امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سات مسلمان ملکوں کے شہریوں پر امریکا داخلے پر پابندی کے بعد سے حریف اور دشمن سبھی یہ سوال کرتے نظر آتے ہیں کہ سعودی عرب کے شہریوں پر اس فیصلے کا اطلاق کیوں نہیں کیا گیا؟ اس سوال کا جواب مملکت میں سلامتی سے متعلق اداروں یا سعودی سفارتی حلقوں کی جانب سے نہیں بلکہ امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکرٹری جان کیلے کی طرف سے یہ کہتے ہوئے دیا گیا: " کہ سعودی عرب جیسی جگہوں پر بہت اچھی پولیس اور انٹیلی جنس فورسز موجود ہیں۔ اس لئے سعودی عرب سے امریکا آنے والوں کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور کس مقصد کے لئے ہمارے ملک آ رہے ہیں۔"

جن مسلمان ملکوں کے شہریوں پرپابندی لگائی گئی ہے وہ سعودی عرب سے مختلف ہیں۔ وہاں پر بکھری حکومت ہے جبکہ بعض جگہوں پر حکومتیں خود دہشت گردوں سے ملی ہوئی ہیں یا دہشت گردوں کو گلے لگاتی ہیں۔ مثال کے طور پر ایران دہشت گردوں کے لئے محفوظ جنت ہے کیونکہ وہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں سے صرف نظر کرنے کا ایک معاہدہ کئے بیٹھے ہیں۔ وہ اس شرط پر دہشت گردوں کو اپنے ہاں آنے جانے کی کھلی اجازت دیتے ہیں کہ یہ لوگ ایران کو اپنی کارروائیوں کا نشانہ نہیں بنائیں گے۔ القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور انتہا پسند تنظیم کے حالیہ رہنما ایمن الظواہری کے بیانات سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے جس میں وہ اپنی تنظیم کو ہدایت کر تے چلے آ ئے ہیں کہ ایران کو نشانہ بنانے سے باز رہا جائے۔

سعودی عرب نے دہشت گردوں کے ساتھ 'جنگ بندی' کا اعلان نہیں کیا۔ مملکت ایسے لوگوں کے خلاف نہ صرف خود سخت لڑائی لڑنے میں مصروف ہے بلکہ ریاض نے دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں دوسرے ملکوں سے بھی تعاون کیا ہے۔ سعودی عرب نے اس برائی کے خلاف لڑائی کے لئے بھاری سرمایہ لگا کر مراکز قائم کئے ہیں۔ اس ضمن میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کی طویل فہرست ہے جس میں سعودی عرب نے اپنی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس فورسز کے ذریعے کئی خطرناک کارروائیاں ناکام بنائیں جن میں امریکی نیوی اور امریکا جانے والے جہاز وں کو تباہی سے بچایا گیا۔ نیز ہیتھرو ہوائی اڈے سمیت دیگر متعدد ایسی ہی کامیاب کارروائیاں سعودی عرب کی سیکیورٹی فورسز کے کریڈٹ میں ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو سفری پابندیوں کی فہرست سے باہر اس لئے رکھا کہ مملکت حقیقت میں دہشت گرد گروپوں کے خلاف نبرد آزما ہےاور ایک ناکام ریاست نہیں ہے۔ زیر نظر کالم عرب روزنامہ 'عکاظ' کی بارہ فروری کی اشاعت میں شامل تھا۔
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے