صدر براک اوباما کے عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ اچھے انداز میں تعلقات کا آغاز ہوا تھا۔پھر ان میں رخنہ آگیا اور یہ نفرت پر منتج ہوئے ہیں۔ دنیا کے سب سے طاقتور صدر نے عرب اور مسلم بچوں کے قتل عام کو نظر انداز کر دیا۔ انھوں نے سُنی اور شیعہ ملیشیاؤں کے دیہات اور قصبوں پر حملوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔یہاں تک کہ انھوں نے ان کے سب سے بڑے دشمن سے سودے بازی کر لی۔

لیکن قصور وار کون ہے؟ ہم یا وہ؟ شاید دونوں۔ درحقیقت ہم ان کی پالیسیوں کو مناسب طور پر سمجھنے میں ناکام رہے تھے۔ہم نے ان سے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے بھی قبل بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلی تھیں اور انھیں ایک ایسے صدر کے طور پر دیکھنے لگے جو دنیا کا چہرہ تبدیل کردے گا۔

صرف دو ہفتے کے بعد براک اوباما وائٹ ہاؤس سے چلے جائیں گے لیکن ان کے ورثے کا تجزیہ کرنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ وہ نہ تو عظیم تھے اور نہ قابل رحم۔وہ نہ تو غیر معمولی تھے ،جیسا کہ ہم توقع لگائے بیٹھے تھے اور نہ برے تھے۔وہ بظاہر ایک ایسے ٹیکنوکریٹ لگے تھے جو مقامی قسم کے مسائل میں الجھ کر رہ گیا تھا،جس کا دنیاکے سب سے طاقتور ملک کے صدر کی حیثیت سے کوئی عالمی وژن نہیں تھا،حالانکہ ایسا ہونا چاہیے تھا۔

ہم سے پہلی غلطی براک اوباما کی جامعہ قاہرہ میں تقریر کو سمجھنے اور پرکھنے میں ہوئی تھی۔انھوں نے یہ تقریر؁2009
میں کی تھی۔ہم ایک ایسے افریقی، امریکی کی صدارتی انتخابات میں کامیابی سے پیدا ہونے والے جذبات کی رو میں بہ گئے جس کے باپ کا نام حسین تھا اور جو مسلم نژاد تھا۔ان کے والد درحقیقت ایک ملحد تھے۔انھوں نے جو پیغام دیا،ہم نے اس کو نظرانداز کردیا۔اس میں انھوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ سے جلد سے جلد انخلا چاہتے ہیں۔

ان کی تقریرکا عنوان‘‘ نیا آغاز’’ تھا لیکن جنھوں نے اس کو بہ غور سنا تھا،وہ جانتے ہیں کہ اس کا عنوان ‘‘خدا حافظ’’ ایسا ہونا چاہیے تھا۔انھوں نے اپنی تقریر میں عربی الفاظ کا برمحل استعمال کیا تھا،انڈونیشیا میں اپنی بچپن کی یادوں کو تازہ کیا۔انھوں نے عربوں اور مسلمانوں کو ان کی عظیم قدیم تہذیب کا تذکرہ کرکے جھنجھوڑا تھا۔

الفاظ کا یہ سب نفسیاتی الٹ پھیر دراصل عربوں کا امریکا کے خلاف غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے تھا کیونکہ جارج ڈبلیو بش کے دور صدارت کے بعد عرب خاص طور پر غصے میں بھرے ہوئے تھے۔پھر براک اوباما نے خود کو ہمارے خطے سے دور کر لیا اور بعد میں یہی کچھ ہوا تھا۔

خارجہ پالیسی کی تفہیم

ہم سے دوسری غلطی ان کی خارجہ پالیسی کی تفہیم میں ہوئی تھی۔ دانشورانہ سطح پر براک اوباما اس بات میں یقین نہیں رکھتے تھے کہ عالمی امور میں اجارہ داری کمزور پڑنے سے امریکا کی عظمت میں بھی کمی واقع ہوگی حالانکہ ان کے پیش رو صدور امریکا کی اجارہ داری کا مسلسل پرچار کرتے رہے تھے۔ صدر اوباما کے قریبی مصاحبین بھی یہی وژن رکھتے تھے۔انھوں نے اپنے دور صدارت میں تین وزرائے دفاع : باب گیٹس ، لیون پینیٹا اور چک ہیگل کو تبدیل کیا کیونکہ وہ ان ایسی اپروچ نہیں رکھتے تھے۔

صدر اوباما نے صرف ایک موقع پر خارجہ امور میں مداخلت کے لیے اپنی شدید خواہش کا اظہار کیا تھا۔ یہ بھی دراصل ایک جذباتی اظہاریہ تھا۔انھوں نے دوسری مرتبہ وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد شامی صدر بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی سے متعلق ایک دھمکی آمیز بیان جاری کیا تھا۔یہ اب بدنام زمانہ ‘‘ سرخ لکیر’’ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اوباما کے ناقدین ان سے ان چیزوں کے بارے میں سوالات کررہے ہیں جو انھوں نے کی ہی نہیں ہیں۔ جو لوگ امریکا سے اس کی انسانی اور اخلاقی ذمے داریاں پوری کرنے اور شامی بچوں کو بیرل بموں کی تباہ کاریوں سے بچانے کا مطالبہ کرتے رہے تھے،وہ یہ بات بھول گئے کہ صدر اوباما نے (شامی بحران کے بالکل آغاز ہی سے) ایک تماشائی کا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔انھوں نے صحت کے شعبے میں اصلاحات اور تن خواہیں بڑھانے ایسے امریکا کے داخلی مسائل میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔

انھوں نے دنیا میں رونما ہونے والے خوف ناک واقعات کے بارے میں سرد مہری اور بے حسی کا رویہ اختیار کر لیا۔ مثال کے طور پر انھوں نے سمندر کنارے ڈوب مرنے والے شامی بچے ایلان کردی اور فضائی حملے میں تباہ شدہ مکان کے ملبے سے نکالے گئے بچے عمران دقنیش کی تصاویر پر بھی کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ ان کی اپنے ملک سے باہر رونما ہونے والے واقعات سے لاتعلقی واضح تھی کیونکہ وہ اسد رجیم کے شام میں مظالم سے متعلق خوف ناک خبروں کو سننے کو عادی ہوچکے تھے۔یہ اور بات ہے کہ انھوں نے اپنے ردعمل کا بہ انداز اظہار کیا تھا کیونکہ وہ ہمیشہ اپنے بلیک بیری کے ساتھ مصروف نظر آتے تھے۔

وہ ہمیشہ ایک ہی دلیل کا اعادہ کیا کرتے تھے کہ امریکا نے عراق میں مداخلت کی تھی اور اس کا نتیجہ منفی رہا تھا۔ایک مرتبہ ایک صحافی نے اس کا یہ جواب دیا تھا کہ ‘‘ دنیا عراق ہی میں ختم نہیں ہوجاتی ہے’’۔

انھوں نے امریکی دانشوروں اور سیاست دانوں کی تنقید کو بھی درخور اعتنا نہیں جانا تھا۔ یہ صرف کوئی اخلاقی معاملہ نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی امور کو درست خطوط پر استوار کرنے ،امریکا کی تخلیق کردہ دنیا میں مفادات اور اثر ورسوخ کو برقرار رکھنے کا معاملہ تھا۔

دہشت گردی کے بارے میں حکمت عملی

مزید برآں ہم صدر اوباما کی دہشت گردی کے بارے میں پالیسی کو بھی نہیں سمجھ سکے ہیں۔ان کے دور صدارت میں دنیا کی سب سے خطرناک تنظیم داعش کا ظہور ہوا۔وہ پھلی پھولی اور اس نے ایسے تباہ کن قتل عام کا ارتکاب کیا تھا جس کے بارے میں کسی نے اکیسویں صدی میں سوچا بھی نہیں تھا۔ امریکی صدر اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ دہشت گردی ایک مسلم مسئلہ ہے اور اس کے ساتھ امریکا کے ساحلوں سے دور ہی معاملہ کیا جانا چاہیے۔

وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ جب امریکا نے اسامہ بن لادن کو جا لیا تو انھوں نے دہشت گردی کو شکست دے دی اور اس بات کی بھی تصدیق کردی کہ دہشت گردی کی شدت میں کمی واقع ہوگئی ہے۔وہ اپنے اسی موقف پر اصرار کرتے ہیں حالانکہ ہر کوئی یہ یقین رکھتا ہے کہ یہ درست نہیں تھا۔انھوں نے خود کو بغیر پائیلٹ جاسوس طیاروں تک محدود کر لیا تھا۔براک اوباما نے عالمی حدت میں اضافے ایسے ایشو میں دلچسپی کا اظہار کیا اور اطلانتک میگزین کے ساتھ انٹرویو میں اس کو باقی تمام ایشوز سے سب سے اہم قرار دیا تھا۔

اس تمام کے پیچھے اوباما کی سیاست کے بارے میں تفہیم کارفرما تھی۔ وہ خود کو اپنی حکومت کے دیگر تمام عہدہ داروں سے زیادہ تعلیم یافتہ اور ہوشیار خیال کرتے تھے۔ اس لیے وہ دوسروں کے مشوروں کو زیر غور لائے بغیر سوچنے ،فیصلہ کرنے اور اس کو مسلط کرنے کے عادی ہوچکے تھے۔ انھوں نے ہلیری کلنٹن کو سیکریٹری آف اسٹیٹ کی حیثیت سے دیوار سے لگا دیا تھا۔ رچرڈ ہالبروک کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا تھا۔وہ اپنی موت سے قبل صدر اوباما کو یہ باور کرانے میں ناکام رہے تھے کہ انھیں افغانستان میں اپنی حکمت عملی تبدیل کر لینی چاہیے۔

اوباما دنیا کے دوسرے رہ نماؤں کے دوست بھی نہیں بن سکے۔انھوں نے خود کودوسروں سے ایک فاصلے میں اور الگ تھلگ رکھا۔ وہ صرف دمتری ویدویدیف کے دوست بنے تھے اور شاید اس کی وجہ ان کے درمیان ایک قدر مشترک تھی اور وہ دونوں وکیل تھے۔یہ کہا جاتا ہے کہ وہ کانگریس کے ارکان کے ساتھ ملاقاتوں یا ان کے ساتھ عشائیوں پر جانے کے بجائے اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ رات کے کھانے کو ترجیح دیتے ہیں۔

سوشل میڈیائی نسل

اس وقت ان کے ری پبلکن پارٹی میں کوئی دوست یا اتحادی نہیں ہیں۔چنانچہ ان کا صحت عامہ کا پروگرام اوباما کیئر معرض خطرمیں ہے کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس کی تنسیخ کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اوباما یہ یقین کرتے ہیں کہ وہ فیس بُک اور ٹویٹر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔اگرچہ انھیں اپنے حامیوں اور مداحوں سے ابلاغ کے لیے مختصر دورانیے کے کلپ بنانے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔وہ اس بات میں بھی یقین نہیں رکھتے ہیں کہ انھیں خود سے مخالف آرا کی حامل سیاسی شخصیات کے ساتھ بھی بیٹھنے کی ضرورت ہے۔

اوباما ایسے صدر نہیں ہیں جو داخلی طور پر ناکام رہے ہیں۔انھوں نے اقتصادی اصلاحات کی ہیں اور آٹو موبائل کی صنعت کو ڈوبنے سے بچا لیا ہے۔انھوں نے متعدد کمزوریوں کے باوجود صحت کے ایک اہم منصوبے کی توثیق کی تھی۔

وہ ایک اچھے مقرر ہیں اور ان کی کتاب ‘‘ میرے باپ کے خواب’’ بہترین سوانح عمریوں میں سے ایک ہے۔تاہم امریکا کا صدر دنیا کا بھی سربراہ ہوتا ہے اور بل کلنٹن کے الفاظ میں ‘‘ ایک ناگزیر قوم’’ کا سربراہ ہوتا ہے۔ امریکا نے نازی ازم اور فاشزم ایسے نظاموں کا خاتمہ کیا ہے۔القاعدہ ایسے ظالم گروپوں کو کمزور کیا ہے اور ایک لبرل آرڈر کو برقرار رکھا ہے جس میں آج ہم یورپی طاقتوں کے زوال کے بعد رہ رہے ہیں۔

اوباما امریکا کے پہلے صدر ہیں جن سے بہت سے عرب ،خواہ وہ قدامت پسند ہوں ،لبرل ،دانشور ،فن کار ،تاجر ،ٹیکسی ڈرائیور یا بڑھئی ہوں، سب نفرت کرتے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اس مرتبہ وہ سب درست ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے