صدر اوباما کی نصف مدتِ صدارت گزرنے پر ہی متعدد عرب ممالک میں تبدیلیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئیں جہاں جمہوریت نام کی حد تک تو داخل ہوئی تھی تاہم عملی نفاذ کے حوالے سے کئی دہائیاں دور ہوچکی تھی۔

آمروں نے حکمرانی کی اور پھر سڑکوں پر آ پڑے۔ اس عوامی بیداری کی لہر کو ابتدا میں "عرب بہاریہ" کا نام دیا گیا۔

اس وقت سے عصر حاضر کی دنیا عوام اور حکمراں طبقے کے درمیان صریح تنازعے میں داخل ہو گئی۔

سابق برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل کہتے تھے کہ "جمہوریت بدترین نظام حکومت ہے لیکن ان نظاموں سے بہتر ہے جو اب تک آزمائے جا چکے ہیں"۔

امریکی عوام نے متنازعہ شخصیت کے حامل تاجر ڈونلڈ ٹرمپ کو چار سال کے لیے اپنا صدر منتخب کر لیا ہے۔ اگرچہ آخری حد تک اندازے کے مطابق وہ نصف عوام کی ترجمانی کرتے ہیں۔

خواتین ، آفت زدہ اقوام اور مسلمانوں کے خلاف بیانات کی وجہ سے مشہور نسل پرست ڈونلڈ ٹرمپ جنوری 2017 میں وہائٹ ہاؤس میں داخل ہوں گے۔

تاہم نئے امریکی صدر کے بارے میں کہی جانے والی تمام تر باتوں کے باوجود اس بات سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے امریکا کی عصری تاریخ میں سماجی، معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے ایک نئی حالت کو جنم دیا ہے۔

"کاروباری دنیا کی ایک بہت بڑی مچھلی" جو کسی سیاسی گھرانے سے نہیں آئی اور جس نے اپنے بیانات کے ذریعے سیاست کے بنیادی اصولوں پر کاری ضرب لگائی.. اسے امریکیوں نے اپنا صدر چننے کا فیصلہ کر لیا۔

منتخب صدر امریکی معاشرے کے ایک طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ آسان اور عام فہم زبان میں گفتگو کرتے ہیں جس کو آج کی نسل کی ایک بڑی تعداد سمجھتی ہے۔ اس نسل نے ٹرمپ کی شخصیت کے سبب ان کو منتخب نہیں کیا بلکہ اس نے سیاسی ورثے، سیاسی عناد اور مخملی معاشرے کے خلاف ووٹ دیا ہے۔

امریکا کی سیاسی، سماجی، اقتصادی اور عملی ثقافت سے قطع نظر.. ٹرمپ سڑکوں پر بولی جانے والی زبان میں بات کرنے والے عوامی مقبولیت کے حامل صدر ہیں۔

اگر "عرب بہاریہ" نمائندوں کے انتخاب کے لیے مطلوب جمہوری سیاسی ثقافت سے محروم عوام کے لیے اپنا راستہ چننے کے حوالے سے درست تھی .. تو اب یہ ہے "بہارِ امریکا" جس نے واشنگٹن اور نیویارک کے در ودیوار کے لیے معروف ہر شخصیت سے دست بردار ہو کر ٹرمپ کو صدر منتخب کر لیا۔

امریکا کی حیران کن صورت حال ملک کے اندرونی مستقبل میں آئندہ انارکزم سے خالی نہیں۔ جہاں تک بین الاقوامی طور پر تعلق ہے تو آئندہ انارکزم اُس حکمت عملی کے ضمن میں واشنگٹن کا نیا ماسک ہو سکتا ہے جس کا خاکہ امریکا کے اعلی ترین مفاد میں تیار ہوگا۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے