ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ شام میں جاری جنگ میں مارے جانے والے ایرانی فوجی اگر وہاں کام نہ آتے تو وہ تہران ، فارس ،خراسان اور اصفہان میں امریکی اور صہیونی ایجنٹوں سےلڑرہے ہوتے۔ہمارے خیال میں خامنہ ای نے اپنے عوام اور شام میں ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندانوں کے سامنے جو کچھ کہا ہے، وہ محض ایران کے جانی نقصان کو جائز ثابت کرنے کے لیے ہے۔ان کا بیان شاید سیدھا اور گہری اہمیت کا حامل ہو۔ یعنی ایران کے اندر نظام کو درپیش خطرے کا واویلا کیا جائے اور یہ کہا جائے کہ اس نظام کو بچانے کے لیے جنگ کو سرحدوں سے باہر منتقل کردیا گیا ہے۔

ایران کی قیادت اپنی سرحدوں سے باہر جنگوں کو جائز ثابت کرنے کے لیے بیانات جاری کرتی رہتی ہے تاکہ ان ناقدین کو خاموش کرایا جاسکے جو غیر ضروری جنگوں میں فوجیوں کی شرکت کی مخالفت کرتے چلے آرہے ہیں۔ان جنگوں سے تہران کے توسیع پسندانہ ذہنیت کے حامل اور بالادستی کے خواہاں مذہبی اور فوجی قائدین کے ضمیر ہی کو مطمئن کیا جاسکتا ہے۔جنگ جتنا طول پکڑے گی،اس تناسب سے جانی نقصانات میں بھی اضافہ ہوگا۔اس پر سوال اٹھائے جائیں گے اور قیادت کے فیصلوں کی مذمت کی جائے گی۔ امریکا اور صہیونیوں سے لڑنے کی منطق تیس سال کے بعد اب بے معنی ہوچکی ہے اور اس کا کوئی جواز نہیں رہا ہے کیونکہ اس کی حیثیت تو اقتدار پر قابض رہنے کے لیے ایک نعرے کی تھی۔

مابعد انقلاب عشروں کے دوران میں ایران کی قیادت دہشت گردی کے لیے حمایت کو جائز ثابت کرتی رہی تھی۔اس نے علاقائی اور عالمی سطح پر تشدد کی آبیاری کی۔اپنے ہمسایوں کو ڈرایا دھمکایا ،جوہری پروگرام کو ترقی دی اور اپنے طور پر جنگوں کی تیاری کی۔اس کا واحد ریاستی منصوبہ اور نظریہ اپنے دفاع کے جواز پر مبنی تھا اور یہ کہ اس کو عالمی مغربی صہیونی رجیم کی جانب سے چڑھائی کا خطرہ ہے۔ مغرب کے ساتھ جوہری معاہدے پر دستخط اور مغرب کے ساتھ مصالحت کے بعد جنگ کے خطرے کے واویلے کا اب کوئی جواز نہیں رہا ہے۔اس جوہری معاہدے کے بعد ایران نے زیادہ کھلے پن اور پُرامن حکمت عملی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے بیرون ملک فوجی مہم جوئیوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

جنگ اور ایران کی ضروریات

ایرانی نظام نے 1980ء کے عشرے میں صدام حسین کے دور حکومت میں عراق کے ساتھ جنگ کے وقت معاشرے کو فوجی بنانے کا تصور اختیار کیا تھا۔ایران کے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی نے اس جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ نہیں کیا تھا اور یہ آٹھ سال تک جاری رہی تھی۔اس جنگ کا ایرانی نظام نے اندرون ملک اپنے مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لیے خوب فائدہ اٹھایا تھا اور سابق شاہ کے حامیوں اور رجیم مخالف شخصیات کا قلع قمع کردیا گیا تھا۔

آج ایرانی نظام کو مزید جنگوں میں الجھنے کی کیوں ضرورت ہے؟بالخصوص اس صورت میں بھی جب اس نے پہلے ہی اپنے دشمنوں کو ٹھکانے لگا دیا ہے۔ ایران مختلف قوتوں پر مشتمل ایک بڑا ملک ہے اور یہ ضروری نہیں کہ یہ قوتیں باہم برسرپیکار ہوں لیکن وہ دانشورانہ اور سماجی سطحوں پر نظام کے خلاف ہیں اور مذہبی اور سکیورٹی کی سطح پر ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہیں جس سے تنازعے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

داخلی سطح پر کنٹرول کے لیے غیرملکی جنگوں میں الجھنا ان نظاموں کا ایک پرانا حربہ ہے جو اپنی داخلی صورت حال کو کنٹرول میں رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ ایران اگرچہ قومی سطح پر ایک کمزور ملک ہے مگر اس کے بیشتر عسکری اور سکیورٹی ادارے ،سپاہ پاسداران انقلاب ،باسیج ملیشیا ، فوج اور انٹیلی جنس سروسز بہت امیر اور مضبوط ہیں۔ ایران کے پاس جدید صنعتیں ہیں اور اس کی اپنی بڑی کمپنیاں ہیں۔ان میں تیل کمپنیاں ،تیل صاف کرنے کے کارخانے ،درآمدات اور برآمدات کی کمپنیاں ،ہوٹل اور دوسرے ادارے ہیں۔

ایران کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بیرون ملک غیر قانونی جنگیں مسلط کررہا ہے اور اس کے لیڈر اس مسئلے سے پوری طرح آگاہ ہیں۔مثال کے طور پر پڑوسی ملک عراق میں جب ایک جنگ ختم ہوتی ہے تو وہ ایک نئی جنگ کو چھیڑ دیتے ہیں۔ شام میں اگر ایران نے اسد رجیم کے لیے کوئی کامیابیاں حاصل کی ہیں تو وہ ان سے کوئی مضبوط نہیں ہوا ہے اور جونہی ایران کے فوجیوں اور ملیشیاؤں کا جنگ زدہ ملک سے انخلا ہوا تو اسد رجیم کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ ایران نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت یمن ،افغانستان اور لبنان میں اپنی عسکری موجودگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔تہران کی قیادت گومگو کی کیفیت سے دوچار ہے۔وہ تنازعات والے مقامات میں سیاسی حل کو قبول کرنے سے انکاری ہے کیونکہ اس نے خود کو ان جنگوں میں الجھا رکھا ہے،نتیجتاً ان ممالک میں یہ جنگیں کئی سال تک جاری رہ سکتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ ایرانی مزید کتنا عرصہ اپنے نقصانات کو برداشت کرتے رہیں گے اور بیرون ملک جنگی مہموں کو جاری رکھیں گے؟ شاید اس کا انحصار سکیورٹی سروسز کے موثر ہونے،قوت اور سڑکوں پر صورت حال پر قابو پانے کی صلاحیت پر ہے لیکن جہاں تک تقریروں اور پروپیگنڈے کا تعلق ہے تو وہ بہت جلد اپنی اہمیت کھو دے گا۔

ایران نے ابتدا میں عراق اور شام میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جذبات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی اور یہ جواز پیش کیا تھا کہ وہ وہاں مزاروں کا دفاع کررہا ہے لیکن برسرزمین حقیقت تو یہ تھی کہ بیشتر جنگیں تو ان مقدس مزارات کی جگہوں پر ہو ہی نہیں رہی تھیں۔اب وہ یہ جواز پیش کررہے ہیں کہ حلب کے دور دراز علاقے میں جنگ ایران کی داخلی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہے۔

---------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے