جرنیل ریٹائرمنٹ پر وردی اُتارا کرتے ہیں لیکن بوٹ پہنے رکھتے ہیں کہ مادر وطن کی پکار پر فوراً اپنے محاذ پر پہنچ سکیں لیکن جنرل محمود درانی عجیب جرنیل ہیں جو ہمیں برہنہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ پاکستان پر تازہ وار انہوں نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر کیا ہے لیکن یہ کوئی تازہ وار نہیں، پرانی یاوہ گوئی ہے جس پر انہیں پیپلز پارٹی کے وزیر اعظم جناب یوسف رضا گیلانی نے قومی سلامتی کے مشیر کے باوقار عہدے سے برطرف کیا تھا، انہوں نے اجمل قصاب کی شناخت اور رہائش کے بارے میں امریکی اخبارات اور بھارتی ٹی وی چینلز کو انٹرویوز دئیے، جو انکے منصب کے تقاضوں کے منافی تھے۔ یہ باڑ کے کھیت کو کھانے والا معاملہ تھا کہ قومی سلامتی کا مشیر پاک فوج کا ریٹائرڈ جرنیل مادر وطن کی سلامتی کو کسی نامعلوم ایجنڈے کے تحت دائو پر لگائے جا رہا تھا۔

افسوس صد افسوس کہ فوجی قیادت نے جنرل درانی کی اس حرکت کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور معاملہ برطرفی کے ساتھ رفت گذشت ہو گیا لیکن جنرل درانی اپنی حرکات سے باز نہیں آئے اور اب دوبارہ وہ امریکی اور بھارتی الزامات کو سچ ثابت کرنے کیلئے نئی دہلی میں دوبارہ بولے ہیں وہ سب کچھ اگر اس کالم نگار نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا نہ ہوتا تو قطعاً اس پر یقین نہ کرتا۔ پاکستان کے سابق مشیر برائے قومی سلامتی میجر جنرل (ر) محمود علی درانی کا نئی دہلی میں بھارتی وزارت دفاع کے تھنک ٹینک ’’انسٹی ٹیوٹ فار ڈیفنس سٹڈیز اینڈ انالیسیز‘‘ (IDSA) کے زیر اہتمام ’’ایشین سکیورٹی کانفرنس‘‘ سے خطاب کے بعد وہاں موجود رپورٹروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دہشت گرد گروپ نے 26 نومبر 2008ء کو ممبئی میں دہشت گرد حملے کئے تھے۔ سرحد پار سے دہشت گردی کا یہ ایک کلاسیکل واقعہ تھا۔ یہ اعتراف کرنا مجھے پسند نہیں ہے، لیکن یہ سچ ہے۔

برصغیر کے دفاعی اُمور کے ماہرین کیلئے یہ کھلا راز ہے کہ (IDSA) بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ذیلی ادارہ ہے۔ جنرل محمود علی درانی نے انکشاف کیا کہ میں نے ممبئی حملوں کے بعد پی ٹی وی پر بھی یہی بیان دیا جس پر اس وقت کی حکومت نے مجھے بر طرف کر دیا تھا۔ کیا یہ آپ کیلئے کافی نہیں؟ لیکن میں مصدقہ معلومات کی بنیاد پر ایک اور وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ممبئی حملوں میں حکومت پاکستان یا آئی ایس آئی ملوث نہیں ہے۔ ایک سو دس فیصد یقین کیساتھ کہہ رہا ہوں۔

خاتون صحافی کے حافظ سعید کی پاکستان کیلئے افادیت (Utility) کے سوال پر جنرل محمود علی درانی نے کہاکہ حافظ سعید کی کوئی افادیت (Utility) نہیںہے۔ مجھے یقین ہے کہ حکومت پاکستان اسے سزا دے گی۔ یہ بات واضح ہے کہ جنرل درانی کا ہدف حافظ سعید نہیں، پاکستان ہے ۔

بزرگ دانشور ،صاحب اسلوب مصنف اور شاعر جناب ظفرنیازی لکھتے ہیں کہ آپکے استفسار پر پہلا سوال یہ تھا کہ جنرل درانی نے یہ بیان کب دیا ہے کیونکہ جنرل صاحب 2009 میں اسی اجمل قصاب کے موضوع پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے حکم پر قومی سلامتی کے مشیر کے منصب سے برطرف ہو چکے تھے۔ اگر یہ بیان پرانا ہوتا تو یہ چلا ہوا کارتوس تھا۔ کیونکہ ان دنوں اجمل قصاب کے حوالے سے ایسے ہی خیالات کا اظہار جنرل صاحب سے بھی بہت زیادہ اہم سیاسی شخصیت نے کم وبیش اسی طرح کیا تھا جبکہ پاکستان کا سب سے بڑامیڈیا گروپ ہونے دعوے دار سیٹیلائٹ ٹی وی چینل نے فرید کوٹ جا کر تفصیلی رپورٹ تیار کر کے اجمل قصاب کے گائوں کے لوگوں کی مکمل شہادتیں بھی ڈال دی تھیں کہ تمام حملہ آور پاکستانی تھے اور باقی دس بارہ مرنے والوں کے نام اور شہر بتا کر بھارت کے ہاتھ مضبوط کیے تھے ۔

اسی چینل کے ایک اینکر نے اپنے پروگرام میں ’بھارتی را‘ کی صفائی دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ ’را‘ تو دوسرے ممالک میں کارروائیاں نہیں کرتی لیکن پٹھان کوٹ پر حملہ آور پاکستان سے گئے تھے سو اس لحاظ سے تو یہ جنرل درانی کا انکشاف تاریخ کو دہرانے کے برابر تھا۔ لیکن موجودہ ٹائمنگ بہت اہم ہے اور اسکی بدولت اس گڑھے مردے میں دوبارہ جان ڈالی جارہی ہے تاکہ بھارت پر کل بھوشن کی وجہ سے آنے والا دبائو کم کیا جا سکے ۔

جنرل درانی پاک بھارت تعلقات کی بحالی کیلئے بہت سرگرم عمل رہے ہیں جس پر بھارتی ذرائع ابلاغ نے انہیں ’’جنرل شانتی‘‘ کا خطاب دیا تھا ۔ تازہ انٹرویو میں درانی صاحب نے ریاست اور ریاستی اداروں کو تو کلین چٹ دی ہے اور سارا ملبہ حافظ سعید پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ حافظ سعید کی ریاست کیلئے کوئی افادیت نہیں ہے ۔ حافظ سعید جس طرح آج کل زیر عتاب ہیں اس سے تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ جنرل درانی (ن ) لیگی حکومت کی بولی بول رہے ہیں۔ رموز مملکت را خسرواں دانند

کیا پتہ درانی صاحب آجکل پھر کسی بیک چینل کھیل کے کھلاڑی ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس بیان سے ایک عام پاکستانی کو دکھ ہوا ہے اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ کل بھوشن کے جرائم کو دھیما یا دھندلانے کیلئے بھارتی لابی نے ایسا تیر چلایا ہے جس سے عوام اور مسلح افواج کی روح وقلب زخمی ہو گئے ہیں ۔

جنرل درانی پر بھارتی اور امریکی مفادات کیلئے کام کرنے کے الزامات قبل ازیں بھی لگتے رہے ہیں جن پر بدقسمتی سے اس وقت کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی کہ مادر پدر آزاد، موم بتی مافیا ان کی مکمل پشت پناہی کرتا رہا ہے البتہ 2009میں سرکاری حکام کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے برطرف ہونیوالے مشیر جنرل محمود علی درانی نے غیر ملکی جریدے اور بھارتی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں اجمل قصاب کی شناخت کے بارے میں بعض ایسی باتیں کہی ہیں جو ملک کی قومی سلامتی اورخود انکے منصب کے منافی تھیں اور انہوں نے انٹرویو سے قبل وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی یا کسی اور اعلیٰ پاکستانی عہدے دار سے کوئی مشاورت نہیں کی تھی جس کی بنا پر فوری طور پر انہیں برطرف کیا گیا ۔

جنرل محمود علی درانی قومی سلامتی کا مشیر بننے سے قبل امریکا میں پاکستان کے سفیر رہے ان پر تواتر سے یہ الزامات عائد کیے جاتے رہے کہ وہ پاکستان کی بجائے امریکی مفادات کومقدم رکھتے تھے اور انہوں نے مبینہ طور پر وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی اور صدر آصف علی زرداری کی نجی گفتگوئوں سے بھارتی حکام کو آگاہ کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل مشرف کے دورِعروج پر چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل عزیز خان کے دفتر میں جنرل حامد نواز نے محمود علی درانی کو انکی موجودگی میں سی آئی اے کا ایجنٹ قرار دیا تھا۔ درانی صاحب اس الزام پر صرف مسکرا دیئے اور کچھ عرصے کے بعد پرویز مشرف نے انہیں امریکا میں پاکستان کا سفیر بنا دیا۔

وہ 1982 سے 1986 تک جنرل ضیا کے ملٹری سیکرٹری رہے۔ مرحوم صدر کے بیٹے اور رکن قومی اسمبلی اعجاز الحق C-130 حادثے کا الزام جنرل محمود علی درانی پر بھی لگاتے رہے۔ یہ محمود علی درانی ہی تھے جنہوں نے اصرار کرکے جنرل ضیا کو ٹینکوں کی مشقیں دیکھنے کیلئے بہاولپور آنے پر آمادہ کیا تھا۔ انہوں نے ہی جنرل ضیاء الحق کے سی ون تھرٹی طیارے میں آموں کی پیٹیاں اور ٹینک کا ماڈل رکھوایا تھا جسکے نتیجے میں مبینہ طورپر 17 اگست 1988 کو بہاولپور سے پرواز سے تھوڑی دیر بعد جنرل ضیاء کے طیارے کو حادثہ پیش آیا تھا جس میں وہ خود اور ملک کی اعلیٰ فوجی قیادت جاں بحق ہوگئی تھی. اس حادثے میں پاکستان میں تعینات امریکی سفیر آرنلڈ رافیل بھی مارے گئے تھے لیکن اس ہولناک حادثے کی تحقیقاتی رپورٹ آ ج تک منظر عام پر نہیں آئی اور نہ اسکے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکا ہے۔

ہم چیف آف دی آرمی سٹاف ،جنرل قمرجاوید باجوہ سے براہ راست مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے شواہد سامنے آنے پر سابق جنرل فوجی رولز کے مطابق کیخلاف راست اقدام کیا جائے۔ بشکریہ روزنامہ "نوائے وقت"
 

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے