گذشتہ بارہ روز میں دہشت گردی کے دو حملوں نے ترکی کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔پہلا حملہ ایک پولیس افسر نے کیا تھا۔ وہ داعش سے وابستہ تھا۔ اس نے انقرہ میں ایک آرٹ گیلری میں ترکی میں متعیّن روسی سفیر کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔دوسرا حملہ استنبول میں نئے سال کے آغاز کے موقع پر کیا گیا ہے اور سانتا کلاز کا روپ دھارے حملہ آور نے ایک نائٹ کلب پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے انتالیس افراد ہلاک اور کم سے کم ستر زخمی ہوگئے۔

گذشتہ سال ترکی کے لیے خونریز ثابت ہوا تھا اور ترکی کو کسی بھی اور ملک کے مقابلے میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں سب سے زیادہ ہدف بنایا گیا تھا۔ ایسا کیوں ہوا تھا؟

اردن جیسے ممالک نے اپنی مضبوط انٹیلی جنس اور سکیورٹی تشکیل دے رکھی ہے جس کی وجہ سے وہ دہشت گردوں کے حملوں کا ایک مشکل ہدف ہیں۔ اگرچہ داعش نے ان کے علاقوں میں ماضی قریب میں دراندازی کی کوشش کی تھی۔

دو سال قبل تک ترکی القاعدہ اور داعش ایسی تنظیموں کا ہدف نہیں تھا۔اس کے سکیورٹی ادارے علاحدگی پسند کرد گروپوں ایسی ریاست مخالف تنظیموں کا مقابلہ کررہے تھے لیکن بالآخر اسلامی انتہا پسند تنظیموں سے وابستہ دہشت گردوں نے ترکی کا رُخ کر لیا۔دو سال قبل جنوری میں ایک حاملہ عورت نے استنبول میں تاریخی آیا صوفیہ عجائب گھر میں زائرین کی ایک بڑی تعداد کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔بعد میں پتا چلا تھا کہ حملہ آور عورت چیچن تھی۔ اس واقعے کے بعد گذشتہ دو سال کے دوران میں دہشت گردوں نے ترکی میں متعدد حملے کیے ہیں۔

داعش کے تین جنگجوؤں نے انقرہ کے اتاترک ائیرپورٹ پر تباہ کن حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 190 افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ پھر انھوں نے استنبول کے ایک اسٹیڈیم کو اسی طرح کے حملے میں نشانہ بنایا تھا جس سے بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئی تھیں۔گذشتہ چند ماہ کے دوران میں دہشت گردوں کے اس طرح کے حملے جاری رہے ہیں اور انھوں نے شادی کی تقریبات ،پولیس چوکیوں ،شاپنگ مالز اور سیاحتی مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داعش کے جنگجو آخر ترکی ہی کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں؟ کیا انھیں خطے کے ایسے مخالفانہ نظاموں کی جانب سے ایسی ہدایات مل رہی ہیں جنھوں نے ترکی کے خلاف اپنی جنگ تیز کررکھی ہے۔جیسا کہ ایران ہے اور اس کے بارے میں مبینہ طور پر ایسا ہی دعویٰ کیا گیا ہے یا داعش نے از خود ترک حکومت کی شام اور عراق میں اپنے خلاف کارروائیوں کے ردعمل میں یہ فیصلہ کرلیا ہے۔

پاکستان سے مشابہ صورت حال

میرے خیال میں ترکی کو آج پاکستان سے مشابہ صورت حال کا سامنا ہے۔پاکستان کو گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں اسی طرح کی دہشت گردی کا سامنا رہا ہے۔ترکی نے شامی بحران کے آغاز کے بعد اپنی جنوبی سرحد عبور کرکے شام لڑائی کے لیے جانے والوں سے آنکھیں موند رکھی تھیں۔اسی طرح پاکستان نے جب القاعدہ تنظیم کے خلاف جنگ شروع کی تو وہ افغانستان میں لڑائی کے لیے جانے والے جنگجوؤں کی گذرگاہ تھا۔

جیش الحر کے جنگجو ترکی ہی سے گذر کر شام جاتے رہے ہیں اور وہ النصرۃ محاذ اور داعش ایسے جنگجو گروپوں میں شمولیت کے لیے جانے والوں کی بھی گذرگاہ رہا ہے مگر ترکی نے جب شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے کی کڑی نگرانی شروع کردی تو وہ دہشت گردوں کے حملوں کا ہدف بن گیا ہے۔یورپی ممالک کی درخواست پر اس نے غیرملکی جنگجوؤں کے شام جانے کے راستے مسدود کیے ہیں تو وہ اسی کو نشانہ بنانا شروع ہوگئے ہیں۔

بیشتر عرب ممالک نے بھی ترکی سے ایسے ہی مطالبات کیے ہیں اور وہ بیک وقت مغرب ،عرب اور روس کے دباؤ میں آگیا ہے۔وہ سب جنگجو گروپوں کی سرگرمیوں کو روک لگانے کے لیے ترکی سے سرحدیں بند کرنے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

ترکی نے ان ممالک کا غیرملکی جنگجوؤں کو سرحد عبور کرکے شام میں لڑائی کے لیے جانے سے روکنے کا مطالبہ تو تسلیم کر لیا ہے لیکن وہ اس کے ساتھ یہ بھی چاہتا ہے کہ شامی گروپوں سے وابستہ جنگجوؤں اور دہشت گرد گروپوں سے وابستہ جنگجوؤں میں تمیز کی جائے کیونکہ اول الذکر تو اپنے ملک کے لیے لڑرہے ہیں۔

اب شامی انقلاب کے باب ترکی کو بھاری قیمت چکانا پڑرہی ہے کیونکہ وہ داعش اور جبہ فتح الشام ( النصرۃ محاذ) ایسی دنیا کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیموں کا بڑا ہدف بن چکا ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں ابھی تک برسرزمین مضبوط نظر آتی ہیں اور وہ اس ملک کے لیے ایک خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

ترکی وہی کرے گا جو اس صورت حال سے دوچار ہونے والے ممالک ماضی میں کرتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر بوسنیا کی حکومت نے اپنی سلامتی کے لیے بوجھ بن جانے والے غیرملکی جنگجوؤں کو بے دخل کردیا تھا اور انتہا پسند کو غیر مسلح کردیا تھا۔ان میں زیادہ تر عرب تھے۔بوسنیائی حکومت نے ان جنگجوؤں کی تنظیموں کے دفاتر کو بھی بند کردیا تھا۔پاکستان نے بھی غیرملکی جنگجوؤں کا پیچھا کیا۔انھیں ان کے ممالک میں واپس بھیجا۔ویزے کی سخت پابندیاں عاید کیں اور انتہاپسند گروپوں کو بے دخل کردیا۔

یہ توقع کی جاتی ہے کہ ترک حکام بھی اب ان انتہا پسند گروپوں کا مسئلہ حل کریں گے۔ان کے لیے مصر ،تیونس اور خلیجی ممالک سے راہ فرار کے بعد ترکی ایک پرآسائش اور محفوظ پناہ گاہ بن چکا تھا۔انقرہ کی حکومت کو علاقائی سکیورٹی سسٹمز سے دستاویزی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ماضی میں اس خیال کی بنا پر ان ممالک سے احتجاج کرتی رہی ہے کہ انھوں نے اور ان کے اداروں نے ان گروپوں کے معاملے میں نرم روی اختیار کیے رکھی تھی۔
----------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے