برسوں قبل جو چیزیں بہت مقبول تھیں،ان سے ہمارا تعلق اب بہت حد تک تبدیل ہوچکا ہے۔ اب ایک مختصر ویڈیو میں وہ چیزیں دکھائی جاتی ہیں جو 1980ء اور 1990ء کے عشروں میں بہت سے لوگوں کے پاس ہوتی تھیں۔مثلاً سادہ کھلونے ،کیسٹیں اور دوسری اشیاء ،جو اُس وقت ناگزیر ہوتی تھیں۔

چند ہفتے قبل لبنان کی سابق ملکہ حسن نادین نسیب نجیم نے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میں لوگوں اور کتب کے درمیان تعلق کے فقدان کے بارے میں گفتگو کی تھی۔

بظاہر یہ شوبز کی دنیا کی شخصیت کی جانب سے عجیب وغریب بیان تھا کیونکہ ان سے یہ تو توقع کی جاتی تھی کہ وہ غیر اہم یا کم تر موضوعات کے بارے میں گفتگو کریں گی۔ یہ بیان کسی دانشور نے صبح کے وقت کافی پیتے ہوئے ایک کھڑکی کے نزدیک کھڑے ہو کر جاری نہیں کیا تھا۔

بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے ٹیبلیٹس اور اسمارٹ فونز کی شکل میں ہماری زندگیوں کو ہتھیا لیا ہے۔ان کے بہت سے فوائد بھی ہیں۔ مثلاً ان سے ابلاغ میں سہولت ہوتی ہے،بندہ دوسروں کے قریب آجاتا ہے اور اپنے روزمرہ کے امور کو بہتر طریقے سے نمٹا سکتا ہے۔ تاہم یہ مظہر کسی کی زندگی پر حاوی بھی ہوسکتا ہے اور اس کے ذہن اور تخلیقی صلاحیتوں کا رُخ موڑ سکتا ہے۔

ایک بہترین عادت یہ ہوسکتی ہے کہ حالات خواہ کچھ ہی ہوں ،سیکھنے اور مطالعے کے لیے روزانہ وقت وقف کیا جائے۔مثال کے طور پر ایک شخص دبئی میں میٹرو یا ٹرام پر سفر کے دوران میں کتاب پڑھ سکتا ہے اور مسافروں کو کتاب پڑھتے ہوئے دیکھنا بہت ہی خوش کن منظر ہوتا ہے۔یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ نصف شب کے وقت چمڑے کی کرسی پر دراز ہو کر اور لیمپ کے سامنے بیٹھ کر ہی کتاب پڑھی جائے اور کچھ وقت کے مطالعے کے لیے کسی لمبی چوڑی رسم کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ میٹرو یا طیارے یا ایک کیفے میں چند صفحات کے مطالعے سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور وہ ہم پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

ہم سب پرواز کی اڑان سے دو گھنٹے قبل ہی ہوائی اڈوں پر پہنچ جاتے ہیں۔ہم اس وقت کو ایک قیمتی کتاب یا دلچسپ کہانیوں کی کتاب یا ایسی کتاب کے مطالعے پر صرف کرسکتے ہیں جو ہمارے اعتقادات ہی کو چیلنج کرسکتی ہے۔

ہمیں وقت کے ساتھ اس بات کا ادراک ہوجاتا ہے کہ ایک کتاب کے پچیس ،تیس صفحات کے مطالعے نے ہم پر کتنا اثر کیا ہے۔اس نے ہمیں مثبت علم یا عملی علم کا حامل ہونے کے حوالے سے کتنا تبدیل کردیا ہے اور اس نے ہمیں ہمارے سماجی کردار اور جذباتی دانش کی تشکیل میں کتنی مدد دی ہے۔

اگر ہم معروف شخصیات کی سوانح عمریاں پڑھتے ہیں تو ہمیں پتا چلتا ہے کہ انھیں کتب سے کتنا لگاؤ تھا اور ان کا وسیع علم ان کے زندگی بھر کے مطالعے کا حاصل تھا۔

مصر کے معروف صحافی ،شاعر اور ادبی نقاد عباس محمود العقاد مرحوم نے جب برٹرینڈرسل کا مطالعہ کیا تو وہ ان کے فلسفیانہ خیالات سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔ محمود العقاد نے فلسفیانہ خیالات سے متعلق بہت کچھ لکھا ہے۔اس کی ایک مثال ان کی کتاب ''اسلامی فرائض پر تفکر'' ہے۔ فلاسفر رولینڈ بارتھیس دن کے وقت جدید اور متنازعہ کتب کا مطالعہ کیا کرتے تھے لیکن سونے سے قبل وہ کوئی پرانی کلاسیکی کتاب پڑھا کرتے تھے۔ ان دو مثالوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ عبقری لوگ کیسے کتب سے جڑے ہوتے تھے۔ اس سے ان کی مزید سیکھنے اور علم سے لطف اندوز ہونے کی خواہش کا بھی اظہار ہوتا ہے۔

یہ بات سائنسی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ اگر کوئی شخص روزانہ بیس یا تیس منٹ تک مطالعہ کرتا ہے تو یہ اس کو نفسیاتی طور پر متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اس سے وہ سکون اور راحت محسوس کرتا ہے۔مطالعے سے اس کو مباحث اور مذاکروں میں شرکت کا موقع ملتا ہے اور اجتماعات میں اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ مطالعے کے بغیر تو وہ اپنی پرانی باتوں ہی کو دُہراتا رہے گا۔ روزانہ کی بنیاد پر مختصر وقت کے لیے مطالعہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

عمر أميرلائے نے لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق حریری کی زندگی کے بارے میں ''سنہری روحوں والا آدمی'' کے نام سے دستاویزی فلم بنائی ہے۔ اس میں رفیق حریری کلچر پر گفتگو کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ''ایسا کم ہی ہوا ہے کہ انھوں نے کسی ہفتے کوئی کتاب نہ پڑھی ہو''۔ یہ دولت مند سیاست دان اپنے بین الاقوامی روابط کے لیے معروف تھے۔وہ مطالعے کی اہمیت سے بخوبی آگاہ تھے اور وہ دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں خود کو ہمیشہ باخبر رکھتے تھے۔

مطالعہ دراصل ذہن میں ایک سرمایہ کاری ہے اور یہ تخلیق کا ایک ذریعہ ہے۔کتابیں ،خواہ کوئی امیر ہو یا غریب ،ہرکسی کے لیے ایک نعمت ہیں۔مطالعہ تاریخ کی ایک سیر ہے۔ یہ ایک مستقل اور مسلسل سفر ہے جس میں علم کا کوئی اختتام نہیں ہے۔

-----------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے