ٹرمپ جیتا واشنگٹن میں بھنگڑے نئی دہلی میں ڈالے جارہے ہیں۔ دیوالی گذرنے کے بعد گھی کے چراغ سارے بھارت میں بے وقت کیوں جلائے جاررہے ہیں۔ اسکے برعکس ساری دنیا ٹرمپ کی فتح کو انسانیت کیلئے بدشگونی سمجھ رہی ہے۔ حصص کی عالمی منڈی (Global Stock Exchange) کریش کررہی ہے اگر ٹرمپ نے اپنے آپ کو امریکہ تک محدود رکھا تو انسانیت ہولناک تباہی سے بچ جائے گی کیونکہ وہ امریکہ، امریکیوں کیلئے کا نعرہ لگا کر وہائٹ ہائوس پہنچ رہا ہے۔

بھارت میں خوشی کے چراغ ٹرمپ کی پاکستان اورمسلمانوں کے خلاف ازلی دشمنی کی وجہ سے جلائے جارہے ہیں۔ ٹرمپ ماضی میں پاکستان کے بارے میں کھل کر اپنے ’’نیک‘‘خیالات کا اظہار کرتارہا ہے ’’ پاکستان پر دبائو برقرار رکھنے کیلئے بھارت کو استعمال کرنا چاہیے جس کے پاس اپنے قابل اعتماد ایٹمی ہتھیار اور بہت بڑی طاقت ور فوج موجود ہے۔ ہمیں بھارت کے ذریعے پاکستان پر دبائو بڑھانے کی حکمت عملی کئی دہائیوں پہلے اختیار کرنا چاہیے تھی‘‘

اے خاصہ خاصان رُسل وقت دعا ہے
ٓاُمت پہ تیری آکے عجب وقت پڑا ہے

بزرگ دانشور اور اخبار نویس یٰسین صابر بتارہے تھے کہ ٹرمپ اپنے طبقہ اشرافیہ سے بغاوت کرکے متوسط طبقے کے عام امریکی خاص طور نوجوانوں کو روشن اور خوشحال مستقبل کے خواب دکھا کر گھروں سے نکال کر پولنگ سٹیشنوں تک لانے میں کامیاب رہا ہے۔ اس نے امریکی قوم پرستی کے بھولے بسرے خواب کو دوبارہ زندہ وجاوید کرکے رنگ دار تارکین وطن کی آباد کاری کو بھی چیلنج کیا ہے۔ ہر زندہ وجاوید معاشرے کی طرح امریکی اپنے اندرونی مسائل پربتدریج قابو پالیں گے کیونکہ اجتماعی ادارہ جاتی رد عمل کا سامنا کرنا امریکہ میں صدر سمیت کوئی بڑے سے بڑا عہدیدار نہیں کر سکتا۔

ٹرمپ کی کامیابی نے طاقتور امریکی ذرائع ابلاغ کو بھی خاک چاٹنے پر مجبور کردیا ہے امریکی اخبارات اور ٹی وی چینلزنے کھل کر ٹرمپ کی مخالفت کی تھی اور اسے ’’سیاسی جوکر‘‘ بنا کر پیش کیا تھا لیکن ٹرمپ نے تعصب اورنفرت کی آگ بھڑکا کر امریکی قوم پرستی کاجھنڈا لہرایا اورتوقعات سے بڑھ کر کامیابی حاصل کرلی۔ ٹرمپ نے بڑی کامیابی سے شہروں سے دور دیہاتی ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں پر لا کھڑا کیا جو امریکی انتخابی عمل سے کئی دہائیاں پہلے لاتعلق ہوچکے تھے۔ خداکرے کہ ٹرمپ اپنے داخلی سماجی مسائل کو سلجھانے میں اُلجھا رہے اور اپنے آپ کو امریکی براعظم تک محدود رکھے بصورت دیگر ہماری خیر نہیں،عالمی سطح پر جنوبی ایشیا گذشتہ دودہائیوں سے عالمی آویزشوں کیلئے ’’کھیل کا میدان‘‘ بنا ہوا ہے۔ امریکی ہر قیمت پر چین کا راستہ روکنا چاہتے ہیں۔ گرم پانیوں کی طرف اسکے بڑھتے قدم روکنا چاہتے ہیں۔ مودی اس کھیل میں امریکیوں کا ہم قدم اور ہمنوا ہے اگر ٹرمپ نے اس خطے میں توازن کادامن ہاتھ سے چھوڑ دیا تو ہولناک تیسری عالمی جنگ کوبھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، ٹھنڈے ٹھار دانش چینیوں اور گرم مزاج پیوٹن کا رد عمل انسانی تہذیب کے مستقبل کا فیصلہ کریگا۔

کہتے ہیں ری پبلکنز کو پاکستانی جرنیل بہت بھاتے ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کو پارلیمانی جمہوریت کی نمائش کا شوق ہوتا ہے لیکن امریکی خارجہ تعلقات کی تشکیل میں ’’امریکی مفادات‘‘ بنیادی پتھر کا کردار ادا کرتے ہیں ان گھنائونے مفادات کی تکمیل کیلئے انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر لیبیا کو خاک وخون میں نہلا دیا جاتا ہے، وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلاش کی آڑ لے کر عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جاتی ہے، اسامہ بن لادن کے ایٹم بم اور کیمیاوی ہتھیار رکھنے کے دعوے کا ڈھنڈورا پیٹ کر افغانستان کا تورا بورا بنا دیا گیا۔ شام میں جمہوریت اور وسیع البنیاد حکومت کیلئے درندگی کا برہنہ کھیل جاری ہے جبکہ مصر میں علاقائی زمینی حقائق کو بنیاد بنا کر بے دردی سے صدر مرسی کی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹایا گیا۔

مدتوں پہلے مادام کلنٹن نے نہایت ڈھٹائی سے اعتراف کیا تھا کہ امریکی خارجہ پالیسی میں انسانی حقوق اور جمہوریت کا تحفظ زمینی حقائق کے مقابلے میں ثانوی حیثیت رکھتے ہیں جس کا کرشمہ یہ ہے کہ شام میں وحشت اور درندگی کا برہنہ کھیل جاری ہے۔ قطر کی شہری ریاست میں شاہجہان اور اورنگ زیب والا طربیہ ڈرامہ دہرایا گیا۔ باپ سوئٹزرلینڈ میں شاہانہ جلا وطنی گذار رہا ہے شیخ الثانی ’’گڈ گورننس‘‘ کی نئی مثالیں قائم کر رہا ہے۔ خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک اسی ڈگر پر چل رہے ہیں۔ نادیدہ اشاروں پر بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک کے سارے ڈانڈے نئی دہلی اور براستہ جنیوا واشنگٹن سے جا ملتے ہیں۔

عالمی سطح پر صرف پیوٹن ہی ٹرمپ کی راہ روک سکتا ہے جس طرح اس نے شام کے محاذ پر صرف دوہفتوں میں پاکستان سمیت ساری دنیا سے جمع کئے گئے مجاہدین صف شکن کو ہوائی بمباری کرکے تتر بتر کردیا تھا اور دہشتگردی کیخلاف امریکی جنگ کا پول کھول دیا تھا پاگل بش کے بعد چھچھورے ٹرمپ اور خبط عظمت کا شکار قدامت پسندوں (Neo Cons) سے انسانیت کو واسطہ پڑیگا جس کیلئے میدان جنگ جنوبی ایشیا بنے گا۔یہ تلخ حقیقت ہے جب بھی ری پبلکنز برسر اقتدار آئے عالمی سطح پر بحران ضرور آیا ٹرمپ کون سے بحران اپنے جلو میں لائے گا۔

ٹرمپ کی ذہنی ساخت اور بے بنیاد اعتقادات کا تجزیہ کرتے ہوئے غیر جانبدار انگریز ماہرین نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو یقین ہے کہ سانحہ 9/11 2001-کے موقع پر عرب نژاد امریکیوں نے نیو جرسی میں جشن فتح منایا تھا اس لیے مساجد اور مسلمانوں کی کڑی نگرانی کی جانی چاہیے۔ ’’اسلامی دہشتگردی‘‘ سے نمٹنے کیلئے ’’واٹر بورڈنگ ‘‘جیسے ہتھکنڈوں کا استعمال بالکل درست ہے وہ میکسیکو اور امریکی سرحد پر نئی ’’دیوار برلن‘‘ تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کا خرچ میکسیکو ادا کریگا۔ ٹرمپ نے ایک کروڑ 10لاکھ غیر قانونی تارکین وطن کو نکالنے کا اعلان بھی کیا تھا اسی طرح مسلمانوں کے امریکہ داخلے پر مکمل پابندی لگانے کا عزم بھی ظاہر کر چکا ہے۔ شامی تارکین وطن کو واپس شام دھکیلنے کی منصوبہ بندی بھی کرتا رہا ہے۔ خواتین کے بارے میں ٹرمپ پتھر کے دور والے جاہلانہ خیالات رکھتا ہے کہ عورت کا استعمال 30سال کی عمر تک ٹھیک ہے اسکے بعد 35 سال تک پہنچنے سے پہلے اس سے جان چھڑا لینی چاہیے۔

اپنے حریف روسی صدرپیوٹن سے ٹرمپ اظہارعشق کرتا رہتا ہے اسکے خیال میں ولادی میر پیوٹن حقیقی عالمی رہنما ہے اسی طرح مختلف معاملات پر چینی قیادت کو سبق سکھانے کا کھلم کھلا اظہار بھی کرچکا ہے وہ کہتا ہے کہ نیٹو رکن ممالک کو امریکہ پر انحصار ختم کرنا ہو گا اس طرح جنوبی کوریا اور جاپان کو امریکی چھتری کی بجائے خود ایٹمی ہتھیار بنانا ہوں گے ہم کب تک ان کا دفاع کرتے رہیں گے۔

حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے سیکریٹری اطلاعات سینیٹر مشاہد اللہ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ دلچسپ تحقیقاتی کمیٹی کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ عامر رضا اپنی مبینہ نیک نامی بچانے کیلئے آج ہونے والے پہلے اجلاس میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو سکتے ہیں جس کے بعد نئے سربراہ کی تلاش اور تقرر میں نومبر تو آسانی سے گذر جائے گا اسی حوالے سے ایک اور خبر یہ ہے کہ دلچسپ تحقیقاتی کمیٹی کے خالق اور پیش کار وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نامعلوم طبی وجوہات کی بنا پر بیرون ملک روانہ ہو رہے ہیں اور وہ ایک ماہ وہی قیام کریں گے۔

کہتے ہیں کہ عقل مند کیلئے اشارہ ہی کافی ہوتا ہے اس سارے کھیل کے پس پردہ نومبر کا مہینہ بخیر و عافیت گذارنا مطلوب ہے ۔۔۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے