شاہ سلمان بن عبدالعزیز تخت شاہی پر فائز ہونے اور اس سے پہلے ولی عہد نامزد ہونے سے بھی قبل سعودی حکومت میں خلیجی امور کے ذمے دار تھے۔ وہ خطۂ خلیج ،اس میں واقع ممالک ،بادشاہوں ،حکومتوں ،لوگوں اور تاریخ کو بڑی اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ ان کے داخلہ اور دوطرفہ امور اور باہمی تعلقات کے بارے میں بخوبی آگاہ ہیں۔ اگرچہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی رکن ریاستوں کے درمیان مشترکہ تاریخ ،پس منظر اور مفادات کی بنا پر قریبی تعلقات استوار ہیں لیکن ان تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے ایک حساس حکمت عملی درکار ہے۔

جی سی سی کے رکن ممالک خطے میں تبدیلی کے عمل ،خطرات اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں۔وہ بالخصوص عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں گراوٹ اور خام تیل کی پیداوار میں اضافے سے پیدا شدہ بحران اور اس کے ان کی معیشتوں،حکومتوں کے بجٹ اور ان کی داخلی اور خارجہ ذمے داریوں کے لیے مشکلات کا موجب بننے والے ایشوز کو بھی جانتے ہیں۔

شاہ سلمان کا چار خلیجی ملکوں کا حالیہ دورہ اور ان کی بحرین میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہ اجلاس میں شرکت باہمی تعلقات میں بہتری کے ضمن میں ایک کوشش تھی کیونکہ خلیج کے خطے کو ایسی ہی کوشش کی ضرورت ہے۔مشرق وسطیٰ میں استحکام بنیادی طور پر خلیجی ممالک کی ذمے داری ہے اور وہی خلیج میں جاری بڑے بحرانوں کے بڑے فریق ہیں۔خلیجی ممالک کی ان کی شہری آبادی کے حجم کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت ہے اور یہ ریاستیں خطے میں روایتی عرب قوتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے توازن قائم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کررہی ہیں۔

خلیجی ممالک عرب بہار کی کوکھ سے برآمد ہونے والی طوائف الملوکی اور انقلابوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کی کوشش کررہے ہیں کیونکہ اس وقت وہی خطے میں ستون بن کر کھڑے ہیں جبکہ باقی ممالک تو اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں۔

ہم شاہ سلمان کے دورے کا جی سی سی کے فریم ورک میں بہتر ہوتے تعلقات کے تناظر میں جائزہ لے سکتے ہیں۔یہ بلاک ماضی کے تنازعات اور بعض علاقائی امور سے متعلق کونسل کی ذمے داریوں کے حوالے سے مختلف نقطہ نظر کے باوجود بدستور غیرمتزلزل انداز میں آگے بڑھ رہا ہے۔ہر کوئی جانتا ہے کہ بحرانوں میں گھرے ماحول میں جی سی سی ایک ضرورت ہے۔

شاہ سلمان نے بحرینی دارالحکومت میں منعقدہ جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں کہا: '' دہشت گردی اور داخلی تنازعات کی وجہ سے بحرانوں نے جنم لیا ہے۔ خونریزی دہشت گردی ، فرقہ واریت اور ننگی غیر ملکی مداخلت کا ناگزیر نتیجہ ہے''۔ یہ کہتے ہوئے انھوں نے اس جانب اشارہ کیا کہ ایران پانچ ملکوں کی فرقہ پرست افواج اور ملیشیاؤں کی قیادت کررہا ہے اور انھیں شام اور عراق میں جاری جنگوں میں استعمال کررہا ہے۔اس نے یمن میں بھی ایک فرقہ وار جنگ چھیڑ رکھی ہے۔

دہشت گردی اور فرقہ واریت کے درمیان اتحاد واضح ہے اور جو واحد فریق اس سے فائدہ اٹھا رہا ہے ،وہ ایران ہے اور جو فریق اس جنگ کے نتیجے میں شکست خوردہ ہو رہے ہیں ،وہ شام ،عراق اور یمن ہیں۔اس سے خلیجی ریاستوں سمیت پورا خطہ ہی خطرے سے دوچار ہوچکا ہے۔

سعودی عرب یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ دشمنوں کے گٹھ جوڑ سے پیدا شدہ ان بحرانوں سے جی سی سی کے درمیان باہمی تعاون کے ذریعے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔ ان میں بیشتر ممالک ایران ،اس کے اتحادیوں اور داعش اور القاعدہ سمیت دہشت گرد گروپوں کے خلاف ایک بھرپور محاذ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

وہ بین الاقوامی موقف وضح کرنے کی صلاحیت کے حامل بھی ہوسکتے ہیں اور یہ صلاحیت طوائف الملوکی کے دور میں ختم ہو کررہ گئی تھی۔ اگر وہ خطے کے امور سے متعلق ایک مشترکہ موقف اختیار کریں تو بڑی طاقتوں کی حمایت کا رُخ بھی اپنی جانب موڑ سکتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شاہ سلمان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے،انھوں نے خلیجی دارالحکومتوں کے درمیان اختلافات کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ ان کو بہتر طور پر جانتے ہیں کہ وہ ان کے لیڈروں اور اداروں سے ایک طویل عرصے سے معاملہ کرتے چلے آرہے ہیں۔

خلیجی ممالک کے دورے اور جی سی سی سربراہ اجلاس کے اختتام پر سعودی عرب کے لیے سب سے اہم منصوبہ خلیجی ریاستوں کو ایران کے خطرے سے مل جل کر نمٹنے پر آمادہ کرنا ہے کیونکہ وہ خطے کے سیاسی جغرافیے کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور وہ جزیرہ نما عرب کے شمال ،مشرق اور جنوب میں اپنی بالادستی قائم کرنے کا خواہاں ہے۔اس کا یہ اقدام کونسل کی بقا اور اس کے رکن ممالک کے تحفظ کے لیے بھی ایک خطرہ ہوگا۔

بلاشبہ شاہ سلمان خلیج کے بارے میں مہارت اور خصوصی تعلقات کی بنا پر اس صلاحیت کے حامل ہیں کہ وہ معاملات کو سدھار سکتے ہیں یا خلیجی تعلقات کو مضبوط بنیاد پر استوار کرسکتے ہیں اور خطے کو درپیش خطرات سے نمٹنے کے لیے اختلافات کا خاتمہ کراسکتے ہیں۔اس لیے جن لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات ہیں کیا وہ عارضی طور پر اپنے متنازعہ امور کو کسی اور وقت کے لیے اٹھا سکتے ہیں؟
------------------------------------
( عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے