سعودی عرب میں ایک فوجداری عدالت نے حال ہی میں اپنے ابتدائی فیصلے میں ایران کے ایک جاسوسی سیل سے وابستہ پندرہ افراد کے سرقلم کرنے کا حکم دیا ہے اور جاسوسی کے اسی مقدمے میں ماخوذ بعض مجرموں کو قصور وار قرار دے کر قید کی سزائیں سنائی ہیں۔

اس بدنام زمانہ سیل نے بنک کاری اور طب کے شعبے سے متعلق اطلاعات اکٹھی کی تھیں اور ایرانی انٹیلی جنس کو یہ خطرناک معلومات فراہم کی تھیں۔ یہ معلومات اس لحاظ سے بہت خطرناک تھیں کہ ان کے ذریعے دشمن کو اہم اداروں اور سکیورٹی تنصیبات کو ہدف بنانے میں سہولت حاصل ہوئی تھی۔

سعودی انٹیلی جنس اس سیل کو بے نقاب کرنے میں کامیاب رہی تھی اور پھر اس کا معاملہ سعودی وزارت داخلہ کو منتقل کردیا گیا تھا۔ان مشتبہ افراد کے خلاف تمام ضروری قواعد وضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے مقدمہ چلایا گیا ہے اور عدالت نے 160 سے زیادہ سماعتوں کے بعد ابتدائی فیصلہ سنایا ہے۔

اس سیل کے ارکان کے نجف اور ایران میں روابط تھے اور انھیں قونصل خانوں اور سفارت خانوں کے ذریعے سہولتیں حاصل ہورہی تھیں۔یہ سب کچھ ثابت ہوچکا ہے۔اس سب کا مقصد سعودی عرب کو دہشت گردی اور متشدد حملوں کے ذریعے ہدف بنانا تھا۔

اس کیس کی تفصیل سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ وہ جاسوسوں کے ناموں کی فہرست کو دیکھ کر ہکّا بکّا رہ گئے تھے اور اس بات پر بھی حیران تھے کہ ایرانی نظام (رجیم) ان میں سے بعض کو جاسوسی کے لیے کیسے بھرتی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا کیونکہ وہ بعض شائستہ اور اہم عہدوں پر فائز تھے اور انھوں نے نظم وضبط کا بھی مظاہرہ کیا تھا لیکن سچ بعض اوقات بہت ہی حیران کن ہوتا ہے کیونکہ وہ ایرانی انٹیلی جنس کے آلہ کار بن چکے تھے۔

ایران خلیج کے استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور اس مظہر کو بحرین میں ایران کے جاسوسی سیل ،کویت میں ابدالی سیل اور سعودی عرب میں جاسوسی سیل کے ذریعے ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عدالت کا ابتدائی فیصلہ ان لوگوں کے لیے سد راہ ثابت ہوگا جنھوں نے اپنے ملک کو بیچ دیا تھا،دشمن کے ساتھ ابلاغ و مراسلت کی تھی اور ارزاں قیمت پر اپنی سکیورٹی ان کے ہاتھ میں دے دی تھی۔

-----------------------------
(ترکی الدخیل ،العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے