میں نے امریکا کی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے) کی 1970ء کے عشرے کے اختتام میں ایرانی انقلاب سے متعلق جاری کردہ ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کا مطالعہ کیا ہے۔الشرق الاوسط نے ان میں سے بعض دستاویزات کو شائع کیا ہے۔یہ تاریخ کا بہت ہی ہیجان خیز دور تھا اور اس کے حوالے سے علمی سطح پر ابھی تک اختلافی بحث ومباحثے جاری ہیں۔

آج ہم جو کچھ بھی سیاسی ہلچل اور پیش رفت ملاحظہ کررہے ہیں ،علاقائی اور عالمی سطح پر اسلامی انتہا پسندی کے احیاء سے لے کر فرقہ وار جدوجہد ،امن عمل کی ناکامی ، بڑی علاقائی جنگیں ، جوہری اور کیمیائی اسلحے سمیت جدید ہتھیاروں کے حصول کے لیے کوششیں وغیرہ، ان سب کا ایرانی انقلاب اور سال 1979ء سے تعلق ہے۔

اخبار نے ان میں سے چند ایک دستاویزات ہی شائع کی ہیں اور مجھے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ملی ہے جس سے سی آئی اے ایسے سیاسی اور سکیورٹی ادارے کے ذریعے واقعات کی تفہیم میں مدد مل سکے۔ امریکی خفیہ ادارے کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا رہا ہے کہ اس کے شاہ کی حکومت سے اچھے تعلقات استوار رہے تھے۔ بعض الزامات کے برعکس سی آئی اے کے تہران میں نئے رجیم (نظام) کے حربوں سے متعلق بعض تخمینے کچھ ایسے غلط بھی نہیں تھے۔

سی آئی اے کے تجزیہ کاروں نے پیشین گوئی کی تھی کہ خمینی کے برسراقتدار آنے اور 1980ء میں عراق کے ساتھ جنگ چھڑ جانے کے بعد ایرانی رجیم مذہب اور خاص طور پر فرقہ واریت کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرے گا۔ان کی پیشین گوئی تھی کہ آیت اللہ خمینی مذہبی نعروں کو علاقائی حکومتوں کے خلاف لوگوں کو برانگیختہ کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ان کا یہ بھی اندازہ تھا کہ خمینی عراق میں فرقہ وارانہ تقسیم میں کامیاب ہوجائیں گے لیکن وہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں اپنی اس کوشش میں ناکام رہیں گے۔

عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سالہ جنگ کا جائزہ لیتے ہوئے صدام حسین کی حکومت کے ایران کی فرقہ وارانہ انگیخت اور دراندازی کا توڑ کرنے کے لیے پروپیگنڈے کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایران نے اس تنازعے کو شیعہ سنی جنگ کے طور پر پیش کیا تھا جبکہ عراق نے اس کو عربوں اور فارسیوں (ایرانیوں) کے درمیان قومی جنگ قرار دیا تھا۔

اس جنگ کے خاتمے سے متعلق سی آئی اے کے تخمینے بالکل غلط ثابت ہوئے تھے۔اس کی وجہ بالکل واضح تھی کہ اس جنگ کے خاتمے کا فیصلہ خمینی کے ہاتھ میں تھا۔ انھوں نے ناکامیوں کے باوجود جنگ کو تین سال تک طول دینے پر اصرار کیا تھا کیونکہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ عراق میں شاید ایک عوامی انقلاب جنگ کا توازن ان کے حق میں کردے گا۔

مذہبی انقلاب

حال ہی میں جاری کردہ ڈی کلاسیفائیڈ تجزیوں اور خفیہ مراسلت میں ایک اور اہم ایشو کا کوئی جواب نہیں دیا گیا تھا،اس کا میڈیا یا خصوصی جرائد میں بھی کوئی ذکر نہیں کیا گیا اور وہ تھا خطے اور دنیا میں ایران میں انتہا پسند مذہبی انقلاب سے لاحق خطرات کے بارے میں آگہی اور پیشگی علم ۔ ایسا شاید اس لیے کیا گیا تھا کہ اس وقت قوم پرست اور بائیں بازو کے نعروں کی بھی غوغا آرائی تھی۔

امریکا کے قومی سلامتی کے سابق مشیر زبگنیو برزنسکی نے پاکستان کا اپنا مشہور عالم دورہ کیا تھا اور افغانستان کو آزاد کرانے کے لیے اسلامی جہادیوں کی مذہبی جنگ کی پالیسی وضع کی تھی۔یہ حکمت عملی سابق سوویت یونین کی فوجوں کے خلاف جدید ہتھیاروں کے استعمال پر مستزاد تھی۔ دس سال کی جنگ کے بعد افغانستان آزاد ہوگیا تھا اور اس جنگ میں سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کے پندرہ ہزار سے زیادہ فوجی مارے گئے تھے جبکہ چار سو سے زیادہ سوویت لڑاکا طیاروں کو مار گرایا گیا تھا۔

ہم خمینی کے انقلاب اور افغانستان کی جنگ کے درمیان تعلق کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ایرانی شاہ کے زوال کے وقت واشنگٹن میں پالیسی سازوں نے بائیں بازو کی جماعتوں کی قیمت پر خمینی کے مذہبی عروج کو قبول کرنے کو ترجیح دی تھی۔ تاہم ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے جس سے یہ ثابت ہوکہ اس وقت کسی نے یہ بھی پیشین گوئی کی تھی کہ خمینی کے عروج کے بعد خطے میں کیا ہوگا یا یہ پیشین گوئی کی ہو کہ خطے میں موجودہ نظریات کیونکر تبدیل ہوں گے۔خاص طور پر سوویت کیمپ کے انہدام کے بعد بائیں بازو کے نظریے کی تحلیل سے خطے پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

اُس وقت نئے ایرانی نظام نے مذہبی نعروں کو استعمال کیا تھا۔بعد میں ان نعروں کو اپنے فرقہ وار ڈیزائن تک محدود کردیا تھا اور پھر ان کو کامیابی سے لبنان ،فلسطین اور پھر عراق میں بروئے کار لایا تھا۔ ان نعروں نے گذشتہ تین عشروں کے دوران میں پورے خطے کو تہس نہس کردیا ہے اور وہ ابھی تک خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
-----------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے