جس طرح مذہبی مبلغین گناہوں کے پھیل جانے کے سبب یوم حساب قریب آنے کے خطرات سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ،بالکل اسی طرح لکھاری اور تجزیہ کار گذشتہ چند ماہ کے دوران میں یہ باور کراتے رہے ہیں کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ ریاست ہائے متحدہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو اس کے تباہ کن مضمرات ہوں گے۔

بعض نے تو مبالغہ آرائی اور غوغا آرائی کی حد ہی کردی تھی اور وہ انھیں کتا ،سؤر اور بعض اوقات پاگل اور جانگلو بھی قرار دیتے رہے جبکہ انھوں نے اس امکان کو یکسر مسترد کردیا کہ وہ صدر بھی منتخب ہوسکتے ہیں۔ تقریر کی آزادی ہر شخص کو تنقید کرنے کا حق عطا کرتی ہے لیکن افسوس اس حق کو نفسیاتی لحاظ سے سخت اور غیر لچک دار وژن کو پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

اب ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے مضبوط ملک کے سرکاری طور پر صدر منتخب ہوچکے ہیں۔اس لیے بہتر یہ ہوگا کہ ان تمام بیانات اور کسی ایک طرف نفسیاتی جھکاؤ کو نظرانداز کردیا جائے اور مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اپنے اپنے نقطہ نظر کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر بات کرنے سے پہلے ہم ہلیری کلنٹن سے گفتگو کا آغاز کرتے ہیں۔وہ اگرچہ ایک کہنہ مشق سیاست دان ہیں لیکن ان کی خارجہ پالیسیاں ہمارے خطے سے کوئی مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔ وہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی پرجوش داعی اور وکیل رہی ہیں اور انھوں نے عرب ممالک میں درانداز ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں کے معاملے میں نرم روی اختیار کی تھی۔ وہ اسلامی سیاسی گروپوں کی ہمدرد ہیں اور ان کا مؤقف یہ ہے کہ وہ سخت گیر اسلامیت کا بہتر توڑ ہیں۔

اس کی یہ وضاحت کی جاسکتی ہے کہ یہ تو سادہ انداز میں لبرل امریکی انکار ہے۔یہ تو ایک ہی سکے کے دورُخ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وہ امریکا کی پہلی خاتون صدر منتخب ہوجاتیں تو یہ ایک تاریخی واقعہ ہوتا لیکن اگر ان کی پالیسیاں ایرانی منصوبے کی طرف داری کرتی ہیں اور اس سے ہمارے مفادات کو زک پہنچتی ہے تو پھر ان کے صنفی فرق کا کچھ مطلب نہیں رہ جاتا ہے۔

ہلیری کلنٹن شام میں مداخلت کے معاملے میں درست تھیں لیکن وہ بعد میں اس مؤقف سے منحرف ہوگئی تھیں۔اوباما انتظامیہ ،جس کا ہمیں خطے میں بدترین تجربہ ہوا ہے،ہلیری کی جیت کی صورت میں وہی رہتی اور محض چہروں کا ردو بدل ہوتا۔اس انتظامیہ کو دوبارہ برسراقتدار دیکھنا خوشی کا ایک لمحہ ہوتا۔

ٹرمپ سرمایہ دار کا ٹرمپ صدر سے موازنہ

ٹرمپ کو پڑھنا زیادہ پیچیدہ عمل ہے کیونکہ انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے مختلف مراحل میں اپنے بالکل مختلف کردار دکھائے تھے۔ٹرمپ سرمایہ دار کاروباری اور ٹرمپ امریکا کا صدارتی امیدوار ۔یہ دونوں کردار ایک دوسرے سے یکسر مختلف تھے اور ان دونوں کا، صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد انھوں نے جو تقریر کی ،اس سے کوئی تعلق نہیں تھا۔اس میں انھوں نے اپنی معروف بلند آہنگ انداز میں غوغا آرائی کے بجائے مفاہمانہ لب ولہجہ اختیار کیا۔

نومنتخب امریکی صدر نے اپنی انتخابی مہم کو بڑی مہارت سے چلایا تھا۔انھوں نے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کو راغب کرنے کے لیے متنازعہ بیانات داغے تھے۔مثال کے طور پر انھوں نے کہا کہ وہ مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی لگا دیں گے اور تمام غیر قانونی تارکین وطن کو بے دخل کر دیں گے۔بعد میں انھوں نے ان تند وتیز بیانات پر نظرثانی کی ہے اور مسلمانوں کے خلاف جارحانہ بیانات کو ان کی مہم کی ویب سائٹ سے عارضی طور پر حذف کردیا گیا تھا۔

اگر ٹرمپ کے بیانات کی روح کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے بعض درست اور عقلی نظر آتے ہیں۔امریکا اور میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر غیر قانونی تارکین وطن کی جوق در جوق آمد اور منشیات کی اسمگلنگ کے دھندے کو روکنے کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ تجویز کوئی متعصبانہ اور نسل پرستانہ نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ ایسا ظاہر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ بعض ممالک کے درمیان سرحد پر دیواروں کی تعمیر موثر ثابت ہوچکی ہے۔اس طرح کا منصوبہ اگر ہمارا کوئی عہدے دار تجویز کرتا تو اس کی پاسداری کی جاتی لیکن ٹرمپ نے جب اس سرحدی دیوار کی تعمیر کی بات کی تھی تو انھیں ایک بُرا نسل پرست قرار دیا گیا تھا۔ یہ سب میڈیا کی ٹرمپ مخالف مہم کا حصہ تھا۔یہ مہم صدارتی مہم کے دوران انھیں بے توقیر کرنے اور عوام کی نظروں سے گرانے کے لیے برپا کی گئی تھی اور ہم نے اس حربے پر یقین کر لیا تھا۔

ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکا میں داخلے پر مکمل پابندی سے متعلق اپنے سابقہ بیانات کو تبدیل کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ سخت گیر مسلمانوں اور اخوان المسلمون کے خلاف ہیں۔ ہم اس طرح کی پالیسی سے سب سے زیادہ فائدے میں رہیں گے،اگر ہم یہ پیش نظر رکھیں کہ دہشت گردوں نے امریکا کے بجائے عرب اور اسلامی ممالک میں محفوظ پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں۔اس پالیسی کے ذریعے ہلیری کلنٹن کی مفاہمانہ حکمت عملی کی نسبت ان دہشت گردوں کا زیادہ بہتر انداز میں استیصال اور قلع قمع کیا جاسکتا ہے۔

امریکی میڈیا نے اس بیان کو بڑی ہوشیاری سے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا تھا۔اس نے ایسا مسلمانوں کی محبت میں یا ان کے دفاع کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ اس کو ڈونلڈ ٹرمپ کے تشخص کو داغ دار کرنے کے لیے برپا کی گئی مذموم مہم اور انھیں ایک ریڈیکل ایونجیلسٹ ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

ہم نے اس منظم مہم کی وجہ سے ان کے ایرانی نظام اور داعش سے متعلق حوصلہ افزا بیانات اور ان کے عرب اتحادیوں سے اپنے ملک سے دوبارہ اتحاد قائم کرنے کے منصوبے پر کوئی توجہ مرکوز نہیں کی ہے حالانکہ صدر اوباما انھیں ماضی میں '' آزاد سوار'' قرار دے چکے ہیں۔

ایک کاروباری ٹرمپ اور صدارتی امیدوار ٹرمپ کے درمیان مجموعی طور پر ایک امتیاز ہے اور وہ یہ کہ وہ ایک لبرل روادار ہیں اور ان کے مسلمانوں یا تارکین وطن کے خلاف کوئی عزائم نہیں ہیں۔

ٹرمپ نے جب انڈیانا کے گورنر مائیک پینس کو اپنے ساتھی نائب صدر کے طور پر چُنا تھا تو اس سے ہی ان کی عقلیت پسندی کا واضح اشارہ مل گیا تھا۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق ان کی ممکنہ کابینہ میں دوسروں کے علاوہ نیوٹ گنگریچ ،باب کروکر اور روڈی جولیانی شامل ہوں گے۔یہ ری پبلکن شخصیات روسی ،ایرانی منصوبے کے مقابلے کے لیے ان کے وِژن کو آگے بڑھانے میں مہیج کا کام دیں گی۔

انھوں نے اپنی انتخابی فتح پر تقریر میں اپنے متنازعہ تندوتیز بیانات کو یہ کہہ کر تبدیل کردیا تھا کہ وہ مختلف پس منظر ،نسلوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے تمام امریکیوں کے صدر ہیں۔

حال ہی میں رو نما ہونے والے واقعات کا یہ ایک مختصر جائزہ ہے۔میرا نقطہ نظر ممکن ہے بالکل درست نہ ہو مگر اس کے باوجود ہم ان سیاسی تجزیوں کو مسترد کرتے ہیں جن میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ ٹرمپ نئے سٹالن یا میسولینی ہیں۔

-----------------------------------------------

(ممدوح المہینی العربیہ نیوز چینل کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ایڈیٹر ان چیف ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے