اسرائیل فلوٹیلا پر حملے کی معافی مانگے ہلاک شدگان کا تاوان کے طور پر مالی معاوضہ ادا کرے اور غزہ کا محاصرہ کھولے۔ اسرائیلی اخبار 'یدیعوت احرونوت' لکھتا ہے- اس معاہدے کے نتیجے میں ترکی اسرائیل کا 2014 سے گمشدہ شہری اور دونوں کی لاشیں فلسطین سے لانے میں مدد کرے گا۔

حماس ترکی کی سر زمین کو اسرائیل کے خلاف نہیں استعمال کر سکے گا۔
متاثرین فلوٹیلا کیلئے اسرائیل نے 20 ملین ڈالرز تاوان کیلئے اداکرے گا۔
دونوں ممالک نیٹو یا یو این او میں ایک دوسرے کے مفادات کے خلاف کام نہیں کریں گے۔

اسرائیل کے وسائل کو یورپی یونین تک پہچانے میں ترکی سے تعاون مانگا جائے گا- اس طرح اسرائیلی گیس پائپ لائن کو ترکی یورپ تک جانے دے گا اور غزہ میں جو امداد دی جائے گی اسے اسرائیل کی سیکورٹی ایجنسی کی چیکنگ سے گزرنا ہوگا-

ترکی نے فلسطین کیلئے دو صاف پانی کے پلانٹ ، ایک پاور اسٹیشن اور غزہ میں دوسو بستروں کا ہسپتال لگانے کی منظوری بھی لی ہے ، جو قبول کرنے کے علاوہ فلسطینیوں کے پاس چارہ کار ہی نہیں - اور اس طرح ان سے بھی اردوان کے تعلقات مضبوط ہوئے ہیں-
یعنی، خوش رہیں اہل قفس، راضی رہے صیاد بھی

اب کھیپیوں کا تبصرہ ملا حظہ فرمائیں؛: کھیپیے معصوم سمگلر ھوتے تھے جو لنڈی کوتل سے کراکری اور جاپانی کپڑا لاھور بیچا کرتے تھے پھر زمانے نے ترقی کی اور نظریاتی کھیپیے میدان میں آئے یہ بیچارے ایک آدھ دورے اور چند دن قیام کے بعد اردگان کے گیت گاتے پھرتے ہیں۔ اخلاقی جرات کا یہ عالم ہے اپنا نام نہیں بتانا چاھتے۔

"فتح اللہ گولن کی خدمت تحریک سے وابستہ اساتذہ کے ویزے میں توسیع نہ کرنے کے حکومتی فیصلے کو ملا عبدالسلام ضعیف کے واقعے سے تشبیہ دینا یا اس میں اور عافیہ صدیقی معاملے میں مشابہت تلاش کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ حکومت نے ان اساتذہ کے ویزے میں توسیع نہیں کی کیونکہ حکومت اس کی پابند نہ تھی۔

کیا ترک اساتذہ پاکستانی شہری تھے کہ انہیں ملک چھوڑنے کا نہیں کہا جاسکتا تھا یا انہوں نے سفارتی ویزہ لے رکھا تھا جس کے تقدس کا کچھ خیال رکھا جاتا؟ یا حکومت نے ان سے مستقل رہائش کا عہد کررکھا تھا یا ویزے دیکر انہیں منسوخ کردیا گیا۔ جب ایسا کچھ نہیں ہے تو شور کس بات کا ہے؟ کیا حکومت نے ان اساتذہ کو گرفتار کیا؟ کیا انہیں بغیر مہلت دیئے زبردستی ٹرکوں پر ڈال کر ملک بدر کیا جارہا ہے یا انہیں افغان سفارتکار عبدالسلام ضعیف اور پاکستانی شہری عافیہ صدیقی کی طرح امریکہ کے حوالے کردیا گیا؟

گو ترک حکومت کی درخواست پر انکے ویزے میں توسیع نہیں کی گئی لیکن پاسپورٹ انکے پاس موجود ہیں اور یہ اگر کسی خوف سے ترکی نہ جانا چاہیں تو دنیا کے دوسرے کئی ملکوں کے دروازے ان پر کھلے ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسکول بند نہیں ہورہے اور نہ ہی اسکا انتظام ترکوں سے واپس لیا جارہا ہے۔ نہ کسی طالب علم کا سال ضائع ہوگا اور نہ معیار تعلیم پر کوئی فرق پڑے گا۔

ترکی میں چند ماہ پہلے فوج کے ایک حصے نے خونیں بغاوت کی کوشش کی تھی اور حکومت کی تحقیقات کے مطابق اس بغاوت میں فتح اللہ گولن کی تحریک ملوث ہے۔ ترک حکومت نے ریاست اور حکومت سے بغاوت کے جرم میں اس تحریک پر پابندی لگاکر اسے دہشت گرد جماعت کی فہرست میں شامل کردیا ہے۔ ترک حکومت گولن کا تعاقب کررہی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی بغاوت کے امکان کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کردیا جائے۔ اردگان حکومت کا برادر ملک سے مطالبہ بھی فطری ہے۔ برادر ملک تو ایک طرف اردگان نے تو امریکہ سے بھی گولن کی حوالگی کا مطالبہ کررکھا ہے۔ دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ کبھی کوئی ملک برادر ملک کے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنے ملک میں پناہ دینے کی غلطی نہیں کرتا۔

کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان فتح اللہ گولن کی محبت میں ترکی کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو خراب کرلے؟ کیا آپکو یہ مطلوب ہے کہ ہم ترک ریاست کے ناپسندیدہ لوگوں کو اپنے یہاں پناہ دیکر ملکی مفاد پر سمجھوتا کرلیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ ہم زبردستی ترکی سے جھگڑا لیں اور خود کو مزید تنہائی کا شکار کریں؟ اگر اس امر کو آزاد خارجہ پالیسی اور خودمختاری سے زبردستی نتھی کیا جارہا ہے تو سوال ہے کہ آپ کی یہ ''غیرت'' ڈرون حملوں، ایمل کانسی، رمزی یوسف، عافیہ صدیقی، ملا عبدالسلام ضعیف، اور ریمنڈ ڈیوس کے وقت کہاں سو رہی تھی؟ کیا ہم پاکستانی برداشت کریں گے کہ وہ لوگ جو پاکستانی ریاست اور حکومت کے خلاف بغاوت کا ارتکاب کرچکے ہیں یا ایسے لوگوں کے حامیوں کو چین، ترکی اور سعودیہ عرب ایسے ہمارے دیرینہ برادر ممالک پناہ دئے رکھیں؟

پاکستان کے خلاف یہ سب کچھ دھڑلے سے ھمارے برادر کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے اور ھم قومی مفادات کی نزاکتوں کی وجہ سے اس کو چھپاتے رھتے ہیں" بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے