واشنگٹن میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سربراہی میں نئی انتظامیہ اقتدار سنبھال رہی ہے ،ایسے میں ایران نے قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں آج سوموار سے آغاز ہونے والے مذاکرات میں کسی امریکی کی شرکت کی مخالفت کردی ہے اور اس پر تشویش کا بھی اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے 17 جنوری کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ''ہم نے انھیں دعوت نہیں دی تھی اور ہم ان (امریکیوں) کی موجودگی کے بھی خلاف ہیں''۔

یہ ایران ہے جو اپنے وطن میں بگڑتی ہوئی سماجی بنیاد کے پیش نظر اپنا چہرہ بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ ایرانی جانتے ہیں کہ شامی دستاویزات کے روس کے ہاتھ چلے جانے کے بعد سے وہ اپنی بالادستی کھو چکے ہیں مگروہ ابھی تک اس تزویراتی ہزیمت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں۔

جواد ظریف کا مذکورہ بیان روس اور ترکی کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے بھی منافی ہے۔ان دونوں ممالک نے حال ہی میں ایران سے شام کے معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور انھوں نے ہی ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی انتظامیہ کو آستانہ مذاکرات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔امریکی حکام نے بھی اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ واشنگٹن اس نئی کوشش میں حصہ لے گا۔

اس تازہ پیش رفت سے امریکا اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ پر بہت سے اختلافات میں سے ایک بڑے تنازعے کی عکاسی ہوتی ہے۔اس کے متوازی اس بات کا بھی قوی امکان ہے کہ ٹیم ٹرمپ ایران کے بارے میں اوباما انتظامیہ کے برعکس ایک مختلف پالیسی اختیار کرنے جارہی ہے۔

درحقیقت اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ ماسکو نے کبھی تہران کو اپنا تزویراتی شراکت دار نہیں سمجھا ہے۔یہ بھی واضح ہے کہ کریملن وائٹ ہاؤس کے ساتھ نئے سرے سے تعلقات استوار کرے گا اور اس سے مضبوط تعلقات کو ترجیح دے گا جبکہ ایران شام کو اپنا پینتیسواں صوبہ خیال کرتا ہے جبکہ روس کے ساتھ کبھی ایسا معاملہ نہیں رہا ہے اور وہ شام کو ایسا نہیں سمجھتا ہے۔

پاسداران انقلاب ایران کے سابق انٹیلی جنس چیف اور ایک سرکردہ عالم مہدی تائب نے شام کی اپنے ملک کے لیے اہمیت ان الفاظ میں اجاگر کی ہے:''اگر دشمن ہم پر حملہ آور ہوتا ہے اور وہ شام یا خوزستان ( تیل کی دولت سے مالا مال جنوب مغربی صوبہ) کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو ہماری ترجیح یہ ہوگی کہ ہم شام کو اپنے پاس رکھیں کیونکہ اگر ہم شام پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں تو ہم خوزستان کو واپس لے سکتے ہیں لیکن اگر ہم شام کو کھو دیتے ہیں تو ہم تہران سے بھی محروم ہوجائیں گے''۔

روس کے مقاصد

روس کے چالیس سال کے بعد مشرق وسطیٰ میں لوٹ آنے کے کثیر مقاصد ہیں۔امریکا اور یورپ نے کریملن اور کریمیا کے تنازعے پر روس پر سخت پابندیاں عاید کررکھی ہیں،اس صورت حال میں روس دنیا کے تزویراتی لحاظ سے اہمیت کے حامل علاقے میں نہ صرف اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہا ہے بلکہ وہ اس کو مستقبل میں واشنگٹن اور برسلز کے ساتھ سودے بازی کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرنا چاہتا ہے۔

روس شام پر مشرق وسطیٰ میں اپنے ایک اتحادی ملک کے طور پر کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے بلکہ وہ اس کو اپنے فوجی ہتھیاروں اور سازوسامان کی برآمدات کے لیے ایک منافع بخش مارکیٹ بھی سمجھتا ہے۔ تاہم اس کا شامی آمر بشار الاسد کو برسر اقتدار رکھنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ماسکو اس سلسلے میں مغرب کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کسی انتظام تک پہنچا چاہتا ہے۔

دوسری جانب تہران ایک بالکل مختلف راستے پر گامزن ہے اور وہ خطے میں تباہ کن ''شیعہ ہلال'' کے قیام کی راہ پر چل رہا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ ایران شام میں کوئی تشکیل نو نہیں کرسکتا جبکہ مغرب کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف بھی یہی چاہتی ہے۔

ایران نے شام میں اور اپنی گماشتہ شیعہ ملیشیاؤں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ وہ بشار الاسد کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور ہیں اور وہ دمشق کے بجائے تہران کے احکامات پر عمل پیرا ہیں۔شام کو ایران کی عراق سے لبنان اور یمن تک محیط مشرق وسطیٰ حکمت عملی میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے۔

روس امریکا اور یورپ سے یوکرین سمیت مختلف ایشوز کے بارے میں زیادہ رعایتوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔اس صورت حال میں امریکا اور روس کے درمیان شام پر ایران کے مفادات کے برعکس کوئی سمجھوتا طے پاسکتا ہے اور ایسے سمجھوتے کو خارج از امکان تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔

اس سے ایران کے نقطہ نظر سے روس اور امریکا کے درمیان شام کے مستقبل کے حوالے سے ایک خطرناک ممکنہ بنیاد پڑے گی۔ماسکو شامی بحران کے کسی تیز رفتار حل کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور وہ امریکا کی آستانہ مذاکرات میں شرکت کو اس مقصد کے تناظر ہی میں دیکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ایران کے سفارت کار اعلیٰ جواد ظریف نے آستانہ مذاکرات میں امریکا کی شرکت پر اپنے سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا اور اس کو یوں خیال کیا تھا جیسے روس نے ایران کو ایک بس کے نیچے کچل دیا ہو۔ ایران اور روس کے درمیان شام اور اس کے مستقبل پر تنازعہ نرم سے نرم الفاظ میں بہت سنجیدہ ہے۔جیسا کہ میں نے حال ہی میں اس کی وضاحت کی ہے:

''ایران کو ممکن ہے حلب میں ایک ٹیکٹیکل (تزویراتی) فتح حاصل ہوئی ہو۔تاہم روس بظاہر اس سے مختلف نظر آتا ہے۔ اس کے طویل المیعاد مفادات ایران سے یکسر مختلف ہیں۔ روس نے شامی حزب اختلاف سے براہ راست خفیہ بات چیت کی ہے۔ ایران کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ صدر براک اوباما کی صدارت کو اپنے لیے ایک سنہری دور خیال کرتا رہا ہے لیکن اس کو نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے حوالے سے تشویش لاحق ہے کیونکہ وہ ایران کے بارے میں سخت نقطہ نظر کے حامل ہیں''۔
_________________________
حشمت علوی ایک سیاسی تجزیہ کار اور انسانی حقوق کے علمبردار ہیں۔ وہ ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں ، سماجی کریک ڈاؤن ،ایرانی رجیم کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت ،دوسرے ملکوں میں مداخلت اور متنازعہ جوہری پروگرام ایسے موضوعات پر اپنی تحریروں میں اظہار خیال کرتے رہتے ہیں۔ان سے ٹویٹر پر @HeshmatAlavi پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔ انٹرنیٹ پر ان کے بلاگز ''ایران کمنٹری'' کے نام سے شائع ہوتے ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے