امریکی حکومت کی جانب سے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرنے کا عزم کوئی نیا اقدام نہیں۔ تقریبا ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصہ قبل کانگریس ایک قرار داد کے ذریعے اسے منظور کر چکی ہے تاہم یکے بعد دیگرے آنے والے صدور نے منتقلی کے عمل کے التوا کا سہارا لیا۔ اس لیے مذکورہ فیصلے کو مسترد کرنے کے لیے ایک مرتبہ پھر کانگریس سے رجوع کرنا پڑے گا۔ اس امر کی متقاضی ایک دوسری قرار داد کے اجراء کی ضرورت ہو گی اور شاید یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکے۔ تازہ پیش رفت یہ ہے کہ نئے امریکی صدر نے اپنے وعدے کے مطابق اس پر عمل کرنے کا عزم کیا ہے۔

اسرائیل میں امریکی سفارت خانے اور اس کی منتقلی کے بارے میں منتقلی کے حوالے سے میں اسی سیاق سے متعلق تین پہلوؤں کو پیش کروں گا۔ یہ پہلو مقبوضہ بیت المقدس کا مفہوم ، تاریخی پس منظر اور موجودہ صورت حال ہے۔

امریکا 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے پہلے ہی سال یہودی ریاست کے اولین دارالحکومت تل ابیب میں اپنے سفارتی مشن کا قیام عمل میں لے آیا اور تمام بڑے ممالک نے ایسا ہی کیا۔ 1967 کی جنگ سے ایک سال قبل امریکا نے تل ابیب میں اپنے سفارت خانے کے لیے ایک بڑی اور وسیع عمارت کا افتتاح کیا جو اب تک سرکاری صدر دفتر کے طور پر قائم ہے۔ بعد ازاں بیت المقدس میں اس نے اپنا قونصل خانہ کھولا جس کے مقامات تبدیل ہوتے رہے۔ اس کا آخری محلِ وقوع بیت المقدس کے دونوں حصوں کو علاحدہ کرنے والی گرین لائن زون میں ہے۔

ایک اہم بات یہ ہے کہ بیانات کے اجراء کے موقع پر عرب سیاسی اصطلاحات کا استعمال مبہم طور کیا جاتا ہے۔ یہاں "مقبوضہ بیت المقدس" کا مطلب پورا شہر نہیں بلکہ "مقبوضہ مشرقی بیت المقدس" ہوتا ہے۔ اس سے مراد وہ حصہ ہے جو مملکتِ اردن کے زیر انتظام تھا اور اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں اس پر قبضہ کر لیا۔ جہاں تک مغربی بیت المقدس کا تعلق ہے تو یہ جنگ سے قبل ہی اسرائیلی حکام کے زیر انتظام تھا۔ یہ کسی بحث اور مذاکرات میں شامل نہیں ہوتا کیوں کا اس کے بارے میں فیصلہ کن موقف موجود ہے کہ یہ اسرائیل کے پاس ہی رہے گا۔ عرب سیاسی شخصیات کی جانب سے مبہم اصطلاح "مقبوضہ بیت المقدس" کا استعمال اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ اسرائیل کو تسلیم کر لینے کے حوالے سے پوچھ گچھ سے بچا جا سکے۔

تاریخی طور پر صرف ایک مرتبہ فلسطینیوں کے پاس مقبوضہ مشرقی بیت المقدس کی واپسی کا موقع آیا تھا جب سال 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ مذاکرات میں سابق فلسطینی صدر یاسر عرفات کے زیر قیادت وفد نے اس کو سامنے رکھا۔ اس معاملے کا کیمپ ڈیوڈ کے دیگر مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت سابق امریکی صدر بل کلنٹن نے اس معاملے کو فیصلہ کن صورت فراہم کی۔ کلنٹن نے مذاکرات کے پیچھے پورا زور لگا کر یاسر عرفات اور اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایہود باراک کے ساتھ ایسے حل تک پہنچنے کو یقینی بنایا جو اُن سے پہلے اور نہ ہی اُن کے بعد کسی نے کیا۔

کلنٹن کے پیش کردہ منصوبے میں ہتھیاروں سے پاک ایک فلسطینی ریاست کے تحت مغربی کنارے کے 90 فی صد سے زیادہ علاقے اور غزہ پٹی کے 100 فی صد علاقے کو فلسطینیوں کے حوالے کرنے اور ان دونوں علاقوں کو ایک ہائی وے کے ذریعے مربوط کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔ اسی طرح مشرقی بیت المقدس کو مسجد اور پہاڑی کے گنبد [صخرا] کے ساتھ فلسطینیوں کو واپیس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تاہم یہودی علاقے اور دیوارِ گریہ کو مستثنی قرار دیا گیا اور انھیں بین الاقوامی نگرانی کے تحت رکھا گیا۔ اس پیش رفت کے بعد یاسر عرفات نامعلوم وجوہات کی بنا پر آخری ملاقات میں غیر حاضر رہے اور اپنی جگہ ایک وفد کو واشنگٹن بھیج دیا جس نے بل کلنٹن کو اس مجوزہ منصوبے کو مسترد کرنے کے حوالے سے آگاہ کر دیا۔ اس طرح یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔

اس عرصے میں اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' اور اسلامی جہاد جیسی مزاحمتی تنظیمیں اسرائیل کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مصروف رہیں۔ اسرائیل کے شدت پسند کیمپ نے ان کارروائیوں کو طابا (مصر) میں ہونے والی مذاکرات کی نئی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے استعمال کیا اور اسرائیلی وزیراعظم باراک مستعفی ہو گئے۔ یاسر عرفات نے مذاکرات کی کوشش کو پھر سے زندہ کرنے کی کوشش کی تاہم اس کا وقت گزر چکا تھا۔ اس کے بعد سے آج تک مشرقی بیت المقدس اور تمام مقبوضہ اراضی کو زمین غصب کیے جانے اور اس پر یہودی وجود مسلط کیے جانے کی کارروائیوں کا سامنا ہے ۔ یہ مختصر تاریخی جائزہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مذکورہ معاملہ امن اور جنگ کے اختیارات کے ساتھ نمٹنے کے حوالے سے سیاسی شخصیات کی ناکامی کا کی بھینٹ چڑھ گیا۔

مشرق وسطی کے خطے کو درپیش تباہی اور نقل مکانی ، عراق، شام اور لبنان کے سبب مسئلہ فلسطین کی مرکزی حیثیت برقرار نہ رہی۔ ہمیں یہ بھی نہیں بُھولنا چاہیے کہ شدت پسند عناصر کس طرح سے فلسطینی المیے سے فائدہ اٹھا کر موقع پرست حکومتوں کے کام آنے میں کامیاب رہے۔ ایران نے امریکا کو تنگ کرنے کا سلسلہ روکنے کے عوض نیوکلیئر معاہدہ حاصل کر لیا۔ حزب اللہ جھوٹی مزاحمت کے نام پر عملی طور پر لبنان پر قابض ہو گئی۔ جہاں تک بشار الاسد اور قذافی کا تعلق ہے تو یہ دونوں درحقیقت اپنے اشتعال انگیز مواقف کے سبب نقصان میں رہے۔

آخر میں.. کیا امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی فلسطینی ریاست کی امید کا خاتمہ کر دے گی؟ میرے مطابق امریکی حکومت کے اپنے سفارت خانے کے منتقل کرنے سے یہاں تک کہ اگر دنیا کی تمام حکومتوں نے بھی ایسا کر لیا تو بھی اسرائیلی قبضے کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ ٹرمپ کے بیان میں واحد امید افزا بات یہ ہے کہ وہ یہ متنازعہ قدم پُر امن حل کے ضمن میں اٹھائیں گے جس کا انہوں نے وعدہ کیا ہوا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق وہ اس سلسلے میں اپنے داماد کو ذمے داری سونپیں گے جس سے ان کے خواہش مند ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ کون جانتا ہے کہ سفارت خانہ شاید آخری سیاسی معرکہ ہو... *بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط"

 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے