میرے خیال میں کسی کو اس میں شک نہیں ہے کہ آرامکو سب سے اہم سعودی قومی کمپنی ہے اور یہ دنیا کی سب سے بڑی توانائی کمپنی ہے۔اس کے حصص کی پہلی مرتبہ عام فروخت کے لیے اعلان کے بعد سے ان لوگوں میں ایک دلچسپی بڑھ گئی ہے جو اس سے محبت کرتے ہیں یا نفرت کرتے ہیں یا جو اپنے مفت مشورے دے رہے ہیں یا پھر اس کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

آرامکو نے سماجی فلاح وبہبود اور مقامی ثقافت کے تحفظ کے لیے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔اس نے گذشتہ برسوں کے دوران میں مشرقی صوبے اور اس کے ہمسایہ علاقوں میں تعمیرات کی ہیں۔ کمپنی کے موثر کردار کی بدولت یہ خطہ مملکت بھر میں سب سے زیادہ پیداوار دینے والا بن چکا ہے۔

اگر ان لوگوں کے بارے میں ایک تحقیقاتی مطالعہ کیا جائے جو علی الصباح سب سے پہلے جاگ جاتے ہیں تو آرامکو کے ملازمین کا ان میں پہلا نمبر ہوگا۔اللہ میری قوم کے صبح بیدار ہونے والوں پر اپنی نعمتیں نازل کرے۔

ثقافتی کردار

تیل کی اس سب سے بڑی کمپنی نے دیگر شعبوں کے علاوہ ثقافت کی ترویج ،ترقی اور تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے قائم کردہ اداروں میں شاہ عبدالعزیز مرکز برائے ثقافت اور آرٹ بھی شامل ہے۔اس کا حال ہی میں افتتاح کیا گیا تھا۔

سعودی آرامکو نے ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ ،ادویہ سازی اور شہری ڈھانچے کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس طرح ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔

آرامکو کا کردار یہیں پہ ختم نہیں ہوجاتا ہے۔کمپنی گذشتہ کئی عشروں سے ثقافت کے موضوع پر قافلہ کے نام سے ایک جریدہ شائع کررہی ہے۔ قافلہ دوسرے جرائد ورسائل کے برعکس ایک مختلف انداز میں شائع ہوتا ہے۔اس میں مختلف موضوعات پر تحریریں شائع کی جاتی ہیں لیکن وہ زیادہ تر آرامکو کے ملازمین یا ان کے جاننے والوں کی ہوتی ہیں۔

ہم آرامکو سے یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ قافلہ کو ملک بھر سے شائع کرے کیونکہ یہ آپ پر ہمارا ایک قرض اور حق ہے۔قافلہ کی اس وقت عام اشاعت اس لیے بھی ناگزیر ہے کہ اس کے ذریعے بہترین مواد کی تشہیر کی جائے تاکہ مسخ شدہ مواد کے ذریعے کمپنی اور مملکت کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور ابہامات کا ازالہ کیا جاسکے۔

-------------------------------------------
(ترکی الدخیل العربیہ نیوز چینل کے جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے