شام میں جنگ بندی کے ساتھ ایک بہت ہی اہم موڑ کے اشارے ہیں۔ اسالیے نہیں کہ ''جنگ بندی'' ہو گئی۔ ایسی کئی جنگ بندیاں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ بمباری جنگ بندی کے دائرے میں کبھی نہیں آئی۔ چنانچہ ماضی میں ہر جنگ بندی کے دوران ہزار ہا افراد بمباریوں سے ہلاک کئے جاتے رہے ہیں۔ تازہ جنگ بندی کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی دمشق کے نواح میں طیاروں نے سکول پر بمباری کی اور پچاس کے قریب افراد ہلاک کر دئیے۔ اہم موڑ چنانچہ جنگ بندی نہیں بلکہ اس کے پیچھے ہونے والے دیگر اقدامات ہیں یعنی وہ کام جو امریکہ خود نہ کر سکا، اب روس نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور بات صاف ہو گئی ہے کہ شام میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکی ارادے سے، اس کی پشت پناہی اور خاموش تائید سے ہو رہا ہے۔

شام کا مسئلہ اب روس، ایران اور ترکی مل کر نمٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور جس بات کا فیصلہ کیا جا رہا ہے وہ شام کی تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک الوائٹ علاقہ، دوسرا مسلمانوں کا اور تیسرا کردوں کا۔ تقسیم کی اصطلاحات دیکھتے کردوں کو مذہبی کے بجائے لسانی شناخت دی جا رہی ہے۔ الوائٹ شام اور مسلم شام کی حد تک ترکی، روس کے ساتھ ہے لیکن بات کرد علاقے پر پھنس گئی ہے۔ اگر اس مرحلے سے نکل گئی تو حد بندی پر جھگڑا ہو گا۔ ایران چاہتا ہے کہ گیارہ بارہ فیصد الوائٹ کو ساٹھ فیصد سے زیادہ حصہ دیا جائے اور اس رقبے کی سرحد عراق کے راستے بحیرہ روم کے ساحل تک چلی جائے اور حلب اور دمشق دونوں اس علاقے میں شامل ہوں۔ کرد ریاست کے مسئلے پر وہ خاموش ہے جبکہ ترکی نمایاں طور پر اسے مسترد کر رہا ہے۔

قارئین کو یاد ہو گا کہ انہی کالموں میں بہت پہلے یہ لکھا گیا تھا کہ اصل منصوبہ شام کی تقسیم کا ہے اور اس کا تعلق مسیحیت کے کچھ حلقوں کے اس عقیدے سے ہے کہ ''اینڈ آف دی ٹائم'' کا وقت آ پہنچا، اس سے پہلے پہلے حلب سے لے کر دمشق تک کا علاقہ مسلمانوں سے خالی کرا لیا جائے۔ منصوبہ پروٹیسٹینٹ امریکہ کا تھا لیکن اب یہ آرتھوڈاکس صلیبوں کے پاس ہے اور منصوبہ پر عملدرآمد کے مرحلے سے بہت پہلے ہی ترکی کے ساتھ پاؤں یوں باندھ دیئے گئے کہ وہ اپنی مرضی کا کردار ادا کرنے کی بہت زیادہ قابل نہیں رہ گیا ہے۔ ورنہ یہی ترکی اس سے پہلے شام کی تقسیم کا مخالف تھا۔ اب وہ وہی کردارادا کر رہا ہے جو امریکہ چاہتا تھا مزاحمت صرف کرد ریاست پر ہے۔

نیز ترکی کو یہ بھی پتہ ہے کہ وہ کردریاست کے قیام کی مزاحمت زیادہ دیر تک نہیں کرسکتا۔ کردریاست عملاً قائم ہوچکی ہے۔ ترکی کی جنوبی سرحد کے ساتھ ساتھ دو کرد علاقے ہیں۔ بیچ میں داعش کا قبضہ تھا ترکی نے اسے چھڑا کر اپنا بفرزون بنالیا ہے جوکہ اس کی بقا کے لیے بہت (اور کم ازکم) ضروری ہے۔ یوں شامی کردریاست دو حصوں میں تقسیم ہے۔ یہ اچھا خاصا رقبہ ہے جو اگر عراق کے خود مختار کردستان سے ملا دیا جائے تو کم وبیش اس کا رقبہ اچھے خاصے ملک کے برابر بن جاتا ہے)۔ شام میں کرد ریاست تو بن گئی تقسیم کا منصوبہ طے پا گیا تو اگلا مرحلہ عراقی اور شامی کردستان کے درمیان اتحاد کا ہوگا۔ اگرچہ دونوں کردستان الگ الگ سوچ کی قیادت کے ماتحت ہیں۔

عراقی کرد حکمران سیکولر بھی ہیں اور نیم مذہبی بھی اور شامی کرد کمیونسٹ خیالات کے ہیں۔ ترکی نے ایک اچھی ڈہلومیسی اپنائی ہے کہ اس کے عراقی کردوں سے اچھے تعلقات ہیں اور شامی کرد قیادت کو وہ مسترد کرتا ہے لیکن یہ پالیسی لمبے عرصے تک نہیں چل سکتی کیونکہ دونوں کردستانوں کے اتحاد کا مرحلہ جب آئے گا تو یہ نظریاتی خلیج رکاوٹ نہیں بن سکے گی اور اس مرحلے کے عمل ہونے کے لیے خطرناک ہوگا کیونکہ یہ آزاد کردستان، ترکی اور ایران کے کرد علاقوں کے لیے وہی کردار ادا کرے گا جو امریکی مقبوضہ جنوبی ویت نام کی آزادی کے لیے شمالی ویت نام نے کیا تھا۔

ایران اس منصوبے پر اس لئے خاموش ہے کہ اس کے خیال میں مسئلہ ترکی کیلئے رہے گا۔ ایرانی کردوں کو روس قابو میں رکھے گا لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ روس اور ایران دونوں شامی عوام کے مقابلے میں ایک جان ہیں اور مل کر بمباریاں کررہے ہیں لیکن حتمی منصوبے میں دونوں کے ہدف جدا جدا ہیں۔ روس کو حتمی فیصلے میں بشارالاسد کی ضرورت نہیں ہوگئی۔ وہ کوئی بھی ایسا چہرہ لے آئے گا جو بحیرہ روم کے ساحل کو اس کی صوابدید پر پردے دے۔ فی الحال منصوبہ یہ ہے کہ شام کو تین حصوں میں تقسیم کرکے ایک وفاق بنادیا جائے اور یہ وفاق بالکل بے اختیار ہو لیکن شام کی وحدت کی بس ایک علامت ضرور ہو اور وفاق پر سربراہی الوائٹ کی ہو۔ وہ الوائٹ نہیں کو ایران کے زیر اثر چلیں بلکہ وہ جو اس علاقے کو ماسکو کا کاریڈور بنادیں۔

منصوبہ کامیابی سے آگے بڑھا اور بیچ میں ایسے حادثات نہ ہو گئے جو شیڈول میں نہیں ہیں تو ترکی اور ایران دونوں کی سلامتی کیلئے خطرات پیدا ہو جائیں گے اور جنگ کا محاذ ایران اور ترکی کے اندر دور دور تک پھیل جائے گا۔

قدرت کے راز سمجھنا بہت مشکل ہے۔ کردوں نے آزاد ریاست کیلئے بہت قربانیاں دیں۔ بہت مصیبتیں اور دکھ جھیلے، لیکن کچھ نہ ملا۔ لیکن پھر امریکہ نے عراق پر حملہ کیا۔ دس لاکھ غیر کرد عراقی جان سے گئے اور عراقی کردوں کو آزادی مل گئی۔ پھر شام میں تحریک آزادی چلی۔ تحریک آزادی چلانے والوں کو دس لاکھ شامیوں کی لاشوں کا تحفہ ملا اور مقامی کردوں کو آزادی۔ گویا یہ 20 لاکھ غیر کرد اپنی جان دے کر دونوں کردستانوں کو آزاد کرانے کا باعث بن گئے۔

عراق اور شام کے دونوں آزاد کردستانوں کا رقبہ ملا کر 60 ہزار مربع میل بنتا ہے۔ سری لنکا کا رقبہ 25ہزار مربع میل اور پاکستان کے صوبہ سندھ کا 57 ہزار مربع میل ہے۔
1۔ ابھی جو علاقے شام میں داعش سے آزاد کرائے جانے ہیں کردوں کا ان پر بھی دعویٰ ہے۔
2۔ جنگ بندی میں 60 ہزار مجاہدین آزادی کو فریق مان لیا گیا ہے البتہ داعش باہر ہے۔

بشکریہ روزنامہ "جہان پاکستان"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے