انتہا پسندانہ نقطہ نظر کے ذریعے گذشتہ کئی عشروں سے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو کشیدہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہے۔ماضی میں اس مقصد کے حصول کے لیے ہر ممکن ذرائع اختیار کیے گئے ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان سب سے مشکل لمحہ اس وقت آیا تھا جب اُسامہ بن لادن اور القاعدہ نے امریکا پر 11 ستمبر 2001ء کو حملے کیے تھے۔ان کے بعد دنیا کو ایک ردعمل کا انتظار تھا۔

یہ جارج ڈبلیو بش کا دور صدارت تھا۔تب سعودی عرب بھی اس تنظیم اور اس کے ارادوں اور منصوبوں کو بھانپنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ بنیادی طور پر القاعدہ کو یہ توقع تھی کہ امریکا سعودی عرب کے خلاف جوابی حملہ کرے گا۔

تاہم اس کی یہ امید بر نہ آئی اور معاملات الٹ ہوگئے۔دونوں ملکوں نے بعد میں عسکری،اقتصادی اور سیاسی شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھایا اور مضبوط تعلقات استوار کر لیے تھے۔

تاریخی تعلقات

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شاہ سلمان سے اپنی پہلی ٹیلی فون کال میں دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی تعلقات کا تذکرہ کیا ہے۔

شاہ سلمان نے القاعدہ کی ناکام سازش کا تذکرہ کیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ تنظیم اسامہ بن لادن کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کو تہس نہس کرنا چاہتی تھی۔ اسامہ بن لادن بھی ایمن الظواہری کی طرح اخوان المسلمون کے بطن سے نمودار ہوئے تھے۔

اب ایک اور اسٹیج سجایا جا رہا ہے اور ہمیں جذباتی ہوئے یا اس کو مکمل طور پر نظر انداز کیے بغیر بڑی احتیاط سے اس کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ سیاست برسرزمین حقائق اور مفادات پر مبنی ہوتی ہے اور سعودی عرب امریکا کے ساتھ اسی کی بنیاد پر تعلقات استوار رکھنے کی کوشش کررہا ہے۔

----------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے