سعودی عرب کی جنرل اتھارٹی برائے تفریح کے سربراہ کے ملک میں سینما گھر کھولنے اور کنسرٹس کے انعقاد کی اجازت دینے سے متعلق بیانات پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ ہم سعودی اس طرح کے مباحث میں الجھنے کے عادی ہوچکے ہیں۔سعودی پہلے اس طرح کے مباحثوں میں الجھتے ہیں اور یہ بعد میں عوام کے حقوق بن جاتے ہیں۔

بچیوں کی تعلیم ، ٹیلی ویژن کی اجازت ،خواتین کو (گھر سے باہر) کام کرنے کی اجازت اور اسی طرح کے دوسرے موضوعات پر مباحث سے تنازعات پیدا ہوئے تھے اور بعد میں یہ ہماری زندگیوں کا حصہ بن گئے ہیں۔ازکار رفتہ اور انتہا پسند آوازوں کو پسپائی اختیار کرنا پڑی اور انھیں بھی نئے فیصلوں کو مانتے ہی بنی۔میرے خیال میں سینما گھر کھولنے کی اجازت سے متعلق نئی بحث کل کی ٹیلی ویژن کی بحث سے ہی مشابہ ہے۔ دراصل الگ تھلگ اور بند معاشروں کا یہ ایک معمول ہے کہ وہ پہلے نئی چیزوں کے بارے میں اپنے خدشے اور تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور آغاز میں انھیں مسترد کردیتے ہیں لیکن بالآخر وہ انھیں تسلیم کرلیتے ہیں۔مجھے کسی شک وشبے کے بغیر یہ یقین ہے کہ جو لوگ آج سینماؤں کو مسترد کر رہے ہیں ،وہ کل کلاں ان پر آپس میں مقابلہ کررہے ہوں گے۔

اسلامی سینما گھر بہت جلد نمودار ہوں گے اور وہ اس صنعت کو اسلامی دعوت وارشاد کے لیے استعمال کریں گے اور ان کو وہ اسی مقصد کے لیے استعمال کریں گے جس مقصد کے لیے انھوں نے ماضی میں ٹیلی ویژن چینلز کو استعمال کیا تھا حالانکہ چند سال پیشتر ہی وہ ان کی مخالفت کرتے رہے تھے۔اس وقت اسلامی ٹیلی ویژن چینلز کی تفریحی پروگرام پیش کرنے والے ٹیلی ویژن چینلوں سے مسابقت جاری ہے۔

وہ کنسرٹس میں بھی مقابلہ کررہے ہوں گے لیکن بہ انداز دیگر۔ وہ انھیں مختلف نام دیں گے مثلاً اسلامی نغموں کے کنسرٹس کا انعقاد کرسکتے ہیں۔میں صرف یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت کنسرٹس کی مخالفت کررہے ہیں ،وہ بعد میں ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کررہے ہوں گے۔

میں تفریح طبع کے مختلف ذرائع کے دستیاب ہونے کے حوالے سے اس اثباتیت کا بہت زیادہ قائل ہوں اور یہ بھی یقین رکھتا ہوں کہ یہ اثاتیت معاشرے کو صحت مند انتخاب کا موقع مہیا کرنے کے لیے آزادی کے صحت مندانہ مظہر کا ثبوت ہے۔

جو لوگ عام سینما گھروں میں جانا چاہتے ہیں جہاں عربی یا غیر ملکی فلمیں دکھائی جاتی ہیں تو وہ ایسا کرسکتے ہیں اور جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ انھیں اور ان کے خاندانوں کو اسلامی سینماؤں میں جانا چاہیے تو وہ بھی ایسا کرسکتے ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ انھیں ان کو نوجوانوں کو دہشت گردی ، تشدد اور نفرت کے کلچر کو پروان چڑھانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

حقیقی محرکات

تفریح کے تنوع اور پابندیوں کا خاتمہ ایک عمومی مطالبہ ہے تاکہ شہری ریاست کے آزادی اور انتخاب پر مبنی قوانین اور ثقافت وجود میں آئے۔ تخلیقیت اور لوگوں کی دوسروں پر بالاتری کے لیے یہی حقیقی محرکات ہیں۔اس سے آزادی کو نظم وضبط کا پابند بنانے کے لیے بھی ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تاکہ ہر کوئی آزادی کے ساتھ اپنے عقائد کو عملی جامہ پہنا سکے۔اس کے تحت کسی ایک نظریے کی دوسرے پر بالا تری بھی نہیں ہونی چاہیے کیونکہ مہذب لوگ بھی تو یہی چاہتے ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ تفریحی انتخاب میں اس طر ح کے کھلے پن اور تنوع سے بہت اچھے اقتصادی اور سماجی نتائج برآمد ہوں گے۔انٹرٹینمنٹ کا شعبہ دو چیزیں حاصل کرسکتا ہے۔پہلے نمبر پر اس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور بے روز گاری کے مسئلے کے حل میں مدد ملے گی کیونکہ بے روزگاری بڑھتی چلی جارہی ہے اور اس سے نوجوان طبقے میں تشویش بھی پائی جارہی ہے۔

اگر بے روزگاری کا خاتمہ نہیں کیا جاتا ہے تو ایک وقت آئے گا کہ یہ مسئلہ ایک ٹائم بم بن جائے گا،یہ معاشرے میں تخریب کا موجب ہوگا،اس کی سلامتی اور استحکام کو تہس نہس کردے گا۔ دوم ، انٹرٹینمنٹ کا شعبہ ان سعودی عوام کو اپنی جانب راغب کرے گا،جو تفریح طبع کے لیے بیرون ملک کا سفر کرتے ہیں اور سعودی مملکت سے باہر بھاری رقوم صرف کر دیتے ہیں۔مقامی صنعت کی صورت میں وہ یہ رقوم ادھر ہی خرچ کرسکیں گے۔

میں صرف اور صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سینما گھر کھلنے چاہییں اور اسلامی سینما گھر بھی۔ کنسرٹس منعقد ہوں گے اور اسلامی نغموں کے کنسرٹس کا بھی انعقاد ہوگا۔ پھر سعودی عوام اور یہاں کے مکینوں کو تفریح طبع کے لیے کہیں بھی جانے کا حق حاصل ہوگا۔
_______________________
محمد آل الشیخ ایک سعودی لکھاری ہیں۔وہ سعودی اخبار الجزیرہ سے وابستہ ہیں۔ٹویٹر پر ان سے اس پتے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے:
tweets @alshaikhmhmd

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے