سنہ 2011ء میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی جگہ کے نزدیک گراؤنڈ زیرو پر ایک مسجد کی تعمیر پر ایک بڑا تنازع پیدا ہوگیا تھا۔ جو لوگ نائن الیون حملوں میں تباہ شدہ جگہ کے نزدیک مسجد کی تعمیر کی مخالفت کررہے تھے،ان کا یہ موقف تھا کہ یہ جگہ اس کے لیے مناسب نہیں ہے جبکہ مسلمانوں اور ان کے حامیوں نے ایک درست نقطہ نظر پیش کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ دہشت گردوں کے فعل کے ہرگز بھی ذمے دار نہیں ہیں۔اگر حملوں کے ذمے دار مسلمان تھے تو تب بھی ان کے فعل کے وہ ذمے دار نہیں ہیں۔

یہ ایک منطقی دلیل تھی لیکن مسجد کے امام شیخ فیصل عبدالرؤف نے ایک اور دلیل بھی تھی اور اس کا اعادہ کیا جاتا رہے گا اور وہ یہ تھی کہ مسجد کی تعمیر روکنے سے مسلمان غصے میں آئیں گے اور وہ مسلمانوں کو مغرب کے خلاف متحرک کریں گے۔

تاہم حقیقت یہ ہے کہ معدودے چند مسلمانوں کو اس موضوع سے دلچسپی تھی یا انھوں نے اس کے بارے میں کچھ سنا تھا۔آخر کار یہ اسلامی مرکز اس متنازعہ جگہ سے چند میل کے فاصلے پر تعمیر کیا گیا تھا اور ہم نے اس پر مسلمانوں کو شاہراہوں پر اعتراض کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔

ایسی ہی کہانی کا حال ہی میں بڑے پیمانے پر اعادہ کیا گیا ہے۔امریکی انتظامیہ نے سکیورٹی وجوہ کی بنا پر سات مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے شہریوں پر سفری پابندیاں عاید کی ہیں۔ اس فیصلے پر سخت غم وغصے کا اظہار کیا گیا ہے کیونکہ اس کو مسلمانوں کے خلاف گردانا گیا ہے حالانکہ ٹرمپ انتظامیہ نے متعدد مرتبہ اس امر کی وضاحت کی تھی کہ یہ مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔اس فیصلے کے اجراء کے چند روز بعد غصیلی آوازیں ٹھنڈی پڑ گئیں اور جب یہ کہا گیا کہ بعض مہاجرین امریکی حدود میں داخل ہوسکتے ہیں تو انتظامیہ نے ان کی مدد کی۔بعض معترضین نے ''ناراض مسلمانوں'' کے اسی انتباہ کا اعادہ کیا اور ان کے مشتعل ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔

اس آخری فیصلے اور اس کے مضمرات کے بعد ''ناراض مسلمانوں''کی دلیل ہمیشہ کی طرح سبکی آمیز ثابت ہوئی ہے کیونکہ اس نے تمام مسلمانوں کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا تھا جیسے وہ اکھڑ لوگوں کا ایک ایسا گروپ ہیں جو ایک ہی چیز سے غصے میں بھی آتے ہیں اور دوسروں کو محظوظ بھی کرتے ہیں، خواہ یہ کوئی عام سی بھی چیز ہو۔ یہ زیادہ سبکی آمیز ہے کیونکہ یہ فرض کر لیا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا استیصال کیا جاسکتا ہے اور ان سے بچوں ایسا سلوک کیا جاسکتا ہے جو آزادانہ سوچ نہیں رکھتے ہیں اور وہ ایک ہی جیسی چیز پر مختلف ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ مجھے جو چیز غیظ وغضب کا شکار کرتی ہے،وہ میرے بھائی یا دوست کو نقصان پہنچانے والی چیز سے مختلف ہے۔اس کا مفروضہ یہ ہے کہ مخالف ہمیں کسی رائے یا اقدار کے بغیر آلہ کار بنا لے گا۔

مجھے یاد پڑتا ہے کہ ایک مرتبہ ایک پروفیسر نے جماعت میں اپنے لیکچر کے دوران میں کوئی بات کہی اور پھر تمام مسلمان طلبہ سے معذرت کی تھی۔ یہ بہت ہی سبکی آمیز معافی تھی جو میں نے اپنی زندگی میں سنی تھی کیونکہ پروفیسر صاحب نے ہم سب کو ایک ہی ٹوکری میں ڈال دیا تھا جیسے ہم ایک ہی جیسی بھیڑوں کا ریوڑ ہوں۔

سب سے عجیب بات یہ ہے کہ وہ دوسرے مذاہب یا ثقافتوں کے بارے میں ایک ہی جیسے رد عمل کا اظہار نہیں کرتے ہیں۔ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک چیز سے اگر ایک شخص غیظ وغضب کا شکار ہوگا،تواس سے دوسرے نہیں ہوں گے۔ان پروفیسر صاحب کو ہر کسی سے معافی مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئی تھی۔ انھوں نے ایک ایسی معذرت کا سہارا لیا جس سے دوسرے بیوقوف بن جاتے ہیں۔

اس کا ایک استحصالی پہلو بھی ہے۔مسجد کے امام فیصل عبدالرؤف نے ''ناراض مسلمانوں'' کا اپنی اس جنگ کو جیتنے اور اپنے مخالفین کو ڈرانے دھمکانے کے لیے سہارا لیا تھا اور انھوں نے ایک سیکنڈ کے لیے بھی ایسا کرتے ہوئے نہیں سوچا کہ وہ ہمارے تشخص اور شہرت کو داغدار کررہے ہیں۔اس کا ان لوگوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے جو پابندی کے مخالف ہیں۔وہ ان مشہور مذہبی شخصیات کی طرح ہیں جو ہر موقع پر ہمیں غیرملکیوں کو ڈرانے دھمکانے کے لیے استعمال کرلیتے ہیں اور انھیں یہ باور کرا لیتے ہیں کہ ان کا غصہ کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم مذاکرات اور تنازعات میں ایک قابل قدر آلہ بن چکے ہیں اور یہ آلہ بحث کو جلد ختم کرسکتا ہے۔

مغربی پریس میں اسی دلیل کا اعادہ کیا جاتا ہے اور وہ ہمیں کم تر انداز میں پیش کرتا ہے۔ اس دلیل کو وہ سیاست دان اور صحافی استعمال کرتے ہیں جن کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ مسلمانوں کا ان کے مفادات کے حصول کے لیے دفاع کرتے ہیں مگر وہ اسلام اور مسلمانوں کا تشخص مجروح کرتے ہوئے ان کی شہرت کو نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔

مگر عجیب مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ مغرب میں دانش مند مسلم شخصیات اسی پریس کی زد میں آتی ہیں اور انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ان کا دائیں بازو سے اتحاد ہے۔یہ بڑی عجیب وغریب صورت حال ہے۔وہ ان مسلمانوں کو دہشت زدہ کرتے ہیں جو چیزوں کو ایک اور زاویے سے دیکھتے ہیں یا ان کی کوئی مختلف رائے ہوتی ہے۔وہ انھیں نسل پرست یا فاشسٹ قرار دیتے ہیں۔

اس معاملے کا زیادہ گہرا اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس صورت حال کو سخت گیر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کا ایسا نقشہ پیش کرتے ہیں جیسے وہ ایک بہت بڑا بلاک ہیں تا کہ وہ انھیں کنٹرول کرسکیں اور اپنے تین مقاصد حاصل کرسکیں۔ وہ انھیں مغرب کے ساتھ مذاکرات کے لیے استعمال کرتے ہیں اور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ اس منحوس عفریت کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ اس عفریت کو الگ تھلگ کرسکتے ہیں اور دوسری تہذیبوں سے اس کی تنہائی کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔سوم ،وہ ذاتی طور پر مالی اور سماجی سطح پر فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایسا وہ دولت اور اقتدار پر قبضے کے ذریعے کرتے ہیں۔

شاید اب وقت آگیا ہے کہ اس غلط اور مضحکہ خیز دلیل کو ترک کردیا جائے۔ میں ایک مسلمان ہوں اور میں غصے میں نہیں ہوں اور آپ میرے ذہن اور جذبات کا آسانی سے استحصال نہیں کرسکتے ہیں۔ دنیا میں مجھ ایسے کروڑوں مسلمان اور بھی موجود ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے