''اگر آپ اپنا سب کچھ کھو چکے ہیں تو ہندوستان پھر بھی آپ کا ہے''۔یہاں جزیرہ نما عرب میں ہم نے اپنے آباء و اجداد سے یہ مقولہ اکثر سنا ہے۔وہ مشرق سے مغرب تک اور مصر سے ہندوستان کا سفر کرتے تھے۔

خلیج کے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کے کئی پہلو ہیں۔ان کا جغرافیے ،تاریخ ،ثقافتی اثرات سے تعلق ہے اور دونوں طرف سے سفر ہوتے ہیں۔ان سب سے بڑھ کر دونوں کی معیشت آپس میں جڑی ہوئی ہے اور اس نے بھی تعلقات مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور کوئی اور ملک اس کی نقالی نہیں کر سکتا۔

ہندوستان ایک ارب سے زیادہ انسانوں کی آبادی کا ملک ہے۔وہاں دسیوں مذاہب کے پیروکار رہتے ہیں اور سیکڑوں بولیاں بولی جاتی ہیں لیکن وہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تشدد کے واقعات کوئی باقاعدہ مظہریت نہیں ہیں اور ایسے واقعات مختصر وقت کے لیے ہی رونما ہوتے ہیں مگر اس طرح کے واقعات بھارت کے شاندار پرامن بقائے باہمی پر اثرانداز نہیں ہوتے ہیں۔

امارات کے ایک روزنامے نے حال ہی میں بھارت کی ''جادوئی'' معیشت کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کا عنوان ''بھارت کی گرانٹس پر زندہ رہنے والے ملک سے دنیا کی چھٹی بڑی معیشت میں تبدیلی'' تھا۔اس رپورٹ میں ضروری معلومات فراہم کی گئی ہیں جس سے اس ملک کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

''برطانوی کالونی بننے کے ڈیڑھ سو سال سے زیادہ عرصے کے بعد بھارت دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بننے میں کامیاب ہوگیا ہے اور اس نے برطانیہ کی جگہ لے لی ہے جو گذشتہ کئی سال سے دنیا کی چھٹی معیشت چلا آرہا تھا''۔ گذشتہ اکتوبر میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) نے یہ توقع ظاہر کی تھی کہ 2017ء کے دوران میں بھارت کی مجموعی داخلی پیداوار ( جی ڈی پی) بڑھ کر7.6 فی صد ہوجائے گی۔

تاہم اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا اور بحرالکاہل کے تخمینے زیادہ حوصلہ افزا تھے اور ان کے مطابق بھارت کی جی ڈی پی بڑھ کر 8.2 فی صد ہونے کا امکان ہے۔ یہ کسی بین الاقوامی ادارے کا بھارتی معیشت سے متعلق سب سے نمایاں تخمینہ ہے۔

اُبھرتی ہوئی معیشت

بھارت کے 1990ء کے عشرے میں زرمبادلہ کے ذخائر کبھی ایک ارب ڈالرز سے نہیں بڑھے تھے۔بھارت کے مرکزی بنک کے مطابق مارچ 2016ء میں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 355 ارب 95 کروڑ ڈالرز ہوچکے تھے۔رپورٹ کے مطابق اس دوران بنک کے سونے کے ذخائر کی مالیت 19 ارب 33 کروڑ ڈالرز ہوچکی تھی۔

بھارتی معیشت سے متعلق یہ معلومات مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہیں اور انھیں شیخ محمد بن زاید کے بھارت کے حالیہ تاریخی دورے کے موقع پر اجاگر کیا گیا تھا۔بھارت میں اس ترقی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی معاشرہ اپنی ترقی پر نچلا نہیں بیٹھا ہے۔ اس ملک میں امن سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی قسم کی گڑ بڑ پیدا کیے بغیر کام کرتے ہیں۔ یہ بھارتی معاشرے کی اپنے ہمسایہ معاشروں بنگلہ دیش اور پاکستان کے برعکس فطرت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایشیائی امور کے ماہر پروفیسر عبداللہ المدنی نے ایک کتاب لکھی ہے اور اس کا عنوان ہے:'' ایشیا سے جھلکیاں ۔۔۔۔ کمار نے کیا کردیا جو عبدالفضیل نہیں کرتا''۔

اگر معاشی ترقی یہی ہے جس کا ہم بھارت میں مشاہدہ کررہے ہیں تو یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے تمام شعبوں میں سرمایہ کاری کو دیکھا جائے۔ بھارت کا صنعتی شعبہ خاص طور پر دوا سازی کی صنعت ترقی یافتہ ہے۔خلیجی ممالک بھارت کے ساتھ مل کر اعلیٰ مشاورتی کونسلیں بنا سکتے ہیں۔بھارت معیار وضع کرسکتا ہے اور ان تجارتی تعلقات کی نگرانی کرسکتا ہے۔

بھارت کے پاس بہ افراط اقتصادی ،تاریخی اور انسانی وسائل موجود ہیں اور عالمی بحران سے بالکل الگ تھلگ ہے۔یہ اقتصادی سطح پر اور بھی سود مند ثابت ہوسکتا ہے جب بڑے ممالک معاشی انحطاط کا شکار ہیں جیسا کہ برطانیہ کے ساتھ ہورہا ہے۔

شیخ محمد بن زاید کے دورے سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا۔امارات کی وزارت معیشت میں تعینات انڈر سیکریٹری برائے خارجہ تجارت اور صنعت عبداللہ الصالح کا کہنا ہے کہ '' یو اے ای اور بھارت دوطرفہ تجارت میں 60 فی صد اضافہ چاہتے ہیں تاکہ آیندہ پانچ سال کے دوران میں 2020ء تک دوطرفہ تجارتی حجم 100 ارب ڈالرز تک بڑھایا جاسکے۔ دونوں ممالک کے پاس اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری وسائل دستیاب ہیں''۔

کمار کی تخلیقی صلاحیتوں سے متعلق جانکاری اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت کا جادوئی معاشرہ اپنے لوگوں کی کثرت کے باوجود وسائل کی کمی کا شکار ہے لیکن اس کے آبادی کے پیچیدہ تنوع نے اس کو عالمی بحرانوں میں زندہ رہنے میں مدد دی ہے۔

ہمارے آباء واجداد درست تھے جب وہ یہ کہتے تھے:''اگر آپ اپنی تمام جمع پونجی سے محروم ہوجاؤ تو ہندوستان تمھارا ہے''۔ ہندوستان مشکل حالات ،غربت اور امارت ،خوش گوار اور ناخوش گوار دور میں شراکت داری کرنے والا ملک ہے۔یہی وہ قدیم تہذیب ہے جو ہندوستان کہلاتی ہے۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے