ایک مقامی اخبار میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق حکومت آیندہ دو ہفتوں کے دوران ٹھیکے داروں کو ان کی رقوم کی ادائی شروع کردے گی اور سال کے اختتام تک 80 فی صد ان کی واجب الادا رقوم ادا کردی جائیں گی۔

کونسل برائے سعودی چیمبرز کی نیشنل کنٹریکٹرز کمیٹی کے سربراہ فہد آل حمادی کا کہنا ہے کہ چالیس ارب سعودی ریال پہلے ہی تعمیراتی فرموں میں تقسیم کیے جاچکے ہیں اور باقی رقوم بھی خادم الحرمین الشریفین کی ہدایات کے مطابق تقسیم کردی جائیں گی۔

ان کی درخواست کی مکمل تحسین کی جاسکتی ہے کیونکہ رقوم کی ادائی میں تاخیر سے ورکروں ،کاروباری مالکان ،سپلائیرز اور بنکوں کو ناقابل بیان مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ہماری قومی معیشت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے اور بیرون ملک ہمارا تشخص مجروح ہوا ہے۔

رقوم کی ادائی میں تاخیر کا کلچر کچھ وقت کے لیے تو برقرار رہ سکتا ہے۔حتیٰ کہ جب تیل کی قیمتیں بلند سطح پر تھیں تو اس وقت بھی ایسا معاملہ ہوتا تھا۔ دراصل یہ سلسلہ کاروباری دنیا اور مالیات کے شعبے سے وابستہ افراد کی عدم صلاحیت ، بے ضابطگیوں ،بدعنوانیوں اور بد انتظامی سے جنم لیتا ہے۔اس طرح کے مشکل وقت میں بیورکریٹوں کا رویہ حتیٰ کہ ایک چھوٹے سے چھوٹا اہل کار بھی ایک بڑے منصوبے کو بنا یا بگاڑ سکتا ہے۔

اس اہم اور نازک مرحلے پر یہ بڑی بات ہے کہ جب تیل کی قیمتیں کم ہیں ،زرمبادلہ کے ذخائر کے سوتے خشک ہو رہے ہیں تو ایسے میں وزارت خزانہ نقد رقوم کا بند وبست کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔اس سے معیشت کو درست خطوط پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک اور مقامی روزنامے میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق سعودی زرمبادلہ کے ذرائع آیندہ سات سال کے دوران بجٹ خسارے کو پورا کرسکتے ہیں۔تاہم ہمیں ایسا رونما ہونے کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور ایسا ہونا بھی نہیں چاہیے کیونکہ ہماری تیل کی برآمدات کے ساتھ ساتھ دوسری یعنی غیر تیل کی برآمدات تو جاری ہیں۔ان سب کے علاوہ آمدن کے دوسرے ذرائع بھی ہیں۔

سعودی وژن 2030ء بالکل واضح ہے۔تاہم جس چیز کی ضرورت ہے،وہ ایک متوازن بجٹ ،مالیاتی ذمے داری، وسائل کے ضیاع کو روکنا اور منصوبوں کی مناسب لاگت میں تکمیل کو یقینی بنانا ہے۔اس ضمن میں بین الاقوامی معیارات کا اطلاق کیا جانا چاہیے۔

مزید برآں ماضی میں بڑے بڑے کاروبار کنٹرول میں تھے اور کاروباری منظرنامے میں اس انداز میں تبدیلی کی جانی چاہیے کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار قومی معیشت میں اپنا اپنا حصہ ڈال سکیں۔

ہمیں اپنی وزارتوں کو جدیدیت کی راہ پر چلا کر اور سعودی وژن 2030 کو ایک مقصد اور حقیقت کا روپ دے کر ایک مثبت ماحول اور نئے دور کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو پھر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے