''مجھے ٹرمپ کا کوئی خوف نہیں ہے۔ہمیں نئے امریکی صدر کا شکر گزار ہونا چاہیے کیوںکہ انھوں نے امریکا کا حقیقی چہرہ دکھا دیا ہے۔انھوں نے امریکا کی سیاست ،اخلاقی اور مالی بدعنوانیوں کے بارے میں وہ کچھ ظاہر وباہر کردیا ہے جس کے بارے میں ہم گذشتہ عشروں سے کہتے چلے آرہے ہیں''۔یہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا ایک حالیہ بیان ہے جو انھوں نے امریکا کے نئے منتخب صدر سے متعلق جاری کیا ہے۔

جی ہاں! ہم ایک نئے دور سے گزر رہے ہیں۔ تنہائی کے برسوں کے بعد بڑی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔اس سے اس گہرائی کا اندازہ ہوتا ہے کہ امریکا عالمی بحرانوں کے حل کے لیے دوبارہ میدان میں لوٹ آیا ہے اور وہ ایک مرتبہ پھر عالمی امور میں اپنا کردار بڑھانا چاہتا ہے۔

معروف اور بااثر ماہر تعلیم اور سیاست دان فواد اعجمی بھی اسی چیز کا مطالبہ کرتے رہے تھے۔ اعجمی دل شکستہ ہو کر چل بسے تھے کیونکہ امریکا کی سابق انتظامیہ ''بے امید'' تھی اور اس نے ''ورلڈ آرڈر'' کے تصور سے معاملہ کاری میں بھی پہلوتہی برتی تھی۔

امریکا کی موجودہ انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ اس کی پیش رو انتظامیہ کے ایران سے متعلق ورثے کا بوجھ اب اس کے کندھوں پر ہے۔ ایران کے بیلسٹک میزائلوں کی تیاری اوباما انتظامیہ کی مکمل چشم پوشی کا نتیجہ ہے۔ خطے میں دہشت گردی کا سبب ایران ہے۔اس کی شام میں مداخلت سے خطے میں فرقہ واریت کو مہمیز ملی ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ ایرانی نظام ( رجیم) کی نمائندہ سیاسی بغاوت کو نظم وضبط کے دائرے میں لایا جائے۔

امریکا کے وزیر دفاع جیمز میٹس المعروف پاگل کتے کا کہنا ہے کہ ایران دنیا بھر میں دہشت گردی کی پشت پناہی کررہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سمیت تمام آپشنز زیر غور ہیں۔ اس نئی غوغا آرائی نے ایران کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

دہشت گردی کا محاصرہ

مزاحمت کی قوتیں صدمے سے دوچار ہیں کیونکہ اب پرانی تزویراتی سہولت کاری اس کے ہاتھ سے نکلتی جارہی ہے۔ ٹرمپ کو ایک بُرا ورثہ ملا ہے اور انھیں ایرانی نظام کی دہشت گردی کے محاصرے کے ذریعے اس کی نگرانی کا آغاز کرنا چاہیے۔

ہر کوئی یہ بات جانتا ہے کہ ایران نے بیروت ،تہران اور سعودی عرب میں متعدد امریکیوں کو ہلاک کیا ہے۔ ایرانی رجیم سفارت خانوں کو دھماکوں سے اڑانے ،پھانسیوں ،قتل اور ہلاکتوں میں بھی مہارت تامہ رکھتا ہے۔

لیکن ایران کے پاسداران انقلاب نے ٹرمپ کے ایران کی دہشت گردی کے خلاف بیانات پر کیا ردعمل ظاہر کیا ہے؟ پاسداران انقلاب کے میڈیا اور ثقافتی مشیر حمید رضا نے بڑے غصیلے انداز میں کہا ہے کہ نئے امریکی صدر نے میڈیا پر تیز وتند بیانات سے اپنی صدارتی مدت کا آغاز کیا ہے بالکل اسی طرح جس طرح وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران میں تند وتیز بیانات جاری کرتے رہے ہیں۔انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے دوران میں بھی اپنے مستقبل کے مبہم منصوبوں کی وجہ سے امریکی اور عالمی سیاست کے منظرنامے میں ایک ہیجان برپا کردیا تھا۔

حمید رضا کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے حالیہ بیانات ان کے پیش رو صدر کے قابل افسوس بیانات ہی کا اعادہ ہیں جن میں انھوں نے کہا تھا کہ ایران کے بارے میں تمام آپشنز کھلے ہیں۔

خوش امیدی پر مبنی سوچ

تاہم ٹرمپ نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ مہربانی کا دور اب لد چکا ہے اور وہ اپنے پیش رو سے یکسر مختلف ہیں۔ ایران اور اس کے حواریوں نے خوش امیدی پر مبنی سوچ کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور ٹرمپ ان پر تابڑ توڑ حملے کررہے ہیں کیونکہ وہ جارج بش کے دور کے بعد سے اس دھمکی آمیز غوغا آرائی کو بھول چکے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ ایرانی دہشت گردی کے خلاف ایک مختلف انداز میں توجہ مبذول کررہی ہے اور وہ اس کے بارے میں وہی موقف اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے جو سابق صدر بش کے دور میں اختیار کیا گیا تھا۔

جارج ڈبلیو بش نے اپنی 29 جنوری 2002 کی تقریر میں ''برائی کے محور'' کی مشہور زمانہ اصطلاح استعمال کی تھی۔ان میں ایران بھی شامل تھا۔برائی کے یہ محور دہشت گردی ،وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے متشدد سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے منظم اور ادارہ جاتی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔

ایرانی رجیم اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے کیونکہ اس کو داخلی بد امنی کا بھی سامنا ہے۔اس کو معاشی بحران کا سامنا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں غربت اور بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے لیکن دوسری جانب دہشت گرد گروپوں کے کمانڈروں اور لیڈروں پر اربوں صرف کیے جارہے ہیں۔پاسداران انقلاب کے کمانڈروں کو اتنے بھاری مشاہرے دیے جارہے ہیں کہ وہ ایک پوری ریاست کے لیے کافی ہیں۔ ایران یمن ،شام اور عراق میں بے مقصد جنگوں میں الجھ چکا ہے اور اب اس کے لیے ان سے نکلنا مشکل ہورہا ہے۔

حوثیوں کی مدح سرائی کا دور لد چکا ہے اور جان کیری کا ان کے ساتھ ایک سیاسی جماعت کے طور پر معاملہ کاری کا منصوبہ اب قابل عمل نہیں رہا ہے کیونکہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم اس بات میں یقین رکھتے ہیں کہ حوثی ایک دہشت گرد گروپ ہیں۔ یہ تبدیلی اور قوموں کے وقار کی بحالی کا وقت ہے۔اس لیے ہر ملک کو اپنی سرحدوں تک محدود ہوجانا چاہیے۔

ایران کے سپریم لیڈر کی امریکی صدر کو دھمکیاں بالکل بے معنی اور بے کار ہیں۔

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے