مشرقِ وسطیٰ کے خطے کی قریباً ایک صدی کی تاریخ اتحادوں اور کیمپوں کے ادل بدل کی عکاس ہے۔اب عرب چار ملکی نیٹو کے نظریے کی جو بات کی جارہی ہے تو یہ دراصل ایران کے سہ فریقی اتحاد کا ایک اور معمول کا ردعمل ہے۔

یہ کہا جارہا ہے کہ عرب فوجی اتحاد معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ( نیٹو) کے مشابہ ہے۔یہ تنظیم سابق سوویت روس کے توسیع پسندانہ عزائم کو روک لگانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔یہ ایک مغربی فوجی اتحاد تھا جس نے سوویت یونین کا سرد جنگ کے زمانے میں مقابلہ کیا تھا۔

سعودی عرب ،متحدہ عرب امارات ،مصر اور اردن نے ایران کے توسیع پسندانہ عزائم سے نمٹنے کے لیے کیونکر ایک مشترکہ فوجی اتحاد قائم کررہے ہیں؟ کیونکہ ایران قبل ازیں عراق اور شام میں موجود تھا اور پھر اس نے اپنا اثر ورسوخ لبنان اور یمن تک بھی بڑھا لیا ہے۔

یہ چار عرب ممالک ایک طویل عرصے سے اتحادی چلے آ رہے ہیں۔ان سب نے یمن جنگ میں اپنی اپنی بساط کے مطابق حصہ لیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی فوج سعودی دستوں کے شانہ بشانہ یمن میں برسرزمین (حوثی باغیوں کے خلاف) لڑرہی ہے جبکہ اردن کے باقی تینوں ممالک کے ساتھ ابتدا ہی سے مضبوط فوجی تعلقات استوار ہیں۔تاہم اس تعاون کے باوجود ہم ان قریبی تعلقات کو ان کے تصور، عزائم اورمواعید کی نوعیت کے پیش نظر نیٹو کے مشابہ قرار نہیں دے سکتے ہیں۔

سیاسی خلا

ہمارے خطے میں علاقائی فوجی قوت کے اعتبار سے ایک بہت بڑا سیاسی خلا موجود ہے۔بالخصوص گذشتہ آٹھ سال کے دوران میں یہی صورت حال رہی ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ امریکا کی خطے میں عدم دلچسپی اور ایران کے ساتھ جوہری معاہدے نے اس عدم توازن کو مزید ابتر کردیا ہے۔ یہ معاہدہ مصالحت اور دو ممالک کے درمیان محاذ آرائی کے خاتمے کا غماز ہے۔

اس خلا کے نتیجے میں ایران نے عراق کے اندر اپنے اثرورسوخ کو بڑھا لیا ہے،وہ شام میں جاری جنگ میں عسکری اعتبار سے بھرپور طریقے سے شریک ہے اور اس نے پہلی مرتبہ ملیشیاؤں پر مشتمل ایک بڑی فوج تشکیل دی اور ان کو تربیت دے کر شام بھیجا ہے۔ ایران نے یمن میں حکومت کے خلاف بغاوت کی مدد وحمایت کرکے جنگ کے شعلے بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔

مجوزہ عرب نیٹو کے اسرائیل کے ساتھ تعاون کے حوالے سے جو کچھ کہا جارہا ہے ،وہ محض ایک ادراک ہی ہے اور اس نے ابھی تک کوئی عملی شکل اختیار نہیں کی ہے۔ اگر ہم یہ فرض بھی کر لیں کہ یہ درست ہے اور اس کو خفیہ رکھاجاتا ہے تو یہ بہت محدود پیمانے پر ہوگا اور اس کا درست اندازہ کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

اسرائیل بالعموم خطے کے تنازعات میں اپنا حصہ ڈالتا رہتا ہے اور ان میں موجود رہتا ہے۔خواہ اس کی یہ موجودگی محدود اور خاموشی کی شکل ہی میں ہو۔وہ شام کی جنگ میں بھی موجود ہے۔کبھی وہ حزب اللہ کے اہداف کو نشانہ بناتا ہے،کبھی وہ داعش پر حملہ کرتا ہے۔ بعض اوقات وہ مختلف فریقوں کو معلومات فراہم کرتا ہے جو ان کے لیے سود مند ثابت ہوتی ہیں۔

ایک اسرائیلی ماہر کا کہنا ہے کہ وہ شام میں جنگ میں شریک حزب اللہ کے ہزاروں جنگجوؤں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ جب ماضی میں اسرائیلی فوج لبنان میں ان سے لڑا کرتی تھی تو وہ خود کو زیر زمین ٹھکانوں میں چھپا لیا کرتے تھے اور گوریلا جنگ کے حربے اختیار کرتے تھے لیکن آج وہ شام میں اسرائیلی کردار ادا کررہے ہیں۔

ایک ناگزیر توازن

اگر ایک عرب نیٹو یا چار ملکی تعاون کا نظریہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو اس کو منظرعام پر لایا جائے گا اور یہ کوئی خفیہ منصوبہ نہیں ہوگا جیسا کہ حالیہ رپورٹس میں ایسا باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایک چھتری تلے فوجی تعاون ایک اچھی تجویز ہے۔اگر اس سے ماورا بھی تعاون کیا جاتا ہے تو یہ ایک ناگزیر قدم ہوگا کیونکہ ایران کے مقابلے کے لیے ایک اتحاد کا قیام اس کے شام اور عراق سے فوجی اتحاد کا جواب دینے اور اس سے توازن قائم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

ایران روس کے ساتھ تعاون کررہا ہے اور موخرالذکر کا ایران میں ایک فوجی اڈا بھی ہے۔روس اپنے اتحادی ایران کے ساتھ مل کر شام میں جاری جنگ میں بھرپور طریقے سے شریک ہے۔ایران نے پاکستان ،عراق ،لبنان اور دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والی مسلح ملیشیاؤں کو شام کی جنگ میں جھونک رکھا ہے اور وہ وہاں اس فوجی اتحاد کے جھنڈے تلے ہی لڑرہی ہیں اور یوں اس نے اس فوجی اتحاد کو مزید مضبوط کردیا ہے۔

ایرانی فورسز ''ماہرین'' کے بہروپ میں عراق میں لڑرہی ہیں اور ایک طرح سے وہی اس تنازعے کو کنٹرول کررہی ہیں۔اس تناظر میں ایک عرب نیٹو ،اگر یہ قائم ہوجاتا ہے تو یہ ایران کے معاہدہ وارسا کا ایک فطری رد عمل ہے۔

--------------------------------------
(عبدالرحمان الراشد العربیہ نیوز چینل کے سابق جنرل مینجر ہیں)

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے