آیت اللہ علی خامنہ ای کی سخت گیر شخصیت کی موجودگی، صدر محمود احمدی نژاد کی بلند بانگ غوغا آرائی کے ہوتے ہوئے ایرانی انتظامیہ پاسداران انقلاب کور کے وزراء سے بھری پڑی تھی۔اُس وقت ایرانی نظام جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوشاں تھا۔ وہ اسرائیل کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی گیدڑ بھبکیاں دے رہا تھا۔دنیا بھر میں دہشت پھیلانے کے لیے دہشت گرد گماشتوں کو استعمال کررہا تھا،مشرقِ وسطیٰ اور پھر دنیا کو فتح کرنا اس کا خواب ٹھہرا تھا اور احمدی نژاد یہ یقین کرتے تھے کہ اس سب سے مغرب اور ایران کے درمیان ٹائی ٹینک جھڑپ کی رہ ہموار ہوگی جو آرمیگاڈان پر منتج ہوگی۔ یہ سب اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ آیت اللہ روح اللہ خمینی کا تشکیل کردہ نظام اپنے آغاز ہی سے ایک دہشت گردانہ ذہنیت کا حامل ہے اور اس کو ایک اعتدال پسند صدر کی مختصر وقت کے لیے نموداری کے دوران میں دبایا نہیں جا سکتا ہے۔


ایران میں اصلاحات نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔خمینی کے نظریے کے مقابلے میں یہ مردہ ہے لیکن اب اور اس کے بعد بھی جب اس نظام کو سانس لینے کی جگہ درکار ہوتی ہے تو وہ ''تقیّہ'' اختیار کر لیتا ہے۔اگر اس لفظ کا ترجمہ کیا جائے تو وہ ''چیزوں کو چھپانا'' ہے یا اگر مغرب کی اصطلاح میں بات کی جائے تو ایرانی نظام سیدھے سبھاؤ جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔

ہنستے مسکراتے حسن روحانی کے ظہور کے ساتھ دنیا کو یہ شائبہ ہوا تھا کہ اب شعلہ بیان احمدی نژاد کی جگہ ایک اعتدال پسند اصلاح پسند نے لے لی ہے۔ایران اب ''جوہری معاہدے'' کے ذریعے اپنے برے طور طریقوں کو تبدیل کرلے گا اور اپنے جوہری پروگرام کو منجمد کردے گا لیکن اگر ایران میں صدر بننے والے آدمی کا ایک ماؤس بھی ہو تو جہاں تک سیاسی اور سماجی تغیّر کا تعلق ہے تو کچھ بھی تبدیل ہونے کا نہیں۔خواہ اس کی توسیع پسندانہ فوجی پالیسیاں ہوں تو ان میں کوئی تبدیلی رونما ہونے کی نہیں۔ان پالیسیوں کے ذریعے، دہشت گرد گماشتوں کو اسلحے سے لیس کرنے،انھیں مالی رقوم مہیا کرنے اور دنیا بھر میں شیعیت کی انتہاپسند شکل کو پھیلانے کے ذریعے یہ نظام دنیا بھر کو تباہی سے دوچار کررہا ہے۔

ایران میں چونکہ حقیقی رہبر سپریم لیڈر ہی ہوتا ہے۔وہ سخت گیر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شکل میں ہوتا ہے۔وہ دھواں دار بیانات کے ذریعے مغرب کے ساتھ محاذ آرا رہتا ہے اور جیسے ہی ایران میں ایک مرتبہ پھر سیاسی منظر تبدیل ہونا شروع ہوا تو حسن روحانی کی مقبولیت ماند پڑنا شروع ہوچکی ہے اور محمود احمدی نژاد 2017ء میں منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں۔ خامنہ ای کے حقیقی رنگوں کی ایک مرتبہ پھر نمائش شروع ہوجائے گی کیونکہ ایران کی بالادستی کی پالیسی پر ایک مرتبہ پھر عمل درآمد کا آغاز ہوجائے گا۔

جہاں تک ایران کا تعلق ہے تو خمینی نے کوئی بہت جلد اقتدار حاصل نہیں کیا تھا۔انھوں نے گماشتہ قوتوں کے ذریعے دہشت گردی برآمد کر کے بالادستی کی کوشش کی تھی۔ گذشتہ برسوں کے دوران میں نظریے کی اسی شکل پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔خامنہ ای اس کے بڑے پرجوش وکیل رہے ہیں۔ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پاجانے کے باوجود ،اس ناکام سمجھوتے سے مغرب کو ایک موقع مل گیا ہے کہ وہ مستقبل میں ہونے والی دہشت گردی کا کیسے مقابلہ کرسکتا ہے۔

فوج سمیت ایرانی نظام کے سرکردہ ارکان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ خمینی کا نظریہ پتھر کے دور میں وضع کیا گیا ہے، مگر اس کے باوجود ایران کی دہشت گرد مشین بہت جلد ایک مرتبہ پھر چلنا شروع ہوجائے گی اور اس مرتبہ اس کے لیڈر ایک طاقتور فوج ،جوہری ہتھیاروں ،طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے مالک ہوں گے لیکن ایران ڈیل کی مہربانی (سے یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوا)۔

لیکن جہاں تک ایران کی جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیے مہم کا تعلق ہے تو وہ (ایرانی) درحقیقت جنگ کے تھیٹر کے عادی نہیں ہیں کیونکہ ایرانی نظام ڈرانے دھمکانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے میں کافی مہارت کا حامل ہے اور اس میں بھی کوئی شبُہ نہیں کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کو ''بڑی چھڑی'' کے طور پر ہی استعمال کرے گا تاکہ وہ اس طرح پاس پڑوس میں واقع ریاستوں میں خوف وہراس پیدا کرسکے۔وہ عراق ،افغانستان اور پاکستان میں یہی کچھ کررہا ہے تاکہ وہ مغرب کے خلاف ایک اتحاد کی صفوں میں شامل ہوسکے۔

کوئی حقیقی تبدیلی نہیں

جب تک انقلابی ملّاؤں کا ایران پر کنٹرول برقرار رہتا ہے،تو آپ ایران میں کوئی حقیقی سیاسی یا سماجی تبدیلی رونما ہوتی نہیں دیکھیں گے کیونکہ فوجی اخراجات ہی قیادت کی اولین ترجیح رہیں گے۔جہاں تک اصلاح پسند صدور کا تعلق ہے،تو آپ محمد خاتمی سے آگے بڑھتا ہوا کوئی نہیں دیکھیں گے۔وہ اگست 1997ء سے اگست 2005ء تک ایران کے صدر رہے تھے۔

خاتمی نے ایک اصلاح پسند پروگرام پر مبنی انتخابی مہم چلائی تھی۔انھیں یہ امید تھی کہ اس سے ایک جمہوری اور زیادہ روا دار معاشرے کی تشکیل کی راہ ہموار ہوگی،قانون کی حکمرانی ہوگی اور سماجی حقوق میں بہتری آئے گی لیکن سخت گیر ان تمام اصولوں کو پسند نہیں کرتے تھے۔

محمد خاتمی کو اس حقیقت کا ادراک کرنے میں کوئی زیادہ دیر نہیں لگی تھی کہ اصلاح (ریفارم) سخت گیروں کے لیے ایک گندا لفظ ہے۔اگرچہ حکمراں خاتمی ہی تھے لیکن شورائے نگہبان ،عدلیہ ،پولیس،مسلح افواج ،جیلیں ،سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن ان کے خلاف کام کررہے تھے کیونکہ ان اداروں پر سخت گیروں کا مضبوط کنٹرول برقرار تھا۔

پھر ان قدامت پسند اداروں کے ساتھ شدید محاذ آرائی کے بعد خاتمی کے سنجیدہ اصلاحات سے متعلق آئیڈیاز بہت جلد پگھل کر رہ گئے تھے۔ اسی طرح ان کے حامی بھی تتر بتر ہوگئے تھے۔

خاتمی کی نظروں کے سامنے سیاسی مخالفین کا سلسلہ وار قتل ہوتا رہا تھا۔یہ سب سراغرسانی کی وزارت کے بھوت عناصر کررہے تھے۔اس وقت ان کے ایک وزیر پر حملہ کیا گیا اور انھیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،دوسرے وزراء کا مواخذہ کیا گیا اور بعض کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔

خاتمی نے اپنی صدارت کے اختتام پر جو بل پارلیمان میں پیش کیے تھے،وہ سب شورائے نگہبان نے مسترد کردیے تھے اور انھیں مجبور کیا گیا کہ وہ ان سے دستبردار ہوجائیں۔ اس لیے اگر آپ اصلاح کے چکر میں ایران کی صدارت پر فائز ہوں تو آپ کو بہت جلد پتا چل جائے گا کہ پورا نظام ہی آپ کے خلاف کام کررہا ہے اور خمینی کا بھوت ہمیشہ کے لیے آپ کا تعاقب کررہا ہے۔ان کے فرمودات حکمراں انقلابی ملّاؤں نے حِرزجاں بنائے ہوئے ہیں،اس لیے ایران میں کسی بھی شکل میں سماجی یا سیاسی تبدیلی ناممکن ہے۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے