سعودی عرب کے مشرقی علاقے قطیف میں دہشت گردوں کے ایک گینگ نے ایک عدالت کے شیعہ جج شیخ محمد الجیرانی کو منگل کے روز اغوا کر لیا تھا۔انھیں مسلح افراد جزیرے طاروت میں واقع ان کے گھر کے باہر سے زبردستی اٹھا لے گئے تھے اور یہ اپنی نوعیت کا ایک منفرد واقعہ ہے۔

سعودی عرب کے وزیر عدل اور سپریم جوڈیشیل کونسل کے سربراہ ولید بن محمد السمعانی نے قطیف میں شیخ محمد الجیرانی کے اغوا پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ولید سمعانی نے ان کے تحفظ کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔

جج کی اہلیہ نے سب سے پہلے سکیورٹی فورسز کو منگل کی صبح ان کے اغوا کی اطلاع دی تھی۔پولیس نے اس کے بعد اغواکاروں کی تلاش اور شیخ جیرانی کی بہ حفاظت بازیابی کے لیے ایک بڑی کارروائی شروع کردی تھی۔جیرانی ایک محب وطن شیعہ عالم ہیں اور وہ سعودی عرب میں ایران کے دہشت گرد گروپوں کے مخالف رہے ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ان پر خمینی نظریے کے مسلح حامیوں نے حملہ کیا ہے۔طاروت کے میئر نے بتایا ہے کہ ماضی میں نامعلوم حملہ آوروں نے ان کی جائیداد پر حملہ کیا تھا اور ان کے مکان کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی تھی۔

سعودی عرب میں خمینی دہشت گرد گروپوں کے حامی انھیں اپنے مختلف حملوں کا ہدف بناتے رہے ہیں۔انھوں نے ان کے تشخص کو بھی مجروح کرنے کی کوشش کی تھی۔ سوشل میڈیا کے نیٹ ورکس پر ان پر باغی ہونے کا الزام عاید کیا تھا اور شیعہ اجتماعات میں ان کے خلاف تقریریں کی جاتی رہی ہیں۔

انھیں محض اس وجہ سے ہدف بنایا جاتا رہا ہے کیونکہ وہ پاسداران انقلاب ایران سے وابستہ نیٹ ورکس کی کھلے عام مخالفت کرتے ہیں اور ماضی میں انھوں نے ان نیٹ ورکس کے مخالفانہ نعروں کے باوجود ببانگ دہل ان کی مخالفت کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ وہ اپنی حب الوطنی میں اٹل ہیں۔وہ بہت بہادر ہیں۔ان کے یہ شخصی خصائص ہی اب ان کے لیے باعث آزار بن گئے ہیں۔

شیخ جیرانی کے اغوا کے واقعے سے اس امر کی بھی تصدیق ہو جاتی ہے کہ انھوں نے جس خدشے کا اظہار کیا تھا اور جو انتباہ کیا تھا، وہ درست ثابت ہوگیا ہے۔انھوں نے ان مجرمانہ گروپوں کو جو نام دیا ،وہ کوئی مبالغہ آرائی نہیں تھی کیونکہ قاسم سلیمانی کے ایجنٹ اور پاسداران انقلاب کے حامی برسرزمین موجود ہیں۔ وہ داعش کے ان قاتلوں ہی کی طرح خطرناک اور بُرے ہیں جو الاحساء ،قطیف اور الدمام میں مساجد اور بے گناہ عوام کو اپنے حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔

ان مجرم گروپوں نے سعودی شیعہ سوسائٹی کو ہراساں اور دہشت زدہ کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے۔ وہ اپنی مخالفت کرنے والے کسی بھی شخص ،خواہ وہ جج ہو ،کاروباری شخصیت ،صحافی یا مصنف ہو،کی توہین اور اس کو غائب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

سعودی عرب کے آزاد شیعہ شہری سخت مشکل سے دوچار ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ چند ایک مجرموں نے ان کا سماجی مقاطعہ و محاصرہ کررکھا ہے لیکن ان میں چند ایک لوگ ایسے بھی ہیں جو بے خوفی اور بے باکی سے ان سے محاذ آرائی سے کتراتے ہیں۔ وہ ایک طرح سے معذرت خواہانہ موقف اختیار کرتے ہیں تا کہ نوجوان طبقہ کسی بھی طرح زیادہ مشتعل نہ ہو اور وہ یوں زیادہ انتہا پسند نہ بنے۔

ان کا ''مشتعل نہ کرنے'' کا یہ رویہ بالکل اسی طرح کا ہے جس طرح کا سعودی عرب اور دوسرے ممالک میں بعض عذرخواہوں نے القاعدہ کے خلاف اختیار کیا تھا۔اس سے انتہا پسند گروپوں پر تنقید کی شدت کم ہو کر رہ جاتی ہے اور ان کے خلاف محاذ آرا ہونے کا عزم بھی ماند پڑتا ہے۔

تاہم حالیہ واقعات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ بے خوفی اور حوصلہ مندی کسی معاشرے میں دشمن سے دوبدو مقابلے کے لیے ناگزیر صفات ہیں۔شیخ محمد الجیرانی ان ہی صفات کو بروئے کار لائے تھے اور اسی وجہ سے جرائم پیشہ افراد نے انھیں اغوا کیا ہے۔

جیرانی بے خوف اور نڈر تھے اور انھوں نے ایسا ہی رہنے کا انتخاب کیا تھا کیونکہ خطرہ خواہ ابوبکر البغدادی یا قاسم سلیمانی سے لاحق ہو ،ان کی نوعیت ایک ہی جیسی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے