۔

ٹرمپ ان تضادات پر بمشکل قابو پا سکیں گے اور یوں پیوٹن امریکہ کو اس کے اندرونی معاملات میں الجھا کر سوویت یونین کے زوال کا بدلہ لینے کی کوشش کریں گے۔ اگر امریکہ کی عورتیں ہیلری کلنٹن کو امریکی تاریخ کی پہلی خاتون صدر بنوا لیتیں تو شاید ٹرمپ کی صورت میں ایک نیا گوربا چوف امریکہ کا صدر نہ بنتا لیکن امریکی عورتوں کی اکثریت نے ہیلری پر اعتماد کا اظہار نہیں کیا۔ امریکہ نے امریکہ کے خلاف فیصلہ دے دیا اور سرمایہ دارانہ جمہوریت امریکہ کے گلے کا پھندا بن گئی۔ بشکریہ روزنامہ 'جنگ'

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے