سعودی عرب کے سکیورٹی حکام نے منگل کے روز داعش کے حال ہی میں پکڑے گئے سیل کے بارے میں تفصیل کا انکشاف کیا ہے۔ سعودی عوام نے دہشت گردی کے ان سیلوں کی دارالحکومت الریاض کے علاقے الیاسمین اور ساحلی شہر جدہ کے علاقوں حرازات اور النسیم میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران میں سرگرمیاں مشاہدہ کی ہیں۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے ان کارروائیوں کے دوران میں سولہ انتہا پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ان میں تین سعودی ہیں اور باقی تیرہ پاکستانی شہری ہیں۔الحرازات میں واقع ایک ریسٹ ہاؤس میں خود کو دھماکوں سے اڑانے والے دونوں بمباروں کی شناخت ہوچکی ہے اور اس سے پتا چلا ہے کہ وہ بہت ہی خطرناک دہشت گرد تھے۔ وہ ایک ریسٹ ہاؤس میں رہ رہے تھے اور اس کو بم سازی اور خودکش جیکٹوں کی تیاری کے لیے ایک فیکٹری کے طور پر استعمال کررہے تھے۔ان کے نام غازی حسین السروانی اور نادی مرزوق المضیانی ہیں اور وہ دونوں سعودی شہری تھے۔

سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کردہ تفصیل کے مطابق السروانی انتہائی مطلوب افراد میں سے ایک تھا۔اس کا گذشتہ تین سال کے دوران میں سعودی عرب میں دہشت گردی کے مختلف واقعات سے کسی نہ کسی حوالے سے تعلق رہا تھا اور دہشت گرد عناصر سے بھی اس کا تعلق تھا۔

دونوں دہشت گرد سعودی عرب کے جنوبی علاقے ابھا میں خصوصی فورسز کی مسجد میں بم دھماکے ، نجران میں المشہد مسجد پر بم حملے اور دہشت گردی کے دوسرے واقعات میں ملوث تھے۔ انھوں نے کرنل کتاب ماجد الحمادی کے قتل کے واقعے کے ماسٹر مائنڈ عقبہ العتیبی کے ساتھ بھی تعاون کیا تھا۔

تعلق کے تانے بانے

سعودی وزارت داخلہ کے جنرل باسم عطیہ نے صحافیوں کو دہشت گردی کے ان سیلوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ تین سال کے دوران میں مملکت میں داعش کی تمام سرگرمیوں کے تانے بانے آپس میں ملتے ہیں اور ہم نقاط ملا کر تصویر مکمل کرسکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ داعش کا گرفتار رکن عقبہ العتیبی مختلف سیلوں کے درمیان روابط کی ایک مثال ہے۔جنرل عطیہ کے بیان میں اہمیت کی حامل یہ بات ہے کہ سعودی سکیورٹی فورسز گذشتہ 28 ماہ سے داعش کے خلاف لڑرہی ہیں اور ان کی سرگرمیوں کو روک لگانے کی کوشش کررہی ہیں۔ شام سے کسی نہ کسی حوالے سے تعلق رکھنے والے ممالک کے ساتھ یہی معاملہ پیش آیا ہے۔

میں یہ تجویز نہیں کررہا ہوں کہ داعش کی دوسرے ممالک میں دہشت گردی کی صرف یہی ایک وجہ ہے کیونکہ اس کے علاوہ تعلیمی مسائل اور ثقافتی ایشوز بھی ہیں۔ تاہم گذشتہ تین سال کے دوران میں اس بلند شرح سے سعودی عرب کو ہدف بنایا جانا داعش کی عالمی سطح پر نقل وحرکت میں اضافے کا بھی نتیجہ ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور خطرات بھی بدستور موجود ہیں۔ اسلامی دہشت گردی کا مکمل استیصال کوئی آسان کام نہیں ہے۔سعودی وزارت داخلہ وہی کچھ کررہی ہے جو اس کو کرنا چاہیے۔وہ چوکس ہے اور دہشت گردی کے سیلوں کے خلاف مسلسل کریک ڈاؤن کررہی ہے۔دہشت گردی کو دوسرے ذرائع سے ہی جڑ سے اکھاڑ پھینکا جاسکتا ہے اور ان میں سکیورٹی آخری حربہ ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے