امریکا کے اگلے وزیر دفاع جیمس میٹس کا عرفی نام ''پاگل کتا'' ہے۔یہ کوئی توہین نہیں بلکہ تحسین وتعریف ہے۔ وہ کام اور تفصیلی کام کے دلدادہ ہیں،مکمل جوش وولولے سے کام کرتے ہیں۔یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اس عرفیت کو پسند نہیں کرتے ہیں۔وہ ''جنگجو راہب'' بھی قرار دیے جاتے ہیں کیونکہ انھوں نے کبھی شادی نہیں کی ،سات ہزار سے زیادہ کتابیں ان کی لائبریری میں موجود ہیں۔ وہ مشہور فلاسفروں اور جنگیں لڑنے والوں کا کہیں بھی حوالہ دے سکتے ہیں۔

جب ان سے سوال پوچھا گیا کہ وہ میدانِ جنگ میں بھی اپنے ساتھ کتاب کیوں رکھتے ہیں؟ تو وہ یوں گویا ہوئے: ''ٹیکنالوجی کی ترقی نے جنگ کی نوعیت کو تبدیل نہیں کیا ہے۔ ماضی میں تلواروں اور نیزوں سے لڑی اور جیتی گئی جنگوں کا سبق بھی وہی ہے جو ٹینکوں اور ڈرونز سے لڑی جارہی ہیں۔آپ کو پہلے اپنے دشمن کو سمجھنا چاہیے اور پھر آپ اس کو اچھے طریقے سے شکست دے سکتے ہیں''۔

یہی وجہ ہے کہ میٹس سول شعبے سے تعلق رکھنے والے اپنے بالائی عہدے داروں کو دبے لفظوں میں تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے جو ان کے بہ قول اپنے دشمنوں کو سمجھ نہیں سکے تھےاور ان کے اہداف کا بھی تعیّن نہیں کر سکے تھے اور اسی سبب وہ بڑی فوجی کاوشوں میں حائل ہوتے رہے تھے۔

عراق جنگ کے دوران امریکی فوجی صرف تین ہفتے کے مختصر وقت میں فتح یاب ہوگئے تھے لیکن سیاسی مقاصد واضح یا حقیقت پسندانہ نہیں تھے۔اس لیے عراق طوائف الملوکی کا شکار ہوگیا۔امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں نازیوں کے خلاف فتح کے بعد پانچ جنگیں لڑی ہیں لیکن وہ ان میں سے صرف ایک جیت سکا ہے۔وہ کوریا جنگ ،ویت نام ،افغانستان اور حال ہی میں عراق جنگ میں ناکام رہا ہے۔اس نے صرف آپریشن ڈیزرٹ شیلڈ ( کویت جنگ) جیتی تھی۔اس وقت جارج بش سینیر سیاسی لیڈر تھے۔انھوں نے تب اپنے سیاسی مقاصد بالکل واضح کردیے تھے کہ وہ کویت کو آزاد کرانا چاہتے تھے اور صدام حسین کا تختہ نہیں الٹنا چاہتے تھے۔انھوں نے فوجی کمانڈروں کو ایک ایسی جنگ میں ملوّث نہیں کیا تھا جس سے وہ کوئی زیادہ مانوس نہیں تھے۔

میٹس اپنے بعض مشہور بیانات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔مثلاً انھوں نے کہا:'' شائستہ رہیں،پیشہ ور رہیں لیکن آپ کے پاس ہر اس شخص کو قتل کرنے کا منصوبہ ہونا چاہیے جس سے آپ ملتے ہیں''۔تاہم اس طرح کے کلمات میڈیا میں تشہیر کے لیے وضع کیے گئے تھے مگر وہ جس طریقے سے سوچتے ہیں ، وہ زیادہ تزویراتی ہے کیونکہ وہ امریکا کے کردار اور دنیا کے لیے خطرے کا موجب بڑی برائیوں کے لیے ایک واضح نظریہ رکھتے ہیں۔یہی سبب ہے کہ وہ صدر اوباما کے وژن سے متفق نہیں ہوتے ہیں۔

یہ جاننے کے لیے کہ وہ ''پاگل کتا'' کیسے سوچتا ہے ،جس نے اٹھارہ سال کی عمر میں فوج میں شمولیت اختیار کی تھی،اس سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکا کی آیندہ انتظامیہ کی حکمت عملی کیا ہے تو پھر ہی آپ کوئی پیشین گوئی کرسکتے ہیں۔

سچ بتانا چاہیے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی کابینہ کے لیے چناؤ سے نئی امریکی انتظامیہ کی پالیسی کے خدوخال واضح ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے چہروں مہروں سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ امریکا دنیا میں ایک بڑا کردار ادا کرنے جارہا ہے اور یہ دراصل ٹرمپ کی تندوتیز انتخابی مہم کے دوران کیے گئے وعدوں سے یکسر مختلف ہے کیونکہ انھوں نے تو تنہائی کی بات کی تھی اور ایسے اتحادی بنانے پر زور دیا تھا جنھیں اگر خدمات مہیا کی جائیں تو وہ اس کی قیمت ادا کریں۔

''باؤلے کتے'' کے مطابق تہران میں نظام ( رجیم) ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ ایک مرتبہ جب ان سے پوچھا گیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے سب سے بڑا خطرہ کیا ہے تو انھوں نے ان الفاظ کا اعادہ کیا تھا:'' ایران ، ایران اور ایران''۔یہ صدر اوباما اور ان کے عہدے داروں کے نقطہ نظر سے یکسر مختلف بات ہے جو ایران کے ملّائیت پر مبنی نظام کی سرپرستی پر عمل پیرا تھے اور اس کو بین الاقوامی نظام میں کھینچ لائے تھے۔ میٹس نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ایرانی رجیم اس لبرل نظام میں یقین نہیں رکھتا ہے۔وہ ریاستوں کی طرح سوچتا ہے اور نہ اقدام کرتا ہے بلکہ وہ انقلاب کے تصورات کے مطابق اور توسیع پسندی کے لیے کام کرتا ہے۔

ایران سے محاذ آرائی ان بڑے ایشوز میں سے ایک ہے جو اس سابق جنرل کے ذہن میں ہے۔ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کی فوجی گوشمالی کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ان کے بہ قول یہ ایران نہیں بلکہ القدس فورس ،قاسم سلیمانی اور دہشت گرد ملیشیائیں ہیں جنھیں ایران نے پالا پوسا ہے اور وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔دنیا میں ایرانی کردار کے بارے میں ان کا وژن بڑا واضح ،زیادہ حقیقت پسندانہ اور تاریخی ہے،بہ نسبت ان تجزیہ کاروں اور صحافیوں کے ، جو مشرق وسطیٰ میں سعودی ،ایران کشمکش کے بارے میں افسانوں اور من گھڑت کہانیوں کو دُہراتے رہتے ہیں۔

ان سے ایک صحافی نے ایک خصوصی انٹرویو کے دوران بڑا اہم سوال پوچھا تھا:''مشرق وسطیٰ میں ایسا ایک ملک کون سا ہے جس پر داعش نے حملہ نہیں کیا ہے؟''اس کے جواب میں کسی توقف کے بغیر انھوں نے کہا:''صرف ایک ملک اور وہ ایران ہے'' خطے کے بہت سے لوگ اس جواب سے پہلے سے آگاہ ہیں۔

میٹس کے نزدیک شیعہ سیاسی اسلام کے بعد دوسرا بڑا خطرہ سنی سیاسی اسلام اور اس سے ظہور پذیر ہونے والی تمام تحریکیں ہیں۔اس کی جڑوں اور دانشورانہ بحران کے بارے میں ان کا تجزیہ بڑا جامع ہے اور وہ یہ کہ اس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں۔ انتہا پسندی ہمارے دور کی پیداوار نہیں ہے بلکہ یہ صدیوں کی تاریخ رکھتی ہے۔ امریکا فوجی لحاظ سے تو القاعدہ ،طالبان اور داعش کے ارکان کو شکست دے سکتا ہے لیکن ان کے نظریے کو شکست سے دوچار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور پھر امریکی اور اہل مغرب یہ کام انجام بھی نہیں دے سکتے ہیں بلکہ مسلمان بہ ذات خود ایسا کرسکتے ہیں۔

میٹس اعتدال پسند سنی حکومتوں کے بارے میں دوستانہ انداز میں بات کرتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ ان کی طرف سے لڑ چکے ہیں۔وہ دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے مستقبل میں ان حکومتوں کے زیادہ کردار پر زور دیتے ہیں۔وہ جنونی نظریات کی بیخ کنی کے لیے ایک سخت جنگ مسلط کرنے کی بات کرتے ہیں کیونکہ یہ جنونی نظریات ہی تشدد اور دہشت گردی کے منبع اور مآخذ ہیں۔انھوں نے اسلام کا تشخص مجروح کیا ہے اور مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے۔

جب ایران کا معاملہ آتا ہے تو ان کی مراد ایک ایسے نظام سے ہے جو دہشت گردی برآمد کرتا ہے اور جو بین الاقوامی معیارات کی پابندی نہیں کرتا ہے۔چنانچہ ان کا کہنا ہے کہ عملی طور پر سنہ 1979ء سے ایرانیوں کے خلاف امریکا کی جنگ جاری ہے۔جب عربوں کی بات آتی ہے تو وہ انتہا پسندوں اور ان کے محرکین کے قلمع قمع کے لیے اعتدال پسند ریاستوں کی حمایت کرتے ہیں۔

جنرل میٹس کے کردار کو احترام اور تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔براک اوباما کی مدت صدارت کے بعد ،جس کو کم زوری کا مرحلہ یا امریکا کا انخلاء قرار دیا گیا ہے ،ایک تجزیہ کار نے یہ طنز کی ہے:'' یہ ایک اچھی بات ہے کہ وزیر دفاع کا عرفی نام ''پاگل کتا'' ہے تاکہ روس اور ایران کو چڑھایا اور ڈرایا جاسکے''۔ میٹس خطے میں امریکا کے اثر ورسوخ کو بحال کرنا چاہتے ہیں اور وہ دنیا کے لیے ایک مکمل مورال وژن میں یقین رکھتے ہیں۔اس لیے ان کی سب بڑی محاذ آرائی روسی صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ ہوگی جو ان سے قریب قریب ہر بات میں متفق نظر نہیں آتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے