جنوبی ایشیا میں ہفتہ گزشتہ کے دوران دو سربراہان مملکت بطور مہمان آئے۔ ترک صدر طیب اردگان پاکستان تشریف لائے۔ جبکہ اسرائیلی صدر یووین ایولن اپنے قریبی حلیف مودی کو ہلاشیری دینے آئے۔ بھارت میں ان کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوا۔ ساری بھارتی قوم ان کی آؤ بھگت میں جتی رہی۔ جبکہ ہم نے ترک صدر کو صرف حکومت کا مہمان سمجھا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ معزز مہمان ہماری سپورٹ کے لئے استنبول سے اسلام آباد آئے ہیں۔ لہٰذا ہماری اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت نے مہمان صدر کو بائیکاٹ کا تحفہ دیا۔ کیا سوچتا ہوگا واپسی کے وقت وہ مہمان سربراہ مملکت۔ کیسی قوم کی کیسی اپوزیشن ہے کہ بجائے آگے بڑھ کر ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے، الٹا بائیکاٹ، سوشل میڈیا پر پراپیگنڈہ مہم چلوائی۔ ایسی مہم جس کا مقصد یہ تھا کہ دوروں کی اہمیت کو گھٹا کر پیش کیا جائے۔

قومی لیڈروں کی ترجیح جب ملکی مفادات کی بجائے ذات کے گرد گھومنا شروع ہو جائے، ایسے حالات میں ان سے ایسے ہی بے سروپا فیصلہ ہوا کرتے ہیں۔ لیکن ملک نے یہ منظر بھی دیکھ لیا۔ قومی زندگی کے نازک موڑ پر نرگسیت کا شکار اپنی دراز خواہشات کی دیواروں کی حدود سے باہر نہ نکلے تو ایسی ہی مثالیں قائم ہوا کرتی ہیں۔ ایسے فیصلوں پر، جی حضوری میں ماسٹر ڈگری ہولڈر مصاحبین تالیاں تو بجا دیا کرتے ہیں لیکن تاریخ کا بے رحم، محتسب، کبھی صاف نہیں کرنا، تالیاں پٹنے والے ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو جایا کرتے ہیں۔ تاریخ کے مجرم تو فنا ہو جایا کرتے ہیں۔ لیکن ’’جرم‘‘ کبھی نہیں چھپتا۔ اس کا حساب ہر نئی تاریخ پر دینا پڑتا ہے۔

اسرائیلی صدر یووین ایولن 15 نومبر کو نئی دہلی پہنچے۔ تادم تحریر ان کا دورۂ بھارت ختم نہیں ہوا تھا۔ یہ شاید دور حاضر میں کسی اسرائیلی صدر کا طویل ترین دورانیہ پر مشتمل وزٹ تھا۔ وہ بھارت میں ایک ہفتہ مقیم رہے۔ بھارت اسرائیلی ساختہ اسلحہ کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ہر سال اربوں بھارتی روپے اسرائیلی بینکوں کے کھاتوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔ اس کے بدلے میں انسانیت کش لڑاکا طیارے، جدید ترین ٹینک، مہلک رائفلیں، خطرناک کیمیکل، بھانت بھانت کا اسلحہ بھارتی گوداموں میں پہنچ جاتا ہے۔

اسرائیلیوں کو تحاریک آزادی کو کچلنے کا خوب تجربہ ہے۔ اس کے سپاہی انسان کو حیوانوں کی طرح بے دریغ نشانہ بنا کر شکار کرنے کے فن میں طاق ہیں۔ انہوں نے یہ تجربہ فلسطین کی تحریک کو کچل کر سات عشروں میں سیکھا ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ سویلین آبادیوں کو کیسے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ہسپتالوں میں بمباری کیسے کی جاتی ہے۔ سکولوں کو تباہ کرنے کی کیا تکنیک ہے۔ نہتی عورتوں، کمسن بچوں اور بزرگ شہریوں کے قتل عام کیلئے کس طرح کارروائی کرنی ہے۔ ان کو سب معلوم ہے۔ یہ تجربہ انہوں نے صابرہ اور شتیلہ کے مہاجر کیمپوں میں فلسطینی نامی اس مخلوق کی نسل کشی کر کے حاصل کیا ہے جو اپنی سرزمین پر آزادی سے سانس لینے کا حق مانگتی ہے۔ وہ حق جو مذہب، اخلاقیات، رسم و رواج سب دیتے ہیں۔

اسرائیلی حکومت کو بارڈر مینجمنٹ کا وسیع تجربہ ہے۔ انہوں نے مقبوضہ بیت المقدس ایسی متبرک عمارت کی امین دھرتی کو اوپن جیل میں بدل ڈالا ہے۔ کوئی باغی اس کی حدود کو کراس نہیں کر سکتا۔ مر کر، روح آزاد ہو کر، سرحد پار کر جائے تو وہ اور بات ہے۔ اس کام کے لئے کوئی پرمٹ یا ویزا درکار نہیں۔ اسرائیلیوں کو بھی بیرونی مداخلت کا خطرہ ہے۔ لہٰذا اس نے ہمسایہ ممالک میں تخریب کاری کا جال پھیلا رکھا ہے۔ وہ اردن، لبنان، مصر میں جارحیت سے باز نہیں آتا۔ ان ملکوں کو گھٹنے تلے دبا کر رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ بھارت کی بھی یہی صورت حال ہے۔ ماضی میں خالصتان تحریک کو وہ اسرائیلی تعاون سے کچل چکا۔ اب وہ تحریک صرف کاغذوں میں موجود ہے۔ البتہ آزادی پسند خالصوں کے دلوں میں خالصتان کا پرچم ابھی تک لہراتا ہے۔ اب بھارت کو ایک مرتبہ پھر حریت پسند کشمیریوں کی خودمختار، اندرونی تحریک آزادی کا سامنا ہے۔

تقریباً چار ماہ ہونے کو آئے ہیں۔ کشمیریوں کی نوجوان نسل نے اب اس تحریک کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا ہے۔ وہ سینکڑوں جانیں راہ شہادت میں قربان کر چکے۔ وہ مسلسل کرفیو کی حالت میں ہیں۔ ہزاروں اپنی بینائی گنوا بیٹھے۔ بھارت ریاست کے جبروت، اس کی طاقت کے استعمال سے ابھی تک شمع آزادی کو بجھا نہیں سکا۔ نوجوان کشمیریوں کا جذبۂ حریت پسندی ماند ہونے پر نہیں آتا۔ سات لاکھ فوج بھی بیکار، کرفیو بے معنی، تشدد غیر موثر، لہٰذا اس نے اپنے بااعتماد دوست کو آواز دی ہے۔ کشمیریوں کو کچلنا ہے، دشمن کو سبق سکھانا ہے۔ ٹیکنالوجی چاہئے۔ روپے کے انباروں کی ضرورت ہے۔ اسلحہ دو، تربیت دو۔ انسانوں کو کیسے قتل کرنا ہے۔ مورال کس طرح گرانا ہے۔ پاکستان میں تخریب کاری کرنی ہے۔ تربیت دو۔ لہٰذا اسرائیلی سربراہ مملکت خود آ پہنچا۔ چھ دن قیام کیا۔ مطلوبہ معاہدوں پر دستخط کئے گئے۔ ضرورت کی اشیاء کی ترسیل کے نظام پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایس او پی بنا لئے گئے۔

اسرائیلی دورے کے بعد بھارت ایک مرتبہ پھر نہتے کشمیریوں پر چڑھ دوڑا ہے۔ دوسری جانب اس نے پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ خیر اس اشتعال انگیزی کا تو منہ توڑ جواب دیا جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ اور ناجائز ملاپ سے کون سا نیا شیطان جنم لیتا ہے۔ اس کیلئے کچھ روز انتظار کرنا پڑے گا۔ لیکن بھارت جارحیت کا نشانہ؟ قوم کے لیڈران کرام کی ترجیحات کیا ہیں؟ ان کے متعلق سوچ کر بھی شرمندگی ہوتی ہے۔ بھارت اپنے دوستوں کی راہ میں آنکھ بچھائے بیٹھا ہے اور ہمارے پاس بائیکاٹ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

چینی صدر نے 2014ء میں تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری لے کر، اسلام آباد لینڈ کرنا تھا۔ ہمارے انصاف پسند انقلابی تب بھی اس کی راہ میں مزاحم ہوئے۔ وہ قیادت 126 روز دھرنا دے کر سی پیک کا راستہ روک کر بیٹھی رہی۔ سری لنکا کے صدر دورہ پر نہ آ سکے۔ اب ایک مرتبہ پھر ترکی کے صدر تشریف لائے۔ وہ رجب اردوان جنہوں نے بنگلہ دیش میں سابق پاکستانی شہریوں کو پھانسی دینے کے معاملے پر آواز اٹھائی، جنہوں نے حسینہ واجد کو فون کر کے اس روش سے باز رہنے کی استدعا کی، وہ نہ مانی تو اپنا سفیر واپس بلانے کا فیصلہ بھی کر لیا۔ وہ طیب اردوان جو 8 نومبر 2005ء کو بدترین زلزلے کی خبر سن کر بے چین ہو گئے۔ فوراً امدادی ٹیمیں روانہ کیں۔ سب سے پہلے پاکستان پہنچے۔ زلزلہ زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔ امداد کے ڈھیر لگا دیئے۔

رجب اردوان جو 2010ء کے خونیں سیلابوں کی اطلاع پا کر بیقرار ہوئے۔ وہ ترکی جو او آئی سی کے کشمیر پر رابطہ گروپ کا سربراہ ہے جس نے پہلی مرتبہ علی الاعلان کہا کہ مسئلہ کشمیر پر بھارتی مؤقف غلط ہے۔ جنہوں نے مطالبہ کیا کہ بھارت او آئی سی کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔ وہ ترکی جس نے چین کی مدد سے این ایس جی میں شمولیت کے لئے بھارتی کوششوں کا راستہ روکا۔ جو اس وقت پاکستان کے ساتھ کھڑا ہوا، جب بھارت ہمیں سفارتی تنہائی کا طعنہ دے رہا تھا۔ اس ترکی کا صدر اردوان پاکستان آیا تو پی ٹی آئی نے اس کو بائیکاٹ کا تحفہ دیا۔ یہ بھی نہ سوچا کہ ترکی کا سربراہ مملکت قوم کا مہمان ہے مسلم لیگ کا نہیں۔ اس کا میزبان پاکستان کا وزیراعظم تھا کوئی اور نہیں۔ نفع و نقصان سے بے نیاز تحریک انصاف کو معلوم ہی نہیں اس نے بائیکاٹ کر کے سیاسی پوائنٹ سکور نہیں کیا بلکہ قوم کے مہمان کی توہین کی ہے۔ بشکریہ روزنامہ "نئی بات"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے