اپنی صدارت کے 50 دن پورے کرنے سے قبل ہی ڈونلڈ ٹرمپ کو اندازہ ہونے لگا ہے کہ ذاتی کاروباری ٹرمپ کارپوریشن کی صدارت اور امریکہ کی صدارت میں کیا اور کتنا فرق ہے؟ اپنے اردگرد نظریاتی اور ایجنڈا کی ہم آہنگی رکھنے والے وزیروں اور مشیروں کی ٹیم اکٹھا کرلینے اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں واضح ری پبلکن اکثریت ہونے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے فیصلوں، احکامات اور اقدامات میں تبدیلیاں کرنا پڑ رہی ہیں۔ دستخطوں اور آرڈرز کے اجراء میں تاخیر اور مصالحت سے کام لینا پڑ رہا ہے اس کی ایک عمدہ مثال 7مسلم ممالک سے امریکہ آنے والے شہریوں پر پابندی کا ایگزیکٹو آرڈر 27؍جنوری کو جاری کیا گیا جو بڑا مبہم بھی تھا اور سخت بھی۔ لیکن متعدد عدالتوں میں یہ آرڈر نہ صرف چیلنج کیا گیا بلکہ ایک اپیل کورٹ اور دیگر کئی وفاقی عدالتوں نے اس پر عملدرآمد کو روک رکھا ہے۔

اب صورت حال کے چیلنج کے پیش نظر صدرٹرمپ نے اسی موضوع پر 5؍مارچ کو خاموشی کے ساتھ ایک نئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کئے ہیں۔ دونوں آرڈرز کا موازنہ کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ڈونلڈ نہ صرف کسی قدر دبائو میں ہیں بلکہ وہ خاصے ’’فرسٹریٹڈ‘‘ اور جھنجھلائے ہوئے بھی ہیں۔ اسی لئے انہوں نے فلوریڈا میں اپنے گولف کلب پر ’’ویک اینڈ‘‘ گزارنے کے دوران اپنے قریبی مشیروں سے مشورے بھی کئے ہیں لیکن ان کی جھنجھلاہٹ میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ یوں نظر آ رہا ہے کہ روس کی صدارتی انتخابات میں مداخلت، ہیکنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے معاونین کے روسیوں سے روابط کا اسکینڈل دن بدن مزید گہرا بھی ہورہا ہے اور وسعت بھی اختیار کر رہا ہے۔ جنرل (ر) مائیک فلن سمیت ٹرمپ کے تمام کلیدی معاونین نے واضح طور پر امریکی کانگریس کے سامنے غلط بیانی اور ابہام سے کام لیتے ہوئے اس بات سے انکار کیا تھا کہ انہوں نے روسیوں کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا لیکن میڈیا کی تحقیقات اور ذرائع نے ثبوت فراہم کردئیے کہ جنرل (ر) مائیک فلن (نیشنل سیکورٹی ایڈوائز) جیف سیشن (اٹارنی جنرل) کارٹر پیج (مشیر) جیرڈ کشنز (داماد اور خصوصی معاون) سمیت ٹرمپ کے حامیوں نے واشنگٹن میں روسی سفیر سے ملاقاتیں کی ہیں اور روسی سفیر نیویارک کے ٹرمپ ٹاور بھی ملاقاتوں کے لئے گئے تھے۔ اب یہ اسکینڈل ایک بحران کی شکل اختیار کررہا ہے۔ خود ٹرمپ اپنی انتخابی جیت کے بعد بھی اس بات کی تردید کرتے رہے ہیں کہ روس سے ٹرمپ انتخابی مہم کے حامیوں کا کوئی رابطہ تھا جبکہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ خود بعض ایسے ریمارکس دے چکے ہیں جن میں روس سے ڈیموکریٹک پارٹی اور ہیلری کلنٹن کے ای میلز اور ویب سائٹس سے ڈیٹا ’’ہیک‘‘ کرکے ریلیز کرنے کو کہا گیا تھا۔

جنرل (ر) مائیک فلن کے استعفٰی کے بعد اب اٹارنی جنرل جیف سیشن کے استعفٰی کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے بھی اس بات کی تحقیق اور تصدیق کرچکے ہیں کہ روس نے ڈیموکریٹک پارٹی کا ڈیٹا ’’ہیک‘‘ کیا ہے اور پھر اسے انتخابی مہم کے دوران ہی ریلیز کرکے ڈیموکریٹک پارٹی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ کے مخالف اور ڈیمو کریٹک پارٹی اس کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملہ سے امریکیوں اور دنیا کی توجہ ہٹانا چاہتے ہیں۔

ابھی اٹارنی جنرل جیف سیشن کے ایک ڈپٹی اٹارنی جنرل کی تقرری کی منظوری کے لئے کانگریس میں سماعت ہونا ہے۔ جیف سیشن تو صورت حال کے باعث یہ اعلان کرکے صدر ٹرمپ کو پریشانی میں مبتلا کرچکے ہیں کہ وہ روس کے بارے میں ہونے والی تحقیقات سے خود کو لاتعلق رکھیں گے۔ اب جب ان کے ایک ڈپٹی کی تقرری کی منظوری کے لئے سماعت ہوگی تو روس کا رول زیر بحث ضرور آئے گا اس حوالے سے سوال و جواب ہوں گے کیونکہ اگر بات بڑھی اور جیف سیشن کو مستعفٰی ہونا پڑا تو اس ڈپٹی اٹارنی جنرل کا رول اہم ہوگا۔ اگر اس اسکینڈل میں ملوث افراد کے بے نقاب ہونے کا سلسلہ جاری رہا تو 1972ء کے واٹر گیٹ اسکینڈل کی طرح 2017ء کا سیاسی اسکینڈل ثابت ہوسکتا ہے ری پبلکن صدر نکسن کی طرح ری پبلکن صدرٹرمپ بھی اسکینڈل کی زد میں آسکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ صرف اسی صورت حال پر اکتفا نہیں کررہے بلکہ اپنے ٹوئٹرز اور پھر ان کے ترجمان اپنے بیانات سے صورت حال کو مزید کشیدگی بخش رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے تین روز قبل علی الصبح تین ٹوئٹرز جاری کرکے ایک نئی سنسنی خیز خبر کو جنم دیا کہ سابق صدر اوباما نے ٹرمپ ٹاور نیویارک میں ٹرمپ کے فونز اور رابطوں کو ٹیپ کروایا۔ میری رائے میں صدر ٹرمپ کی یہ ایک کوشش تھی کہ ’’روسی ہیکنگ‘‘ اور ٹرمپ انتخابی مہم سے روسی روابط کے مسئلہ سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ لیکن صدر اوباما کے دور میں انٹیلی جنس اداروں کے ڈائریکٹر جم کلپر کا کہنا ہے کہ اول تو ایسی نگرانی اور ٹیپ کرنے کا نہ تو کوئی حکم جاری ہوا نہ ہی اس کے لئے متعلقہ عدالت سے کوئی اجازت حاصل کی گئی اور نہ ہی ایف بی آئی یا ان کے ماتحت کسی انٹیلی جنس ادارے نے ڈونلڈ ٹرمپ کے فون ٹیپ کئے۔

قواعد کے مطابق اگر کسی امریکی شہری کے فون ٹیپ کرنے اور نگرانی کرنا مقصود ہوتو اس کے لئے حکومت کو ایک خصوصی عدالت کے جج کے سامنے حقائق اور دلائل کے ساتھ پیش ہوکر اجازت حاصل کرنا ہوتی ہے۔ ایف بی آئی کے سربراہ جیمس کومی ڈیموکریٹک پارٹی اور ہیلری کلنٹن کے لئے ناپسندیدہ ہیں لیکن ایف بی آئی کے اس سربراہ نے بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر اوباما کے خلاف اس الزام کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔ گویا صدر ٹرمپ کا یہ الزامی ٹوئٹر الٹا ٹرمپ کی ساکھ کو متاثر کرگیا۔ متعدد ڈیموکریٹ سینیٹرز اور ری پبلکن سینیٹرز اب اس معاملہ کی تحقیق کا مطالبہ کرتے ہوئے اس مسئلہ کی بھی تحقیقات اور سینیٹ کی کمیٹی میں سماعت چاہتے ہیں۔ ٹرمپ سے اختلاف کرنے والے ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی یہ مطالبہ کیا ہے اور صدر ٹرمپ کے ساتھ لنچ پر ملاقات کے بعد بھی وہ اپنے اس موقف پر قائم ہیں۔

مختصر یہ کہ صدر ٹرمپ کے سیاسی مخالفین اور امریکی میڈیا نے تو ٹرمپ کے لئے مشکلات پیدا کی ہیں لیکن خود صدر ٹرمپ کا ٹوئٹر پر رد عمل بھی ان کے لئے مشکلات کا باعث بنا ہوا ہے جو رکنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ مگر قابل توجہ بات یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے معاونین اس صورت حال سے بے نیاز تیزی سے اپنے ایجنڈے پر عمل کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستانی نژاد امریکی فوج کے کیپٹن مرحوم ہمایوں خان کے والد خضر خان گزشتہ 30 سال سے امریکی شہری ہیں اور انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی موثر نمائندگی کرکے مسلم کمیونٹی پر ایک احسان کیا لیکن 5؍مارچ کو خضر خان نے اپنا دورہ کینیڈا منسوخ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کے ٹریول پلان کا جائزہ لیا جا رہا ہے سنا آپ نے؟ کسی امریکی شہری کے بیرون ملک سفر پر پابندی کا جواز بتائے بغیر پابندی؟ بعض مساجد کو بند کرانے کے اعلانیہ ریمارکس؟ اوکلا ہوما کی ریاستی اسمبلی کے رکن کا مسلمانوں سے ملنے کے لئے یہ شرط کہ وہ پہلے ایک مسلم مخالف گروپ کے سوالنامے کے جواب دیں۔ صدر ٹرمپ کے حامی مسلمان محض زبانی یقین دلانے کی بجائے مسلم کمیونٹی کو اس مشکل صورت حال سے نجات دلا کر مساویانہ شہری حقوق دلوائیں۔ بشکریہ روزنامہ "جنگ"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے