امریکا، فری میسن کا بابل اپنے پہلے عیسائی صدر کو خوشی، حیرت اور خوف سے دیکھ رہا ہے۔ جی ہاں، پہلا عیسائی صدر۔ کہتے ہیں کہ جوزف کینڈی بھی عیسائی تھے لیکن کسی قدر، اور بل کلنٹن بھی تھوڑے بہت عیسائی تھے لیکن ڈونلڈ ٹرمپ پہلے پورے عیسائی صدر ہیں۔ 45 امریکی صدور، اوپر بیان کئے گئے دو صدور کو جزوی طور پر الگ کرکے، عیسائی نہیں تھے، مسیونک تھے اور ان میں سے اکثر بوھیمین گروو اور ہیل فائر کلب (آتش دوزخ کا کلب) کے رکن تھے جہاں شیطان کی پوجا ہوتی ہے، اور انسان بلی چڑھائے جاتے ہیں، کالے جادو کے عمل کئے جاتے ہیں اور شیطان سے مدد طلب اور وصول کی جاتی ہے اور یاد ہو گا کہ امریکا نے خاص طور سے مسلمانوں کے لئے جو میزائل بنائے ہیں ان میں سے ایک کا نام ہیل فائر ہے اور یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ فری میسن یہودی مذہب کی تنظیم نہیں ہے، یہودی ایک خدا کو ماننے والے ہیں جو گمراہ ہو گئے جبکہ فری میسن وہ ہیں جنہوں نے شیطان سے اتحاد کیا۔ اصطلاحی معنوں میں نہیں، لغوی معنوں میں اور بابل سے جو جادو چلا، اسے انہوں نے ایسی ترقی دی جیسی عربوں اور یورپیوں کی بنا کردہ سائنس کو دی ہے۔

جادو اور فری میسن کا رشتہ پہلے دن سے ہے یعنی اڑھائی ہزار سال سے۔ فری میسن کے لوگ تب بھی خفیہ سوسائٹی کی شکل میں کوجود تھے اور سائنس نہیں، جادو کی مدد سے انہیں پتا چلا کہ اٹلانٹس کا گم شدہ ملک (براعظم) اٹلانٹک سمندر کے اس پار موجود ہے اور وہ ایک دن دریافت ہوگا اور وہاں سائنس، علم اور ٹیکنالوجی اتنی ترقی کرے گی کہ یہ نیا بابل دنیا پر حکومت کرے گا اور اس کے پاس بے شمار ہتھیار ہوں گے اور ساری دنیا اس سے ڈرے گی۔ اڑھائی ہزار سال پہلے ایسی کوئی سائنس نہیں تھی کہ انہیں امریکا کا علم ہوجاتا اور امریکا کیسا ہوگا، یہ جاننے کا کوئی تعلق تو سائنس سے ہے ہی نہیں۔ فری میسن اڑھائی ہزار سال سے یہ راز جانتی چلی آئی ہے چنانچہ چار صدی پہلے امریکا دریافت ہوا تو پورے یورپ سے بابلی ''تارکین وطن'' کا برین ڈرین امریکا میں ہوا۔ اور امریکا کی خفیہ لیکن کھلی ہوئی علامت کیا ہوگی، یہ بھی فری میسن نے طے کیا اور مصر کی آئسس دیوی یا مصر کی عشتار دیوی جسے بائبل نے طوائفوں اور ظالموں کی ماں لکھا ہے، کا مجسمہ بنا کراسے امریکا کے ساحل پر مجسمہ آزادی بنا کر نصب کیا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا بت ہے جسے بنانے کا فیصلہ بھی فری میسن نے کیا، اس کی ڈایزائننگ، انجینئرنگ، کرافٹنگ سب بھی اسی نے کی۔ غور فرمائیے! طوائفوں کی ماں اور ظالموں کی ماں۔ امریکا کا کردار ان دو اصطلاحوں میں کیسے بیان کردیا گیا۔

اس نئے بابل کے بارے امریکی صدر اور اس نئی ریاست کے سارے بانی پیدائشی عیسائی تھے لیکن حضرت یسوع ، بائبل، آسمانی باپ، نیز باپ بیٹا روح القدس کے بارے میں جو عقائد رکھتے تھے، وہ نقل نہیں کئے جاسکتے۔ نقل کفر، کفر نہ باشد کے طور پر بھی اس لئے کہ یہاں ''نقل کفر، کفر ہی باشد'' کا معاملہ ہے ۔ یہ عیسائیت کے دشمن تھے اور ان کے خیالات خفیہ نہیں تھے۔ کتابوں میں سب لکھا ہے، شاید جلد ہی اس پر کچھ تحریر کرنے کا موقع ملے۔ ان فری میسن صدور نے امریکا کے ذریعے فری میسن کانیو ورلڈ آرڈر بنایا اور اسے نافذ کیا۔ نئے بابل کے پہلے عیسائی صدر کی آمد سے نیو ورلڈ آرڈر کو اگر زیادہ نہیں تو کچھ نہ کچھ خطرہ ضرور لاحق ہوگیا ہے۔

امریکا کی اکثریت، بھاری اکثریت عیسائی ہے۔ گزشتہ رات جناب نجم سیٹھی نے کہا کہ اکثریت پرٹسٹنٹ عقیدے کی ہے لیکن انہیں کچھ غلط فہمی نہیں ہوئی۔ پروٹسٹنٹ (اپنے کئی فرقوں سمیت) اکثریت نہیں رکھتے البتہ امریکا کا سب سے بڑا مذہبی گروپ ہیں۔ یہ لوگ امریکا میں 40سے 41 فیصد کے درمیان ہیں۔ کیتھولک 20 سے 21 فیصد ہیں، پھر دوسرے عیسائی فرقے ہیں اور ان کے علاوہ سیاہ فام پروٹسٹنٹ نہیں، کیتھولک مسیحیوں کے ووٹ بھی لئے۔ لیکن یہ سارے مسیحی سفید فام تھے، ان میں لاطینی اور سیاہ فام شامل نہیں تھے۔ لاطینی ہسپانوی لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ ان میں وہ بھی ہیں جو امریکی ساحلوں پر ہسپانیہ کے قبضے کے وقت سے یہاں مقیم ہیں اور وہ بھی جو لاطینی امریکی ملکوں خاص طور سے میکسیکو سے آئے۔

امریکی اسٹیبلشمنٹ پر فری میسن کا تسلط ہے اسی لئے وہ پہلے دن سے ٹرمپ کیخلاف سرگرم ہوگئی۔ مسیونک میڈیا، مسیونک سرمایہ دار، مسیونک کلچرل کلب سب نے ٹرمپ کیخلاف مضبوط اتحاد بنایا اور ڈالروں کی بوریوں کے منہ کھول دیے۔ امریکا کا شیطان صدر بش ری پبلکن پارٹی کا رکن ہے لیکن اس نے اپنی ہی پارٹی کے ٹرمپ کو ووٹ نہیں دیا، کس لئے؟ صاف ظاہر ہے، ٹرمپ فری میسن کو قبول نہیں، اس لئے۔ فری میسن کا امریکا میں سب سے بڑا گڑھ کیلے فورنیا ہے، یہاں سے ٹرمپ کو بری طرح شکست ہوئی۔ فری میسن کے زیر تسلط ہالی ووڈ بھی اسی ریاست میں ہے اور فری میسن ی وہ امپائر جو بچوں کی نہایت طلسماتی برین واشنگ کرتی ہے یعنی ڈزنی کارپوریشن اور ڈزنی لینڈ بھی یہیں ہیں۔ امریکا کے سارے شیطان کے ٹرمپ کے خلاف ہو گئے لیکن ٹرمپ جیت گیا ۔ ایک ہی برس میں فری میسن کی یہ دوسری شکست ہے ۔ پہلی شکست برطانیہ کا وہ ریفرنڈم تھا جس کے نتیجے میں برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہو گیا ۔ اب کیا ہو گا۔

مختصر اشارے۔ سب سے اہم نیٹو کا مستقبل ہے ۔ امریکا اس کا زیادہ کفیل نہیں رہے گا اور نیٹو ممالک کو دفاع پر خود انحصاری بڑھانا ہو گی۔ اسرائیلی سرپرستی پہلے کی طرح نہیں ہو گی لیکن اس پر دباؤ بھی نہیں رہے گا۔ یوں فلسطینی ریاست (نام نہاد) کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ شام میں اوباما نے روس کو فری ہینڈ دیا تھا ۔ یہ فری ہینڈ جاری رہے گا لیکن اس فرق کے ساتھ کہ یہ اعلانیہ ہوگا کہ جس کی وجہ سے شہری آبادی پر بمباری کے خلاف یورپی یونین بھی دکھائی دینا بند کر دے گی۔روس کا خیال ہے کہ وہ دس لاکھ شہری ہلاک کر کے شام کا مسئلہ حل کرے گا ۔ اب اس کیلیے یہ ہدف حاصل کر ناآسان ہو جائے گا۔ سعودی عرب اور ترکی سے دوستی بحال بڑھانے کی کوشش ہو گی ، یہ کیسے کامیاب ہو گی جبکہ شام میں ٹرمپ روس کو فری ہینڈ دے گا، دیکھنے والی بات ہے۔ پاکستان سے قدرے لاتعلقی ہو گی جس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر آئین اور پارلیمنٹ کی بالا دستی کے امکانات بڑھ جائیں گے کیونکہ ٹرمپ کا امریکا پاکستان پر مسلط ''ممی ڈیڈی گروپ ''کی پہلے جیسی سرپرستی نہیں کرے گا۔ امریکا اب تک پاکستان کی قومی سلامتی کا محافظ رہا ہے (ایک کمزور مگر سالم پاکستان) اب پاکستان کو دفاع پر توجہ دینا ہو گی۔ (امریکا بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے اثرات ایران پر بھی پڑے اس لیے یہ منصوبہ ملتوی والے خانے میں ہے)۔

امریکا کے اندر جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ امریکا کے سیاہ فام اور لاطینی لوگ دنیا کے سب سے بڑے جرائم پیشہ لوگ ہیں ۔ سیاہ فام شہری اس لیے کہ دورے غلامی میں ان پر بڑے ظلم ہوئے اور غلامی ختم ہونے کے بعد بھی ان سے نسلی امتیاز جاری رہا اور وہ ''جرم'' کا سہارا لینے پر مجبور ہو گئے لیکن لاطینی لوگ اس لیے بے رحم قاتل اور مجرم ہیں کہ جرم اور گناہ ان کے ''جینز''میں ہیں ۔ عالمی تجارتی ورلڈ آرڈر متاثر ہو گا اور کارپوریٹ کلچر زک لگے گی ۔

ایسا بظاہر نظر آ رہا ہے لیکن دو باتیں اور بھی ہیں ۔ ایک یہ کہ اسٹیبلشمنٹ ان کا کتنا ساتھ دے گی۔ ممکنہ، اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر چلنے کیلئے ٹرمپ اپنی پالیسی میں کچھ تبدیلی کریں، دوسری یہ کہ ہو سکتا ہے جوزف کینڈی کی طرح ٹرمپ کو بھی رستے سے ہٹا دیا جائے۔

ٹرمپ کے خلاف کیلیفورنیا میں سخت رد عمل آیا۔ یہ علاقہ شدادوں اور نمرودوں کی جنت ہے، یہاں ہر عمارت منارہ بابل ہے۔ ایک پیشگوئی کئی سال پہلے کی یاد آ رہی ہے کہ کیلے فورنیا امریکا سے علیحدگی اختیار کرنے والی پہلی ریاست ہو گی۔ واللہ عالم۔ بشکریہ روزنامہ "جہان پاکستان"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے