عراق کی پارلیمان نے حال ہی میں شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کو باقاعدہ طور پر سرکاری فورس قرار دینے کے لیے قانون سازی کی ہے۔اس اقدام کے ذریعے عراق بطور ریاست تاریک راہ کی جانب چل نکلا ہے۔

الحشد الشعبی (پاپولر موبلائزیشن ) کے بارے میں بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کا ڈھانچا خمینی کے نظریات ،فرقہ واریت اور مالی بدعنوانیوں سے مملو ہے۔ یہ فورس پاسداران انقلاب ایران کی نقش قدم پر چلنا چاہتی ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب کا ایران کی ریاست پر مکمل کنٹرول ہے کیونکہ ان کا اسلحے ،رقوم ، میڈیا ذرائع ،حوزہ پروگرام ،آیت اللاؤں ،بنکوں ،بندرگاہوں ،تیل ،گیس ،خارجہ پالیسی غرضیکہ ہر چیز پر قبضہ ہے۔

مگرعراق ایران کی طرح نہیں ہے حالانکہ سابق وزیراعظم نوری المالکی اور ان کے مصاحبین عراق کی شیعہ جماعتوں کے رہ نماؤں نے اس کو ایران ایسا بنانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ عراق میں آزاد کرد بلاک ہے،البیش المرکہ ،کردوں کی خود مختار علاقائی حکومت ،اپنا علاقہ اور فوج ہے۔

اس کے علاوہ عرب سُنی ایک قوت کے طور پر موجود ہیں۔یہ اور بات ہے کہ اس وقت وہ منتشر ہیں لیکن وہ ہمیشہ ایسے نہیں رہیں گے کیونکہ وہ موجودہ حالات کی وجہ سے منقسم ومنتشر نظر آتے ہیں اور جونھی حالات تبدیل ہوئے تو یہ سلسلہ بھی ختم ہوجائے گا۔ مزید برآں عراق کے شہری قوم پرستوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے جو بنیاد پرست گروپوں کے نظم ونسق کو مسترد کرتے ہیں خواہ ان گروپوں کا تعلق اہلِ سنت سے ہو یا شیعوں سے ،یہ قوم پرست مستقبل کے عراق کی روح ہیں۔

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی اگر الحشد الشعبی یونٹوں کو قانونی قرار دینے کے لیے قانون کو مسترد کردیتے تو ان کی عظمت اور وقار میں اضافہ ہوسکتا تھا اور وہ عراقیوں کی مزید حمایت حاصل کرسکتے تھے۔

بدقسمتی سے انھوں نے اس کو مسترد نہیں کیا تھا بلکہ ارکان پارلیمان سے یہ کہا تھا کہ وہ اس کی منظوری اور اس کو کابینہ کو بھیجنے سے قبل ضبط وتحمل سے کام لیں۔ تاہم شیعہ جماعتوں نے ان کی ایک نہیں سنی تھی۔پارلیمان نے کثرت رائے سے اس کی منظوری دے دی جبکہ سنی اور بعض دوسرے ارکان نے اس قانون پر رائے شماری کے وقت اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ نوری المالکی کے بلاک ،عمار الحکیم ،مقتدیٰ الصدر کی تحریک اور دوسرے شیعہ لیڈروں کی جماعتوں کے اراکین پارلیمان نے اس کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

اس قانون کی منظوری کو موخر کرنے کے لیے تمام تجاویز کو مسترد کردیا گیا تھا اور اس میں ترامیم کے لیے تجاویز پیش کرنے کی ممانعت کردی گئی تھی۔بعض سنی اراکین نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ الحشد الشعبی میں شامل جنگجوؤں کا 40 فی صد کوٹا سنی قبائل کو الاٹ کیا جائے لیکن ان کی یہ تجویز مسترد کردی گئی۔

ان تھک کوششیں

عراق کے سابق نائب وزیراعظم اور العربیہ اتحاد کے سربراہ صالح المطلک کا کہنا تھا کہ ''اس قانون کی منظوری سے عراقیوں کا ملک کو ایک سول ریاست بنانے کا خواب ختم ہو کر رہ گیا ہے''۔

یہ قانون بہت خطرناک ہے اور یہ عراقی ریاست کے ڈھانچے پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔اس سے ملک میں کشیدگی برقرار رکھنے اور عراق کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے یا ملک میں خانہ جنگی جاری رکھنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے کیونکہ اس کے ذریعے ملک میں فرقہ واریت اور اس کو ایک شیعہ ریاست میں تبدیل کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کردیا گیا ہے جہاں اب سنی عرب خاص طور پر دوسروں کے رحم وکرم پر رہ رہے ہیں۔

مجرمانہ ریکارڈ کی حامل فرقہ پرست فورسز کو قانونی چارہ جوئی سے بچانے کے لیے ان تھک کوششیں کی گئی ہیں حالانکہ وہ داعش ہی کی طرح خونریزی اور متشدد سرگرمیوں میں ملوّث رہی ہیں۔عراقی پارلیمان میں منظور شدہ قانون کی دفعہ چار الحشد الشعبی کو کسی بھی مسلح سرگرمی سے فوجی لحاظ سے معاملہ کرنے اور حکومت اور نظام کو بچانے کے لیے کارروائی کرنے کا مجاز بناتی ہے۔

شیعہ بلاک الفاضلہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمان حسن آل شامرائی نے یہ بھی درخواست کی تھی الحشد الشعبی فورسز اگر داعش کے خلاف لڑتی ہیں تو انھیں قانونی استثنا دیا جائے اور داعش کے زیر قبضہ علاقوں کو چھڑانے کا بھی اختیار دیا جائے۔

عراق کی سنی قوتوں اور دوسروں کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے قومی شراکت کو تہس نہس کردیا گیا ہے۔اب میں نہیں جانتا کہ اخوان المسلمون کی اسلامی شخصیت ،پیارے ''بھائی'' سلیم الجبوری اس زہریلے قانون کی منظوری کی کیا وضاحت کریں گے۔خیر سے وہ پارلیمان کے اسپیکر ہوتے ہیں۔

اللہ عراق پر رحم فرمائے!
-----------------------------------------
(سعودی صحافی مشاری الذایدی العربیہ نیوز چینل کے ویوز آن نیوز کے روزانہ شو ماریا کے میزبان ہیں۔وہ مختلف ٹی وی اور ریڈیو پروگراموں میں بطور مبصر آتے رہتے ہیں۔انتہاپسند گروپ اور ان کے نظریات ان کے خاص موضوعات ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے