گزشتہ ہفتے ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات اور کانگریس کے انتخابات میں ڈالے جانے والے ایسے ووٹوں کی گنتی مکمل نہیں ہوسکی جو 8؍نومبر کو پولنگ اسٹیشنوں میں نہیں ڈالے گئے جن میں بیرون امریکہ مقیم ووٹروں، امریکی فوجیوں اور کسی عذر کے باعث 8؍نومبر کی بجائے ریاستی ضابطے کے مطابق میل سے یا کسی اور طور ووٹ ڈالے گئے شامل ہیں جنہیں (ABSENT) ووٹر کہا جاتا ہے۔ ان ووٹوں کی تعداد کوئی تھوڑی نہیں ہے اور ان کی گنتی مکمل ہونے میں اب بھی کچھ روز مزید لگیں گے۔ اسی طرح الیکٹورل ووٹ کے لئے نامزد 538افراد 19؍دسمبر کو اپنے الیکٹورل ووٹ کا استعمال کریں گے۔ یہ بھی درست ہے کہ الیکٹورل ووٹ ڈالنے والا کوئی بھی ووٹر معمولی سا جرمانہ ادا کرکے اپنے طے شدہ امیدوار کی بجائے اس کے مخالف کو ووٹ ڈال سکتا ہے۔ لیکن امریکی روایات اور نظام کی پختگی دیکھئے کہ عام شہریوں سے اب تک چھ لاکھ سے زائد ووٹ ہیلری کلنٹن نے ٹرمپ سے زیادہ حاصل کئے اور الیکٹورل ووٹرز نے ابھی ووٹ ڈالے بھی نہیں لیکن امریکی نظام کے مروجہ اصولوں کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کو مطلوبہ 270الیکٹورل ووٹ حاصل کرنے کا حقدار قرار دے کر امریکہ کا 45 واں منتخب صدر قرار دیا جا چکا۔

اگر ہلیری صرف تین ریاستوں پنسلوانیا، مشی گن اور وسکانسن میں 125000 ووٹ زیادہ حاصل کرلیتیں تو وہ امریکی تاریخ کی پہلی خاتون صدر منتخب قرار پاچکی ہوتیں۔ لیکن اس قدر سخت مقابلہ اور غیر یقینی صورت حال اور ٹرمپ سے زیادہ عام ووٹ حاصل کرنے والی ہلیری کلنٹن نے بھی اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے ٹرمپ کو کامیابی کی مبارکباد بھی دیدی اور منتخب صدر ٹرمپ نے وہائٹ ہائوس کا دورہ کرکے اوباما سے ہاتھ بھی ملالیا اور انتقال اقتدار کی ٹیم بھی تقرر کردی۔ امریکی انتخابی نظام کو دھاندلی زدہ کہنے والا ٹرمپ ہو یا کوئی اور امیدوار سب اس نظام کے فیصلوں کو تسلیم کرلیتے ہیں۔ اگر اتنا سخت انتخابی مقابلہ اور ووٹوں کی گنتی کا مرحلہ اور یہ صورت حال پاکستان میں ہوتی تو ہمارے سیاست دان اب تک مارشل لا کا مطالبہ، گھیرائو جلائو اور تصادم کی صورت حال پیدا کرکے نہ جانے کتنی معصوم و بے گناہ جانوں کی قربانیاں لے کر ملک میں ہڑتال و تالا بندی کروا چکے ہوتے۔

اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے پرکشش وعدے اپنے حامیوں سے کئے تھے وہ انتخابی نتائج کے دو روز بعد ہی تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں۔ ہلیری کلنٹن کو جیل بھجوانے، یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرکے امریکی سفارتخانہ کومنتقل کرنے، اوباما کا ہیلتھ پلان منسوخ کرنے، میکسیکو کی سرحد پر دیوار کھڑی کرنے، غیر قانونی امیگرنٹس کو ڈی پورٹ کرنے کا اعلانیہ ایجنڈہ اب تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ٹرمپ کی آنکھیں کھل گئی ہیں اور سی آئی اے، ایف بی آئی اور دیگر حکومتی اداروں اور ٹرمپ کے مشیروں کی بریفنگ ٹرمپ کی آنکھیں مزید کھول دے گی۔ ٹرمپ اب زیادہ سنجیدہ اور عملی لہجہ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اوباما ہیلتھ پلان کو یکسر منسوخ کرنے والے کہہ رہے ہیں کہ وہ اوباما پلان کے بعض حصوں کو اپنی پالیسی کا حصہ بنائیں گے۔ انہوں نے مسلمانوں کے بارے میں جو اشتعال انگیز بیانات واعلانات کر رکھے تھے انہیں اپنی ویب سائٹ سے بھی ہٹا دیا اور ذکر بھی بند کر دیا ہے۔

اب وہ امریکی نظام کو دھاندلی زدہ کہنے کی بجائے خود کو پورے امریکہ اور تمام امریکیوں کا صدر کہنے لگے ہیں۔ ٹرمپ کو اپنی پالیسیوں اور فیصلوں کے لئے ری پبلکن اکثریت کے حامل سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا مکمل تعاون بھی حاصل ہوگا گویا صدارت، پارلیمنٹ دونوں ہی ری پبلکن ہوں گے اور عدلیہ میں آئندہ ججوں کی تعیناتی کے لئے بھی ٹرمپ کے لئے راستہ بالکل صاف ہے۔ کیا امریکہ میں ٹرمپ بادشاہت آ رہی ہے؟ امریکی نظام مضبوط ہے اور وہ ٹرمپ سمیت سب کو ’’ایڈجسٹ‘‘ کرکے ’’کراکے‘‘ نکالنا جانتا ہے۔ حلف اٹھانے سے قبل ہی ٹرمپ ایسی باتیں کرنے لگے ہیں کہ ان کے پرجوش حامی ووٹروں کو وہ اپنے اعلانیہ ایجنڈے سے ہٹتے ہوئے نظر آنے لگے ہیں جو حامیوں میں مایوسی پھیلائے گا۔ دیکھیں وہ حلف اٹھانے کے بعد اور کہاں کہاں ’’ایڈجسٹ‘‘ کرتے ہیں۔ وہ کن افراد کو اپنی کابینہ میں لیتے ہیں اور کیا ذمہ داریاں اور کتنا عملی اختیار دیتے ہیں؟ کن پالیسیوں کو ترجیح دیتے ہیں؟

البتہ وہ 20تا 30لاکھ غیرقانونی امیگرنٹس کو ڈی پورٹ کرنے یا قید کرنے کا پلان اپنے پہلے انٹرویو میں امریکی میڈیا کو بتا چکے ہیں۔ خارجہ پالیسی کے میدان میں بھی ٹرمپ اسرائیل کے لئے تمام مراعات اور ترجیحات کے حامی ہیں۔ لہٰذا فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ کو مشکلات اور چیلنجوں کا سامنا ہوگا۔ اسرائیل اور بھارت کو کھلی چھوٹ ملے گی۔ مشرق وسطٰی اور جنوبی ایشیا میں صورت حال پاکستان اور مسلم ممالک کے لئے ناسازگار رہے گی۔

میری یہ رائے دراصل ان ری پبلکن قائدین سے تفصیلی یا مختصر ملاقاتوں اور گفتگو کے بعد قائم ہوئی ہے جو نہ صرف ٹرمپ کے نمایاں حامی رہے ہیں بلکہ موثر ریپبلکن حلقے انہیں ٹرمپ کی کابینہ کے ممکنہ وزیر یا مشیر قرار دے رہے ہیں۔بش دور میں جان بولٹن اقوام متحدہ میں امریکہ کے سفیر رہے اس دوران ان کے کنزرویٹو موقف سننے اور جاننے کا موقع ملا۔ ری پبلکن کنونشن میں اپنی سخت مصروفیت کے باوجود وہ ملے اور آن ریکارڈ انٹرویو کے بعد آف دی ریکارڈ بھی جنوبی ایشیا کے حوالے سے گفتگو کی۔ وہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی جانب بڑا جھکائو رکھتے ہوئے ٹرمپ کے ہم خیال ہیں لیکن جنوبی ایشیا کے لئے حتمی پالیسی وضع کرنے سے قبل پاکستان سے ڈائیلاگ کے ذریعے معاملات طے کرنے کے حق میں بھی ہیں۔ وہ بحرالکاہل کے علاقوں میں چین کے اثر و نفوذ کو روکنے کی پالیسی کے حامی ہیں جبکہ پاکستان کے راستے چینی اثر و نفوذ کو مشرق وسطٰی کی سمت بھی بڑھتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ متعدد بار پاکستان آ چکے ہیں۔ وہ ایٹمی پھیلائو کے بارے میں سیکورٹی پلان کے موضوع اور ہتھیاروں کے مسائل پر بھی ماہرانہ عبور رکھتے ہیں۔

ایوان نمائندگان کے سابق اسپیکر اور قدامت پرست ری پبلکن نیوٹ گنگرچ سے کئی سال قبل گفتگو کا موقع ملا تو انہیں اس وقت بھی جن سخت گیر خیالات کا حامل پایا تھا دس سال بعد 2016ء کے ری پبلکن کنونشن میں بھی امیگریشن کا اتنا ہی سخت مخالف اور مشرق وسطٰی میں جنگی عزائم کا اتنا ہی حامی پایا۔ وہ بھی ٹرمپ کی کابینہ میں ہوم لینڈ سیکورٹی، وزارت خارجہ جیسے عہدوں کے ممکنہ وزیر کے طور پر آگے آگے ہیں۔ روڈی جولیانی نیویارک سٹی کے میئر بھی رہے ہیں اور ٹرمپ کے کھلے حامی بھی رہے۔ جب سعودی پرنس اور کاروباری شخصیت ولید بن طلال نے سانحہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے بعد نیویارک جا کر متاثرین کے لئے 10ملین ڈالر کے عطیہ کا چیک دیا تھا تو وہ چیک میئر جولیانی نے واپس کرتے ہوئے متنازع ریمارکس بھی دئیے تھے۔

مختصر یہ کہ ٹرمپ کی کابینہ کے ممکنہ وزیروں اور خود ٹرمپ سے پاکستان اور مسلم دنیا کو کسی مہربانہ تعلق یا سلوک کی توقع نہیں رکھنا چاہئے۔ امریکی برتری اور نسلی برتری کے مائنڈ سیٹ کی حامل ’’ٹرمپ ٹیم‘‘ جن عوامل کی حمایت سے جیتی ہے وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا ’’رنگ‘‘ ضرور دکھائیں گے۔ واشنگٹن کے حقائق دیکھ کر ٹرمپ اپنے انتخابی موقف کو جتنا بھی نرم کرنے کی کوشش کرلیں۔ ان کے حامی ووٹرز اور گروپوں کا دبائو جاری رہے گا۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے